ایوبؑ کا صبر اور ہماری بے صبری – تحریر: نجیم شاہ
ایوبؑ کا صبر اور ہماری بے صبری – تحریر: نجیم شاہ
ہم وہ لوگ ہیں جنہیں آزمائش کا مطلب صرف دُوسروں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ خود پر ذرا سا وقت سخت آئے تو چیخنے لگتے ہیں، آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، اور قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں ایوب علیہ السلام کا صبر تو یاد ہے، مگر اُس سے سبق لینے کا وقت نہیں۔ ہم قصے سننے کے شوقین ہیں، مگر سبق لینے سے بھاگتے ہیں۔ ایوبؑ کی کہانی ہمارے لیے ایک مذہبی حوالہ بن چکی ہے، نہ کہ ایک انسانی تجربہ۔ ہم نے صبر کو مسجد کے خطبے تک محدود کر دیا ہے، زندگی میں اس کا داخلہ بند کر دیا ہے۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ صبر محض خاموشی نہیں، بلکہ وہ قوت ہے جو انسان کو اندر سے جوڑ کر رکھتی ہے۔ ہم صبر کی بات کرتے ہیں، مگر بے صبری کو عمل بنا چکے ہیں۔
ایوب علیہ السلام وہ شخص تھے جنہوں نے سب کچھ کھو دیا — مال، اولاد، صحت، حتیٰ کہ وہ آسائشیں بھی جن پر انسان بھروسہ کرتا ہے۔ مگر اُن کے اندر جو باقی رہا، وہ یقین اور صبر تھا۔ وہ شکوہ نہیں کرتے تھے، دُعا کرتے تھے۔ وہ احتجاج نہیں کرتے تھے، اُمید رکھتے تھے۔ اور ہم؟ ہم تو معمولی تاخیر پر جھنجھلا جاتے ہیں، معمولی رکاوٹ پر غصے میں آ جاتے ہیں۔ ہم نے صبر کو کمزوری، برداشت کو شکست، اور انتظار کو ناکامی سمجھ لیا ہے۔ اِسی لیے ہم پرسکون نہیں رہ پاتے، کیونکہ ہمیں جینے کی نہیں، جلدی کی عادت ہے۔ ہم دُنیا کے شور میں صبر کی خاموشی کو کھو بیٹھے ہیں۔
آزمائش — جسے ہم بدقسمتی سمجھتے ہیں — دراصل وہ آئینہ ہے جو انسان کو اُس کی اصل پہچان دِکھاتا ہے۔ ایوبؑ کی آزمائش برسوں پر محیط تھی۔ جسم گل گیا، دوست ساتھ چھوڑ گئے، بیوی مزدوری پر مجبور ہوئی، مگر اُن کا دل نہ ٹوٹا۔ وہ ہر درد کو دُعا میں بدلتے رہے۔ اُن کی زبان پر شکایت نہیں، شکر رہا۔ اور ہم؟ ہم چند دِن کی بے سکونی پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہم آزمائش کو سزا سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ تربیت ہے۔ صبر ہمارے اندر کی قوت کو جگاتا ہے، مگر ہم نے اسے بزرگوں کی نصیحت بنا کر بھلا دیا ہے۔ صبر ہر عمر کے لیے ہے، ہر طبقے کے لیے ہے، اور ہر انسان کے لیے ضروری ہے — مگر ہم نے اسے بس نصابی جملہ بنا دیا ہے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو ہر چیز فوری چاہتے ہیں۔ ہمیں فوری انصاف، فوری کامیابی اور فوری عزت چاہیے۔ اور جب یہ سب فوری نہیں ملتا، تو ہم شور مچانے لگتے ہیں۔ ہم الزام دیتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں، اور قسمت کو کوستے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے — جس میں ہر موڑ پر آزمائش ہے، ہر لمحۂ ایک امتحان ہے۔ ان امتحانات کا اصل جواب شور نہیں، صبر ہے۔ لیکن ہم نے صبر کو ترک کر کے جلد بازی کو شعار بنا لیا ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جو ہر کام ’’ابھی‘‘ چاہتی ہے — مگر ’’ابھی‘‘ کا تصور خود صبر کے خلاف ہے۔
ایوبؑ کی کہانی یہ نہیں کہ وہ بیمار ہوئے، بلکہ یہ کہ وہ ٹوٹ کر بھی قائم رہے۔ صبر اُن کے لیے خاموشی نہیں، عمل تھا۔ یہ وہ طاقت تھی جس نے اُنہیں اُمید سے جوڑے رکھا۔ صبر وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں راستہ دکھاتا ہے، اور یہی چراغ آج ہمارے ہاتھ سے چھن چکا ہے۔ ہم نے ترقی کے نام پر سکون گنوا دیا ہے۔ ہم نے سہولتیں حاصل کر لیں، مگر برداشت کھو دی۔ ہم نے علم بڑھا لیا، مگر حکمت نہیں سیکھی۔ ہم تیز رفتار ہیں، مگر بے سمت۔ ہم آگے بڑھ رہے ہیں، مگر اندر سے خالی ہیں۔ ہمیں صبر کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے، کیونکہ ہم رفتار میں اُلجھ کر قرار بھول چکے ہیں۔
ایوبؑ کی آزمائش ختم ہوئی، تو انعام شروع ہوا۔ وہی جسم جو گل چکا تھا، تندرست ہو گیا۔ وہی گھر جو ویران تھا، پھر سے آباد ہوا۔ وہی ہاتھ جو خالی تھے، دوبارہ نعمتوں سے بھر گئے۔ اللہ نے اُنہیں پہلے سے زیادہ نوازا — صحت، اولاد، دولت، سب کچھ لوٹا دیا۔ مگر یہ سب اُس وقت ملا جب ایوبؑ نے شکایت نہیں کی۔ اُنہوں نے آزمائش کو بددعا میں نہیں، دُعا میں بدلا۔ اُن کا صبر اُن کے انعام کی کنجی بنا۔ اور ہم؟ ہم تو انعام چاہتے ہیں، مگر آزمائش نہیں؛ کامیابی چاہتے ہیں، مگر قربانی نہیں؛ عزت چاہتے ہیں، مگر کردار نہیں۔ ہم نتائج کے بھوکے ہیں، مگر عمل سے خالی ہیں۔
ہم رشتوں میں صبر نہیں کرتے، کام میں صبر نہیں کرتے، خوابوں میں صبر نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں سب کچھ فوراً مل جائے — اور جب نہیں ملتا تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایوبؑ کی کہانی کو صرف مذہبی قصہ نہ سمجھیں، بلکہ ایک انسانی سبق کے طور پر دیکھیں۔ صبر صرف عبادت نہیں، بلکہ زندگی کی سب سے بڑی حکمت ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو انسان کو وقت کے مقابل کھڑا کرتا ہے۔ یہ وہ یقین ہے جو ہار میں بھی اُمید دلاتا ہے۔ صبر انسان کو مضبوط نہیں، مکمل بنا دیتا ہے۔
ایوبؑ کا صبر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل طاقت انسان کے اندر ہوتی ہے، باہر نہیں۔ وہ جو سب کچھ کھو کر بھی جی گیا، وہ جو درد میں بھی دُعا کرتا رہا، وہی اصل فاتح تھا۔ ہم چھوٹی چھوٹی ناکامیوں پر ٹوٹ جاتے ہیں، حالانکہ زندگی صبر سے ہی بنتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بے صبری کو ضبط میں بدلیں۔ صبر صرف خوبی نہیں، ضرورت ہے — ایک ایسی ضرورت جو ہمیں انسان بناتی ہے، مضبوط بناتی ہے، اور زندگی کو جینے کے قابل کرتی ہے۔ ایوبؑ کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صبر دُکھ سہنے کا نام نہیں، اُمید زندہ رکھنے کا عمل ہے۔ اور یہی عمل انسان کو عظمت دیتا ہے، اور عظمت ہی انسان کی اصل پہچان ہے۔