The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

انسانی حقوق کے خلاف قانون سازی آپ کیخلاف استعمال ہوگی، اختر مینگل کا نواز شریف کو خط

انسانی حقوق کے خلاف قانون سازی آپ کیخلاف استعمال ہوگی، اختر مینگل کا نواز شریف کو خط

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ )بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو خط لکھا ہے۔اختر مینگل نے خط میں کہا ہے کہ سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے حل تلاش کیا جا رہا ہے، ہمیں جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں۔بی این پی کے سربراہ نے خط میں کہا ہے کہ نواز لیگ نے رات کی تاریکیوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر قانون سازی کی، انسانی حقوق کے خلاف قانون سازیاں دوسروں سے زیادہ ن لیگ کے خلاف ہی استعمال کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کو کمزور، غیر جمہوری طاقتوں کو مضبوط کرنا جمہوریت کے تابوت میں مزید کیلیں ٹھوکنے کے مترادف ہے، آپ کی جماعت مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کر گئی، موجودہ دور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام بمقام لاہور کا بھی اعلان کیا گیا۔خط میں اختر مینگل نے کہا کہ گوادر ایئر پورٹ کا نام ایسے شخص کے نام کردیا جس سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں، گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جو تقریباً 2 کروڑ 24 لاکھ بنتی تھی اسے 73 لاکھ کم کر دیا گیا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینا بد اعتمادی کو دوام بخشے گا، نگراں وزیرِ اعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیے گئے، آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے ہم اور آپ میں مزید دوریاں پیدا کر دیں۔

سپریم کورٹ رولز کو ایکٹ آف پارلیمنٹ سے مقدم کہنا غیر آئینی ہے، سینیٹ میں اکثریتی اتحاد کے پارلیمانی رہنماؤں کا بیان

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سینیٹ میں اکثریتی اتحاد کے پارلیمانی رہنماؤں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ رولز کو ایکٹ آف پارلیمنٹ سے مقدم کہنا غیرآئینی اور افسوسناک ہے۔اس حوالے سے سینیٹر اسحاق ڈار، یوسف رضا گیلانی، اعظم نذیر تارڑ، مولانا غفور حیدری، منظور کاکڑ، طاہر بزنجو، شفیق ترین،حاجی ہدایت اللہ اور محمد قاسم نے مشترکہ بیان دیا ہے۔اکثریتی اتحاد کے پارلیمانی رہنماؤں کا مشترکہ بیان میں کہنا ہے کہ قانون سازی صرف اور صرف پارلیمان کا اختیار ہے، عدالت کو پارلیمان کے اختیارات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے ایک دن بعد کئی ہفتوں سے محفوظ فیصلہ سنانا حیران کْن ہے، ہماری رائے میں ایسے فیصلے پارلیمان کی آزادی اور خود مختاری کو متاثر کرتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
77826