The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اوگے کی روایت اور اخوند سالاک کا کردار ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

اوگے کی روایت اور اخوند سالاک کا کردار ۔ تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

تاریخ اپنے دامن میں ایسی بے شمار داستانیں سموئے ہوئے ہے جو صرف گزرے ہوئے واقعات نہیں بلکہ انسانیت کی اجتماعی اقدار اور تہذیبی شعور کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ انہی روایات میں پشتون اور غیر پشتون معاشروں کی ایک اہم روایت ’’اوگے‘‘ شامل ہے، جسے پشتو میں ’’اوگے‘‘ جبکہ ہندکو میں ’’اوڈی‘‘ کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ خوراک کا ایک سادہ عطیہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں انسانی ہمدردی، باہمی تعاون اور معاشرتی ذمہ داری کا ایک گہرا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ اس روایت میں پانچ سیر (تقریباً پانچ کلو) اناج رضاکارانہ طور پر جمع کیا جاتا تھا، جو معاشرتی فلاح کے لیے استعمال ہوتا۔

ابتدائی طور پر ’’اوگے‘‘ کسی قانونی جبر یا حکومتی حکم کے تحت نہیں تھا۔ یہ ایک خالص رضاکارانہ عمل تھا، جس میں لوگ اپنی خوشی اور اخلاقی ذمہ داری کے تحت غریبوں، محتاجوں اور قحط زدہ افراد کو گندم، جو یا دیگر اجناس عطیہ کرتے تھے۔ اِس عطیے کا مقصد کسی کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر خاموشی سے مدد فراہم کرنا تھا۔ یہ نظام ریاستی مداخلت سے آزاد اور خالصتاً معاشرتی شعور پر مبنی تھا، جو نہ صرف پشتون بلکہ غیر پشتون علاقوں میں بھی رائج رہا، اور اس نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے اور مشکل وقت میں سہارا دینے کا جذبہ دیا۔

سترہویں صدی میں جب دینی بیداری اور عسکری تحریکوں کا آغاز ہوا، اخوند سالاک نے اس روایت کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ وہ بزرگ جنہوں نے موجودہ شمالی پاکستان کے علاقوں، خصوصاً بونیر، دیر، سوات، مردان، صوابی، نوشہرہ، چترال، کوہستان اور گلگت میں اسلام کی ترویج کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں، نہ صرف روحانی طور پر مؤثر تھے بلکہ سماجی اصلاحات اور عسکری تنظیم سازی میں بھی ان کی بصیرت بے مثال تھی۔ اُنہوں نے ’’اوگے‘‘ کو ایک منظم مالیاتی نظام میں تبدیل کیا، جس کا مقصد دینی تعلیم، جہادی سرگرمیوں اور فلاحی منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کرنا تھا۔

اخوند سالاک نے اِس نظام میں ایک انقلابی تبدیلی یہ کی کہ ’’اوگے‘‘ کا بوجھ صرف اُن افراد پر ڈالا جو مالی طور پر اس کے متحمل تھے۔ اُس وقت کے قبائلی سماج میں دولت کا اندازہ بیلوں کی جوڑی یا ذاتی اراضی سے لگایا جاتا تھا۔ جن کے پاس یہ وسائل ہوتے، اُنہیں امیر تصور کیا جاتا اور وہی ’’اوگے‘‘ دینے کے پابند ہوتے۔ اِس کے برعکس، غریب اور نادار افراد کو اِس مالی بوجھ سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھا گیا۔ یہ اُصول نہ صرف سماجی انصاف کو فروغ دیتا تھا بلکہ ایک منصفانہ نظام کی بنیاد بھی رکھتا تھا، جس میں امیر طبقے پر اجتماعی فلاح کی ذمہ داری عائد کی جاتی تھی۔

یہ روایت پیر بابا آف بونیریؒ کی اولاد میں بھی جاری رہی۔ وہاں اسے ہندکو میں ’’آڑا‘‘ کہا جاتا تھا، جس میں ایک کنڑاں (سوا کلو) اناج ہر گھر سے وصول کیا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا مقصد بھی جہادی سرگرمیوں کے اخراجات کی حد تک محدود تھا۔ اس طرح ’’اوگے‘‘ کی مختلف صورتیں مختلف علاقوں میں رائج تھیں، جو ایک ہی فلسفے پر مبنی تھیں: اجتماعی بھلائی اور رضاکارانہ تعاون۔ یہ نظام نہ صرف مذہبی تعلیم کے فروغ میں مددگار تھا بلکہ معاشرتی اصلاحات کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔

اخوند سالاک کے دور میں ’’اوگے‘‘ کا نظام صرف اُن افراد تک محدود تھا جو اس کی استطاعت رکھتے تھے۔ اس کے ذریعے جمع ہونے والا اناج اور وسائل نہ صرف جہادی سرگرمیوں کی ضروریات پوری کرنے میں استعمال ہوتے بلکہ دینی تعلیم، مدرسوں کے قیام اور مساجد کی تعمیر جیسے نیک مقاصد میں بھی صرف کیے جاتے۔ اس طرح ایک سادہ سی روایت نے ایک منظم جہادی تحریک کو مالی استحکام فراہم کیا اور ساتھ ہی معاشرتی فلاح و بہبود کا ذریعہ بھی بنی۔ اِس نظام نے عوامی سطح پر دینی شعور کو اُجاگر کیا اور ایک مربوط سماجی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔

جب اس نظام کا موازنہ انگریزوں کے مالیہ سے کیا جائے تو فرق واضح ہو جاتا ہے۔ انگریز سرکار کا مالیہ ایک جبری ٹیکس تھا، جو کسانوں سے زبردستی اُن کی زمین کی پیداوار کا بڑا حصہ چھینتا تھا۔ اس کی عدم ادائیگی پر جرمانے اور سزائیں دی جاتیں، جس سے کسان مزید غربت کی دلدل میں دھنس جاتے۔ یہ ایک استحصالی نظام تھا جس کا مقصد صرف حکومتی خزانے کو بھرنا تھا۔ اِس کے برعکس، اخوند سالاک کا ’’اوگے‘‘ نظام رضاکارانہ تھا، جس میں عطیہ دینے والے کی نیت اور سخاوت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہ قانونی جبر کے بجائے ایک اخلاقی فریضہ تھا۔

اخوند سالاک کا یہ نظام نہ صرف ایک مضبوط عسکری طاقت کے لیے معاون ثابت ہوا بلکہ ایک فلاحی اور معاشرتی انصاف کے نمونے کے طور پر بھی اُبھرا۔ ان کے اِس اقدام نے پشتون اور غیر پشتون معاشروں میں باہمی تعاون، سخاوت اور اجتماعی شعور کو فروغ دیا۔ اُن کی قیادت میں نہ صرف مذہبی تعلیمات کی اشاعت ہوئی بلکہ معاشرتی اصلاحات کا بھی آغاز ہوا۔ اُنہوں نے اپنے پیروکاروں کو ترغیب دی کہ وہ اپنی دولت اور وسائل کو اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کریں اور معاشرے کے کمزور طبقے کا سہارا بنیں۔ اُن کی بصیرت آج بھی ایک مثال ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
113950