The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کیا پاکستان کا  ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا باعث فخر بات ہے؟ – غزالی فاروق

کیا پاکستان کا  ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا باعث فخر بات ہے؟ – غزالی فاروق

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعہ 17 جون کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورسFATFکے اعلان کو پاکستان کے لیے ایک “عظیم کامیابی” قرار دیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ یہ ایک “یادگار کوشش” تھی جس نے ملک کی “وائٹ لسٹنگ” کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں قائم ایک سیل نے سول ملٹری ٹیم کی قومی کوششوں کو آگے بڑھایا جس نے ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ہم آہنگی پیدا کی۔

 پاکستان کو جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل گیا تھا اور ایف اے ٹی ایف نے اس گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 34 نکات پر عمل درآمد کا ہدف دیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی فہرست کے کچھ نکات یہ ہیں؛ کالعدم تنظیموں اور کالعدم افراد کے خلاف تحقیقات اور سزاؤں میں بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنانا، کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی، کالعدم تنظیموں اور ممنوعہ افراد کی عدالت سے سزاؤں کو یقینی بنانے کا عملی مظاہرہ اور اسلامی مدارس کو سکولوں اور مراکز صحت میں تبدیل کرنا۔

یہ نکات واضح طور پر ایف اے ٹی ایف کے ہدف کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان نکات کا ہدف مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے لیے جسمانی اور مالی مدد کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی حکمرانی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بیداری کو کچلنا ہے۔ کالعدم تنظیموں اور افراد کی جو فہرستیں پاکستان کو فراہم کی گئیں اُن میں بنیادی طور پر وہ لوگ شامل تھے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے خلاف جہاد کے حوالے سے متحرک تھے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کو ان مخصوص تنظیموں اور افراد کے بارے میں اتنی فکر کیوں ہے؟

یہ واضح ہے کہ ایف اے ٹی ایف امریکہ کا ایک استعماری آلہ کار ادارہ ہے جو دوسری اقوام کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے بین الاقوامی اور علاقائی منصوبوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ ہمارے خطے میں امریکہ کا منصوبہ ہندوستان کو مضبوط کرنا ہے تا کہ وہ چین اور مسلمانوں دونوں کی طاقت اور اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسلامی نظام  کی بحالی میں رکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔

پاکستانی قوم کو اچھی طرح یاد ہے کہ حکومت اور اپوزیشن FATF کی ڈکٹیشن پر کس طرح قطار در قطار اُن قوانین کی منظوری کیلئے حاضر ہوتے تھے جس کے ذریعے پاکستان کے معاملات میں FATF کو براہ راست کنٹرول دیا گیا، پاکستان کے اداروں کو مختلف درجوں پر بین الاقوامی اداروں کے سامنے جوابدہ بنایا گیا،  جہاد کو دہشت گردی، کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کراس بارڈر ٹیررزم اور افغان  وکشمیر جہاد کی مالی مدد کا گلہ گھونٹا گیا۔ اس امریکی ایجنٹ قیادت نے Mutual Legal Assistance (Criminal Matters) Act 2020 منظور کیا   جس کے تحت  کسی پاکستانی کو دوسرے ملک کے حوالے بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کے اثاثہ جات کو منجمد بھی کیا جا سکتا ہے۔ان حکمرانوں نے  انسداد دہشت گردی ایکٹ میں بھی ترمیم کی جس کے تحت  استعماری ادارے،  اقوام متحدہ کے سیکیوریٹی کونسل کی ہدایات کی خلاف ورزی پر کسی شخص کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔  اسی طرح منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کر کے پاکستانی افراد کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔  اور پاکستانی اداروں کو FATF  کے ساتھ تعاون کرنے پر قانونی طور پر پابند کر دیا گیا۔  FATF امریکی غلامی کی دستاویز تھی جس میں حکومت، اپوزیشن دونوں نے فوجی قیادت کی چھتری تلےدستخط کئے۔  یاد رہے کہ FATF کو کرپشن روکنے سے کوئی غرض نہیں، بلکہ یورپ اور امریکہ تو خود کرپشن کا گڑھ ہے، FATF دراصل جہاد کو روکنے اور اس کی مالی معاونت روکنے کا ادارہ ہے۔ یہاں تک کہ سابق امریکی نائب سیکریٹری خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے ایک بیان میں کھل کر کہہ دیا کہ حافظ سعید کو سزا نہ دینا FATF لسٹ سے نہ نکلنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

لیکن ایف اے ٹی ایف کے ان ناپاک مقاصد  کے واضح ہونے کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں  کہ حکومت، اپوزیشن اور فوجی قیادت میں یہ  کریڈٹ لینے کی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ ایف اے ٹی ایف  کی ڈکٹیشن پر پاکستان کی خودمختاری سرنڈر  اور کشمیر کی سودا بازی کس کے ہاتھوں ہوئی ہے ، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی  گرے لسٹ سے نکالنے کا عمل شروع ہوا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے معاملے نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت عسکری اور سیاسی قیادت دونوں امریکہ کی غلام ہیں، کیونکہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی ذمہ داری کا “تمغہ” اپنے اپنے سینے پر لگایا ۔ یہ واضح ہے کہ جب بات امریکی احکامات کی تعمیل کی ہو  توسیاسی اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ ہم ان کے درمیان جو بھی جھگڑے دیکھتے ہیں وہ صرف اقتدار کی سیاست ہے، جہاں جیتنے والا امریکہ کا کلیدی خادم بن جاتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی کہانی نے واضح کر دیا ہے کہ قومی ریاستوں کے موجودہ ورلڈ آرڈر میں قومی خودمختاری محض ایک سراب ہے۔ ایٹمی میزائل اور بیلسٹک میزائلوں سے لیس دنیا کی ساتویں بڑی مسلح افواج ہونے کے باوجود پاکستان کی کوئی آزاد خارجہ یا اقتصادی پالیسی نہیں ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تعمیل دراصل پاکستان، مقبوضہ کشمیر اور اس خطے کے مسلمانوں کے ساتھ ،اسلام کے عالمی غلبہ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سے  ،غداری ہے۔

موجودہ سیاسی و فوجی قیادت ،جمہوری نظام اور موجودہ عالمی آرڈر کے تحت پاکستان کی خودمختاری کی بات کرنا ایک دھوکہ ہے۔ جو لوگ واقعی خودمختار بننا اور امریکہ کی غلامی ختم کرنا چاہتے ہیں، انہیں پاکستان کو ریاست خلافت میں تبدیل کرنا ہو گا۔  خلافت موجودہ ورلڈ آرڈر اور اس کے قومی ریاستوں کے تصور کو مسترد کر کے مسلم دنیا کو ایک خلافت کے پرچم تلے یکجا کرے گی۔  اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کو مسترد کردے گی، اور اسلام کے ورلڈ آرڈر کے قیام کے لیے کام کرے گی۔ تو وہ لوگ  جو پاکستان میں حقیقی خودمختاری  اور امریکی غلامی کے خاتمے کا خواب دیکھتے ہیں انہیں  پاکستان میں خلافت کے قیام کی  پکار اور جدوجہد کا حصہ بننا چاہیئے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:

اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا وَّاَنَّكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ‏

” تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟”(المؤمنوں، 23:115)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
63123

ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالے جانے کا قوی امکان

Posted on

ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالے جانے کا قوی امکان

بر لن(چترال ٹایمز رپورٹ)ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالے جانے کا قوی امکان ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا آئندہ اجلاس جرمن دارالحکومت برلن میں تیرہ جون سے سترہ جون تک جاری رہے گا۔ جرمن میڈیا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کا امکان ہے۔پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات اس لیے موجود ہیں کیونکہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تقریبا تمام اہداف پورے کر دیے ہیں۔حکومت پاکستان نے یورپی ممالک کے ساتھ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے سفارت کاری میں سنجیدگی دکھائی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے گزشتہ ماہ یورپ کے اہم ترین ممالک کا دورہ کیا اور یورپ کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کے اسٹیٹس کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بھی اعلیٰ سطح پر رابطے کیے ہیں۔

صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور اعلیٰ عدلیہ الاؤنس میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)صدر ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور اعلیٰ عدلیہ الاؤنس میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 205 کے تحت دی۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں 10 فیصد اضافہ کردیا گیا۔مشکل معاشی حالات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کیلئے خوشخبری سامنے آگئی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور اعلیٰ عدلیہ الاؤنس میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔صدر مملکت نے یہ منظوری وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 205 کے تحت دی۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق چیف جسٹس ہائی کورٹ تنخواہ اور دیگر مراعات ملاکر مجموعی طور پر 11 لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کرتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے دیگر ججز 10 لاکھ روپے سے زائد رقم لیتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
62162

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

لندن(سی ایم لنکس)فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔صدر ڈاکٹر مارکوس پلییئر نے بتایا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے دو ایکشن پلانز کے کل 34 نکات میں سے 30 پر عمل درآمد کر لیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے جون میں جاری کردہ پلان کا مرکز منی لانڈرنگ تھی، جس میں سے صدر مارکوس پلییئر کے مطابق پاکستان نے سات میں سے چار نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے یا بڑی حد تک عمل درآمد کر لیا ہے۔بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کے امکان پر ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے دو ایکشن پلان کے کل 34 میں سے 30 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستانی حکومت ک عزم واضح ہے، تو اس بارے میں کوئی بحث نہیں ہو رہی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے اور ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ باقی چار نکات پر بھی عمل درآمد کرے۔دوسری جانب ترکی، اردن اور مالی کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔سال 2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تو پاکستان کے مالی نظام اور قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 سفارشات کے مطابق پایا گیا جبکہ باقی 27 سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔فروری 2020 تک پاکستان صرف 14 سفارشات پر ہی عمل درآمد کر سکا لہٰذا ایف اے ٹی ایف نیاکتوبر 2020 تک کا مزید وقت دیا تاکہ باقی 13 سفارشات پر بھی عمل درآمد کروایا جا سکے۔اکتوبر 2020 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اور چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا۔

فروری2021 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو باقی تین نکات پر عمل کرنے کے لیے چار ماہ(جون2021تک) کی مہلت دی۔جون2021 تک پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا۔ 25 جون2021 کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو مزید وقت کیلئے گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا ہے۔پاکستان کی کارکردگی تسلی بخش ہے لیکن آخری شرط سے منسلک 6 نکات پر عمل کرنا ہو گا۔ پاکستان کو اپنے سزا کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ یو این کے نامزد کردہ 1376دہشتگردوں کو سزائیں دینا ہوں گی۔پاکستان جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے جبکہ بھارت اور اس کے اتحادیوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروایا جائے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
53942