محکمہ فنانس نے صوبے میں بلدیاتی نظام کی غیر واضح صورتحال کے پیش نظر بجٹ سازی اور منظوری ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کردی۔ ایکشن کونسل لوکل کونسلز ایسویشن خیبرپختونخواہ نے احتجاج کی کال دیدی
محکمہ فنانس نے صوبے میں بلدیاتی نظام کی غیر واضح صورتحال کے پیش نظر بجٹ سازی اور منظوری ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کردی۔ ایکشن کونسل لوکل کونسلز ایسویشن خیبرپختونخواہ نے احتجاج کی کال دیدی
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بااختیار عوامی نمائندوں کو جون 2022 میی ترامیم کے زریعے اپاہج کرکے صرف تماشائی بنا کر نہایت بھونڈا مذاق کیا ہے۔ اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ حالیہ محکمہ فنانس کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن نے جلتی پر تیل کا کام کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی فنانس کمیٹی کی منظوری کے بعد محکمہ فنانس نے صوبے میں بلدیاتی نظام کی غیر واضح صورتحال کے پیش نظر مالیاتی سال 2024.2025 کے لیے بجٹ سازی کی اجازت اور عمل درآمد سے متعلق ہدایات ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کرنے کے لیے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ صوبائی حکومت کی اس اقدام سے منتخب نمائندگان جو کہ پہلے ہی سے اختیارات و فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے بہترین سروسز فراہمی میں کامیاب نا ہوسکے اب تک، خیبرپختونخواہ میں اب تک بلدیاتی نظام مفلوج ہے اور اب مذید بلدیاتی نمائندے بے دست و پا ہو گئے ہیں۔ مراسلے میں تنخواہوں، نان سیلری اکاؤنٹ میں ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر بجٹ مختص کر کے آن لائن انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ کے ذریعے فنڈز کی منظوری دیں گے۔مقامی کونسل کو گرانٹ میں سے VCs/NCs کی آپریشنل ضروریات کے لیے گرانٹ ان کے متعلقہ نامزد بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے سمیت متعلقہ مالیاتی قواعد و ضوابط اور ضلعی سطح پر سخت اقتصادی اقدامات کا مشاہدہ بھی ڈپٹی کمشنرز کرے گا جبکہ صوبہ کے تمام بلدیاتی نمائندگان کاغذی شیر بن کر صرف تماشا ئی بن کر مقامی حکومت کا حصہ بنے رہیں گے۔
اس سلسلے میں حالیہ جاری ہونے والے مختلف نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے بلدیاتی ممبران ایکشن کونسل لوکل کونسلز ایسویشن خیبرپختونخواہ چئیرمن انتظار علی خلیل،چئیرمین تحصیل پبی غیور خٹک انتظار علی خلیل،چئیرمین خداداد تحصیل متھرا،چئیرمین ضیاء الرحمن تحصیل چمکنی،ملک نسیم تحصیل پشتخرہ،ارباب وصال میٹروپولیٹن پشاور،ایڈوکیٹ الطاف خلیل پشاور سٹی،عمران احمد نیبرہوڈ کونسل 87شاہین ٹاون نے اسے مقامی حکومتوں کیخلاف ظالمانہ سازش قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے درخواست کی کہ انشائاللہ آگست میں جب صوبہ خیبرپختونخواہ کے تمام اضلاع سے بلدیاتی ممبران پشاور میی پرامن احتجاجی دھرنا شروع کرینگے تو پھر صوبائی حکومت کے لیے بہت مشکلات بنی گی لہذا صوبائی حکومت تمام ایسے اقدامات واپس لے جس سے مقامی حکومتوں کو کمزور کرنے کی کوشیش کی گئی ہیں۔ممبران ایکشن کونسل لوکل کونسلز ایسویشن خیبرپختونخواہ ، چئیرمن تحصیل پبی نوشہرہ غیور خٹک و انتظار علی خلیل نے کہا کہ جلد وزیر بلدیات سے مئیر مردان حمایت اللہ معیار کی سربراہی میں ایسویشن عہدیدار ملاقات کرکے معمالات پر بات کرینگے اگر پھر بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو اگست میں دما دمست قلندر ہوگا۔