The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ایران پر حملہ، سامراجی سازش یا فرقہ وارانہ مفروضہ؟ ۔ از قلم: ایڈووکیٹ ذیشان زرین

ایران پر حملہ، سامراجی سازش یا فرقہ وارانہ مفروضہ؟ ۔ از قلم: ایڈووکیٹ ذیشان زرین

ایران پر اسرائیل کا حالیہ حملہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں ایک اور خطرناک موڑ ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان معمولی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سامراجی کھیل کا تسلسل ہے جو نہ صرف علاقائی امن کو شدید خطرے سے دوچار کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر غلط فہمیوں، تعصبات اور پراپیگنڈے کا ایک نیا باب کھول چکا ہے۔ یہ حملہ عالمی طاقتوں کے سامراجی عزائم، فرقہ واریت کے فروغ اور خطے پر غلبہ حاصل کرنے کی دیرینہ کوششوں کی علامت ہے۔

دنیا کی واضح اکثریت عوامی تحریکوں سے لے کر اقوام متحدہ تک نے اس حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ بالخصوص وہ تحریکیں جو فلسطین کے حق میں سڑکوں پر نکلی ہوئی ہیں اس حملے کو عالمی انصاف کے چہرے پر ایک بدنما داغ سمجھتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سوائے ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت کے کسی بھی بااثر عالمی قوت نے اس اقدام کی حمایت نہیں کی۔

تاہم سوشل میڈیا کے سحر میں جکڑے کچھ ذہنوں کی صورت حال مختلف ہے۔ کچھ لوگ ایران کو ایک شیعہ ریاست کے طور پر دیکھتے ہوئے اس حملے کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں بیٹھا تعصب انہیں اسرائیل کی مذمت سے باز رکھتا ہے صرف اس لیے کہ متاثرہ ریاست ایران ہے۔ ایک اور طبقہ جو خود کو آزاد خیال اور مغرب نواز سمجھتا ہے یہ دلیل دیتا ہے کہ ایران کی مُلّائیت کا خاتمہ ضروری ہے اور شاید اسرائیل کا حملہ اس سمت ایک قدم ہو۔

اسی کے ساتھ بائیں بازو کے چند نظریاتی افراد بالخصوص پاکستان میں یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ دراصل دو سرمایہ دارانہ ریاستوں کا باہمی جھگڑا ہے اس لیے غیرجانبدار رہنا ہی دانشمندی ہے۔ مگر یہ غیرجانبداری درحقیقت عملی طور پر سامراجی بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔

ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ عراق، شام اور لیبیا میں سامراجی مداخلتوں سے پہلے ان ممالک کے لیڈروں کے خلاف شدید پراپیگنڈا کیا گیا۔ صدام حسین کو ہٹلر سے بدتر، قذافی کو تاریخ کا بدترین آمر اور بشارالاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کا خونی سوداگر قرار دیا گیا۔ ان الزامات میں اگرچہ کچھ حقائق بھی تھے لیکن انہیں مبالغہ آمیز انداز میں اس لیے پیش کیا گیا تاکہ عالمی رائے عامہ کو فوجی مداخلت کے لیے ہموار کیا جا سکے۔

نتائج؟ عراق میں چھ سے دس لاکھ افراد مارے گئے۔ملک فرقہ وارانہ خونریزی کی لپیٹ میں آیا اور آج تک سنبھل نہ سکا۔ شام میں چھ لاکھ پچاس ہزار لوگ مارے گئے، داعش جیسی تنظیمیں پروان چڑھیں اور اسرائیل نے شام کے کئی حصوں پر قبضہ جما لیا۔ لیبیا میں خانہ جنگی نے ملک کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔ افغانستان کی تاریخ تو خون اور آگ کا نوحہ ہے ہی۔ جو لوگ ان مداخلتوں کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں آمریت نواز، یہود مخالف، نسل پرست اور رجعت پسند جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی حربہ ہے تاکہ کسی بھی آزادانہ سوچ کو دبا دیا جائے۔

اسی تناظر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل مسلم دنیا میں فرقہ واریت کو کس قدر منظم انداز میں فروغ دے رہا ہے۔ ان کے کارندے سوشل میڈیا پر شیعہ سنی تضادات کو بھڑکانے والے ویڈیوز پھیلاتے ہیں۔ سعودی عرب میں محمد بن عبدالوہاب اور ابن تیمیہ کے اقوال کو سیاق و سباق سے کاٹ کر یوں استعمال کیا جاتا ہے جیسے شیعہ، یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوں۔ مقصد صرف ایک ہے اتحاد کو روکنا، تفرقہ ڈالنا اور مسلم امہ کو کمزور کرنا۔

پاکستان میں ہم سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان، تحریک لبیک اور جماعت الدعوۃ جیسی فرقہ وارانہ تنظیموں کو دیکھ چکے ہیں جو “کافر کافر شیعہ کافر” جیسے نعرے لگاتی ہیں۔ اس کے ردعمل میں تحریک جعفریہ اور سپاہ محمد جیسی اہل تشیع تنظیمیں بھی وجود میں آئیں۔ سوال یہ ہے کہ اس آگ سے فائدہ کسے ہو رہا ہے؟ یقینی طور پر انہی سامراجی طاقتوں کو جو فرقہ واریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

اسی طرح آزاد خیال خواتین کے حقوق کے نام پر مداخلت کا جواز تلاش کیا جاتا ہے۔ لبرل فیمینسٹ دلائل دیتے ہیں کہ چونکہ مولوی عورتوں کو حقوق نہیں دیتے، اس لیے نیٹو کی بمباری آزادی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کیا اسرائیلی بمباری ایرانی عورتوں کو واقعی آزاد کر دے گی؟ یہ ایک انتہائی سطحی اور غیر حقیقی تصور ہے۔

قرآن کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہے جب کوئی سامراجی طاقت کسی اسلامی ملک پر حملہ کرے تو اُس ملک کے مسلمانوں پر اُس کا دفاع کرنا فرضِ عین ہو جاتا ہے، اور دیگر اسلامی ریاستوں پر اُس کی مدد کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ اسلام ایسی جارحیت کے خلاف مزاحمت کو جہاد اور اس راہ میں جان دینے کو شہادت قرار دیتا ہے۔ اس طرح لینن کی فرمودات ہمیں سکھاتی ہیں کہ سامراجی جنگ اور مزاحمتی جنگ کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ “سوشلزم اور جنگ” میں لینن لکھتے ہیں کہ اگر کوئی محکوم قوم کسی سامراجی طاقت پر حملہ کرے تو وہ مزاحمتی جنگ کہلائے گی چاہے حملہ کس نے پہلے کیا ہو۔ یہی اصول ایران پر لاگو ہوتا ہے۔ ایران اگرچہ سرمایہ دارانہ ریاست ہے مگر وہ سامراجی ریاست نہیں۔ لینن کے مطابق سامراجی طاقتیں وہ ہیں جو دنیا کے وسائل پر قبضہ جماتی ہیں، اور ایران ان میں شامل نہیں۔

لہٰذا اسرائیل کے ایران پر حملے کو صرف فرقہ واریت یا جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حملہ مغربی غلبے کو قائم رکھنے اور ایران کے علاقائی اثر کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم غیرجانبدار ہیں دراصل وہ تاریخ کے کنارے پر کھڑے ہیں غیر متعلق، غیر ذمہ دار اور حقیقت سے فرار کے مرتکب۔ آج کی دنیا میں نیوٹرل ہونا بذات خود ظالم کی حمایت بن چکا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف شیعہ اور سنی بلکہ تمام مظلوم قوموں، گروہوں اور افراد کے درمیان اتحاد ہو۔ ان میں یورپ کے وہ بائیں بازو کے لوگ بھی شامل ہیں جو صہیونیت اور نسل کشی کے خلاف کھڑے ہیں۔ جو بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، وہ ہمارا ساتھی ہے۔

ایران اور اسرائیل کا تنازعہ صرف جوہری سائنس یا سفارت کاری کی جنگ نہیں بلکہ سامراج، سرمایہ داری اور مظلوم اقوام کے خلاف عالمی استبداد کی کہانی ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی ہوش سے کام نہ لیا تو خطہ مکمل طور پر آگ میں جھلس جائے گا اور شاید اس بار راکھ سے بھی کوئی امید پیدا نہ ہو۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
110969