The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اپر چترال اور کوہ میں بجلی کے بحران کا حل اور عوام کی پکار- تحریر: خالق داد ایڈوکیٹ

اپر چترال اور کوہ میں بجلی کے بحران کا حل اور عوام کی پکار- تحریر: خالق داد ایڈوکیٹ

چترال کے عوام، خصوصاً اپر چترال اور علاقہ کوہ کے باسی، بجلی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جب موسم سردی کی شدت اختیار کر رہا ہے، علاقے کے لوگوں کے لئے ہیٹر، گیزر اور دیگر ضروری آلات کا استعمال ممکن نہیں رہا۔ موجودہ نرخوں کے مطابق 4 روپے فی یونٹ کی جگہ 28 روپے فی یونٹ تک پہنچنا بجلی کے بلوں کو ناقابل برداشت بنا چکا ہے۔ یہ اضافہ علاقے کی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔

یہ مسئلہ شہزادہ افتخار الدین صاحب کے اُس معاہدے سے جڑا ہوا ہے جو گورنر ہاؤس پشاور میں طے پایا تھا، جس کے تحت گولن پاور ہاؤس سے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جانا تھا۔ تاہم، معاہدے کے باوجود اب تک اپر چترال اور کوہ لویر چترال کو اس معاہدے کے ثمرات نہیں ملے ہیں۔ اس کے بجائے، علاقے کے لوگ نہ صرف بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں بلکہ زیادہ بلوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

چترال سے منتخب عوامی نمائندوں کی خاموشی اور مسئلے پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہونا عوام کے لئے مزید مایوسی کا باعث بن رہا ہے۔

ان حالات میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر بجلی کے نرخوں میں کمی کریں، تاکہ اپر اور لوئر چترال کے باسی یکساں نرخوں پر بجلی حاصل کر سکیں۔

ہم اس صورتحال میں ضلع اپر چترال اور کوہ کی عوام کی جانب سے محترمہ ثریا بی بی (ڈپٹی اسپیکر)، محترم عبد اللطیف (ایم این اے)، محترم مہتر فتح الملک (ایم پی اے)، اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی م قیادت خصوصاً شاہزادہ افتخار الدین، محترمہ غزالہ انجم کائی اور دیگر سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دیں۔

ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ:

1. بجلی کے نرخوں میں کمی: بجلی کی قیمت کو کم کرکے اسے پرانے نرخوں یعنی 4 روپے فی یونٹ پر لایا جائے یا اسے کم از کم قابلِ برداشت سطح پر رکھا جائے، تاکہ عام آدمی بھی اپنے گھریلو ضروریات کو پورا کر سکے۔

2. بجلی کی بلاتعطل فراہمی: گورنر ہاؤس پشاور میں کیے گئے معاہدے کے تحت گولن پاور ہاؤس سے اپر چترال کو بجلی کی مستقل اور بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات مل سکے۔

3. عوامی نمائندوں کی ذمہ داری: محترم عوامی نمائندے اس مسئلے کو فوری طور پر ایوان میں اٹھائیں اور متعلقہ حکام کو بجلی کی فراہمی اور نرخوں میں کمی کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر مجبور کریں۔ عوام نے اپنے نمائندوں پر اعتماد کرکے انہیں منتخب کیا ہے، اور اس وقت عوام ان کی مدد کے منتظر ہیں۔

4. عوامی مسائل کا مستقل حل: اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کے لئے ایسے اقدامات کیے جائیں جیسے اپر چترال میں گرڈ اسٹیشن کا قیام جن سے بجلی کی فراہمی میں تعطل نہ آئے اور نرخوں میں اچانک اضافہ نہ ہو۔

اس وقت اپر چترال اور کوہ کی عوام کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ انہیں بجلی کے نرخوں میں فوری کمی اور بلا تعطل فراہم کی جائے۔ امید ہے کہ پی ٹی آئی کے عوامی نمائندے اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت عوام کی اس مشکل صورتحال کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

chitraltimes Reshun protest rally against electricity bill 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
94806