ایران اسرائیل کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا
ایران اسرائیل کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا
اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز)ایران اسرائیل کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی پر بھی پڑنے لگے، کاروباری ہفتے کے پہلے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 76.37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً دو ڈالر بڑھ کر 75.01 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ جمعہ کو تیل کی قیمت میں سات فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور ایران کی جنگ کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں
۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 95 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 دنوں کے لیے ہوگا۔واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے، دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں مسلسل کمی، بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ
ہری پور(سی ایم لنکس) تربیلا ڈیم میں بارشوں کی کمی کے باعث پانی کی آمد میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کے باعث پانی کی سطح روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کا موجودہ لیول 1450.85 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ڈیڈ لیول سے صرف 48 فٹ بلند ہے۔ترجمان کے مطابق ڈیم میں پانی کی آمد 177400 کیوسک جبکہ اخراج 151800 کیوسک ہے، پانی کی کم آمد کے باوجود تربیلا ڈیم کے تمام 17 پیداواری یونٹس فعال ہیں اور ان سے اس وقت 1413 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔تربیلا ڈیم کی کل پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1550 فٹ ہے جبکہ اس کا ڈیڈ لیول 1402 فٹ ہے، ڈیم میں لگے 17 پیداواری یونٹس مجموعی طور پر 4888 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔محکمہ آبپاشی اور توانائی کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بارشوں کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو نہ صرف ڈیم میں پانی کی سطح مزید کم ہو سکتی ہے بلکہ بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
