The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اپرچترال؛ آل پارٹیز اجلاس، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں کی کمی فوری طور پر پوری کرنے، سہولیات کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حل کا مطالبہ

Posted on

اپرچترال؛ آل پارٹیز اجلاس، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں کی کمی فوری طور پر پوری کرنے، سہولیات کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حل کا مطالبہ

اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت پرویز لال کی کال پر آل پارٹیز اپر چترال، ویلیج کونسل چیئرمین صاحبان اور تاجر یونین بونی کا ایک مشترکہ اجلاس تحصیل ہیڈ کوارٹر بونی میں سابق تحصیل ناظم شمس الرحمٰن لال کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ویلیج کونسل بونی (1) کے چیئرمین مظہرالدین مظہر، ویلیج کونسل چرون کے چیئرمین عنایت اللہ، ویلیج کونسل کوشٹ کے چیئرمین اور نائب صدر پاکستان تحریک انصاف محمد ارشاد، پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال کے سینئر نائب صدر پرویز لال، تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین فضل الرحمٰن، جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا فدا الرحمٰن، جماعت اسلامی یوتھ کے صدر شکیل احمد، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنما اور سینئر نائب صدر اپر چترال سردار حسین، سوشل ورکرز سردار عجب اور شیر بابر خان، نوجوان سوشل ورکر پیر ممتاز اور جنرل سیکریٹری تاجر یونین بازار بونی نے شرکت کی۔

اجلاس میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بونی کی ناگفتہ بہ صورتحال، ڈاکٹروں اور معاون عملے کی شدید کمی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ اپر چترال کا واحد سرکاری ہسپتال ہونے کے باوجود یہاں بنیادی طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ 11 برسوں سے کیٹیگری “سی” ہسپتال کی عمارت نامکمل پڑی ہے جبکہ پورے اپر چترال میں ڈائیلاسس کی ایک بھی مشین موجود نہیں، جس کے باعث مریض علاج کے لیے لوئر چترال میں کرائے کے مکانات لینے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس بدترین دور میں یہ صورتحال عوام کے لیے شدید اذیت کا باعث بن چکی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اکثر ڈیلیوری کیسز بھی لوئر چترال ریفر کیے جاتے ہیں، جو غریب عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ شرکاء نے ان مسائل پر فوری اور ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

اسی طرح پشاور تا اپر چترال اور اپر چترال تا پشاور رات کے اوقات میں ہونے والے سفر پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ یہ سفر اب صرف ایک سفری معاملہ نہیں رہا بلکہ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ رات کے اس خطرناک سفر کے باعث اب تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، لہٰذا سفری شیڈول میں فوری تبدیلی ناگزیر ہے۔

اجلاس میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اپر چترال کی کارکردگی اور دوکانداروں کے ساتھ نامناسب رویے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ فوڈ کنٹرولر مختلف بہانوں سے خصوصاً دیہی علاقوں کے دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کر رہا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے باعث تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں اور دیہات کے دکاندار مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے محدود پیمانے پر اشیائے خورونوش رکھتے ہیں، اس کے باوجود ان پر بلاجواز جرمانے کیے جا رہے ہیں، جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں فوڈ کنٹرولر کے فوری تبادلے کا مطالبہ کیا گیا۔

مذکورہ مسائل پر تفصیلی بحث کے بعد آل پارٹیز اپر چترال کی جانب سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جسے ایک وفد کی صورت میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے دفتر میں پیش کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ تمام مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اگر 2 فروری تک مذکورہ مسائل حل نہ کیے گئے تو اپر چترال کی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ اس سے قبل سیاسی قیادت اور ضلعی انتظامیہ عوامی مسائل کے حل میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔

chitraltimes vcs chairmans and elites of upper chitral meeting 5 chitraltimes vcs chairmans and elites of upper chitral meeting 4 chitraltimes vcs chairmans and elites of upper chitral meeting 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
117467