The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال کےممتاز ادیب ، شاعر، مصنف امیر خان میر(مرحوم) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

چترال کےممتاز ادیب ، شاعر، مصنف امیر خان میر(مرحوم) کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

چترال ( محکم الدین ) چترال کےممتاز ادیب ، شاعر، مصنف امیر خان میر کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس ہفتے کے روز ٹاون ہال چترال میں منعقد ہوا ۔ جس کےمہمان خصوصی انجمن ترقی کھوار کے سنئیر ممبر ادیب عنایت اللہ اسیر تھے۔ جبکہ صدارت کے فرائض مرحوم کے انتہائی قریبی ساتھی و معروف قانون دان و ادیب عبد الولی خان عابد ، اعزازی مہمانوں میں سابق ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ ، و مرحوم کے فرزند امتیاز احمد سمیت دیگر موجود تھے ۔ صلاح الدین صالح نے نظامت کےفرائض انجام دی ۔جناح الدین پروانہ نے تلاوت کی سعادت حاصل کی ۔ اور انجمن ترقی کھوار کے سنئیر اراکین ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، محمد عرفان عرفان ، صالح ولی آزاد ، ظہیر الدین صدر پریس کلب ، عبدالولی خان عابد ، ، عنایت اللہ اسیر ، حاجی مغفرت شاہ اور وجیہ الدین نے امیر خان میر کی حالات زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ جبکہ شیر بڑنگ خان گداز ، کریم اللہ ثاقب ، الطاف حسین خیاب ، چیرمین شوکت علی ، عبدالغنی خان دول نے مرحوم کی یاد میں مرثیہ پیش کرکے ان کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

امیر خان میر مرحوم کی زندگی کے بارے میں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہارکرتےہوئےکہا ۔ کہ امیر خان میرمرحوم کھوار ادب کے خزانہ تھے ۔ وہ کھوار ادب سے وابستہ تمام ممبران کو اپنی آنکھوں پر بیٹھاتے ۔ اور کھوار ادب کے فروغ و ترویج کیلئے ان کی کوششیں سنہری حروف میں لکھنےکے قابل ہیں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے۔ وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا ۔ مقررین نے کہا ۔ کہ امیرخان میر دو مرتبہ چترال کی سب سے بڑی ادبی تنظیم انجمن ترقی کھوار کے صدر رہے ۔ اس دوران انہوں نے”تحریک آزادی اور الحاق پاکستان ” کے حوالے سے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی ۔ اور اس کانفرنس میں تحریک آزادی سے متعلق مقالات کو کتابی صورت میں شائع کیا ۔ جو چترال کی تاریخ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے والوں کیلئے ایک خزانہ ہے ۔ اسی طرح تیسری بین الاقوامی ہندوکش کلچرل کانفرنس کے مقالات بھی ان ہی کے دور میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ۔ جو کہ بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ققنوز کے دو جلد رسالے میں چھاپنے کے علاوہ بابا فردوس فردوسی پر کتاب لکھی ۔ جو کہ ان کی اہم خدمات میں سے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔کہ میر صاحب بیک وقت ادیب و شاعر ، ایک محبت کرنے والے پر خلوص دوست ، ادارے کے اعلی منتظم اوربیغیر کسی عہدے کے سیاسی رہنما تھے ۔ جوپوری زندگی ایک ہی جماعت سے وابستہ رہے ۔ اس کے باوجود ادب سے لےکر ملازمت و سیاست تک کے تمام لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا ۔

اس موقع پر امیرخان میر مرحوم کے فرزند امتیاز احمد نے اپنے والد گرامی کی یادمیں تعزیتی ریفرنس منعقد کرنےپر مرکزی صدر انجمن ترقی کھوار شہزادہ تنویرالملک و حلقہ چترال کے صدر معزالدین بہرام اور جملہ ممبران و شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہمارے والد گرامی نے اپنی زندگی میں ادب کے دوستوں کا جو وسیع حلقہ بنایا ہے ۔ یہ ہمارے لئےفخر اور حوصلے کی بات ہے ۔ صدر محفل امیر خان میرمرحوم کے بہت قریبی دوست ممتاز ماہر قانون عبدالولی خان عابد نےاپنے خطاب کے دوران مرحوم کے فرزندوں سے درخواست کی ۔ کہ وہ امیر خان میر کے ادبی مسودات جلد سے جلد انہیں مہیا کریں ۔ تاکہ انہیں کتابی شکل دے کے بلاتاخیر شائع کیا جا سکے ۔

chitraltimes amir khan mir refrence at town hall 2

chitraltimes amir khan mir refrence at town hall chitraltimes amir khan mir refrence at town hall 6 chitraltimes amir khan mir refrence at town hall 7

chitraltimes amir khan mir refrence at town hall 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
68155

داد بیداد ۔ ہر دل عزیز شخصیت امیر خان میر ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ ہر دل عزیز شخصیت امیر خان میر۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خیبر روڈ پر صو بائی اسمبلی کی عما رت کے سامنے محکمہ مو سمیات کا صو بائی دفتر اور مشہور رصد گاہ (اوبزر ویٹری) کی عما رتیں ہیں امیر خان میر یہاں سینئیر ابزرور تھے تو ہم ان سے ملنے آتے ایک آدھ بار انہوں نے ہمیں اہم تنصیبات سے بھی آگاہ کیا اور ابزرویشن روم کی جدید ترین مشینری بھی دکھا ئی اتوار کا دن آتا تو ہمیں ساتھ لیکر بھا نہ ما ڑی میں اپنے بڑے بھا ئی بزرگ استاد سے ملنے جا تے جو وہاں اما مت اور خطا بت کر تے تھے 24اکتو بر 2022ء کی شام میر صاحب کی وفات کی خبر سنی تو مجھے ان کی پیشہ ورانہ زند گی کے مہ و سال یا د آئے پشاور سے ان کا تبا دلہ لا ہور ہوا، لا ہور سے تر قی پا کر گلگت میں چارج سنبھا لا اور گلگت ہی سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی امیر خان میر ہر دل عزیز شخصیت اور مر نجان مرنج طبیعت کے ما لک تھے اللہ پا ک کی طرف سے ان کو محبت اور قنا عت کی دولت کا وافر حصہ عطا ہوا تھا 1936ء میں چترال کے مضا فا تی گاوں چمر کن میں بیگا لے قبیلہ کے سلیمان خا ن کے ہاں پیدا ہوئے سٹیٹ ہا ئی سکول چترال سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوئے اُس زما نے میں ریا ست کے وسائل محدود تھے اس لئے با صلا حیت نو جوا نوں کو وفا قی حکومت میں اچھی نو کر یوں کی تلا ش ہوتی تھی.

chitraltimes amir khan mir ex tehsil nazim chitral

چنا نچہ دو سال بعد محکمہ دفاع کے شعبہ مو سمیات میں ملا زمت کے لئے منتخب ہوئے اسی کو پیشہ بنا یا مگر ہوا کے رُخ پر چلنے کے بجا ئے ہواوں کے مقا بل اپنا چلن رکھا 1960ء کا عشرہ وطن عزیز میں کمیو نزم اور اسلا می طا قتوں کی آویزش و چپقلش کا زما نہ تھا امیر خا ن میر چترال کے عسکر ی ہیڈ کوارٹر دروش میں متعین تھے جہاں شہزادہ افضل ولی، اشرف خا ن خلجی، مو لا نا عبد الروف، فیض اللہ، محمد سعید، محمد اشرف اور دیگر احباب پر مشتمل ایک ایسا حلقہ تھا جو درس قرآن، درس حدیث اور اصو ل دین کے مطا لعے کے لئے مخصو ص تھا احباب کی ہفتہ وار نشستوں میں مو لا نا سید ابو لا علیٰ مو دودی کی کتابیں تقسیم ہوتی تھیں امیر خان میر بھی احباب کے اس حلقے میں شا مل ہوئے جس کو بعد میں جما عت اسلا می کے متفقین کا حلقہ بنا یا گیا جما عت کا رکن بننے کے بعد بھی آپ اس حلقے کو یا د کر تے تھے اس حلقے کی وساطت سے جما عت اسلا می کا لٹریچر ریا ست کے اندر پھیلا یا گیااس دینی کا م کے تسلسل میں آپ کو یہ سعادت ملی کہ اپنے گھر میں بیٹی کے لئے بچیوں کا مد رسہ قائم کیا اور دن بھر تلا وت قرآن کی صدا گھر میں گونجتی رہی آپ کے بیٹے کو بھی علم دین کی سعادت نصیب ہوئی پو تا بھی حا فظ قرآن بنا خود تلا وت کر تے تو آنسو تھمنے کا نا م نہ لیتے.

ملا زمت سے ریٹائر منٹ لینے کے بعد آپ چترال کے تحصیل نا ظم منتخب ہوئے 2001سے 2005تک اس عہدے پر متمکن رہے کسی ولی کا مل کا قول ہے در ویش کی گڈ ڑی میں پیوند ہوتے ہیں دھبے نہیں ہو تے میر صاحب نے سیا سی عہد ے پر رہتے ہوئے اپنے دامن کو آلو دہ نہیں ہونے دیا یہا ں تک کہ سیا سی مخا لفین بھی آپ کی اما نت داری اور صدا قت کے قائل ہو گئے یہ بہت بڑا امتحا ن تھا اور اس میں سر خرو ہو نا آ سان نہ تھا اُ ن کی زند گی کا ایک اور پہلو ادب اور شعر و شا عری سے ان کا شغف اور ذوق و شوق تھا مادری زبان کھوار کی ادبی تنظیم انجمن ترقی کھوار کی صدارت پر بھی فائز ہوئے کتا بوں کی تدوین میں حصہ لیا تین اہم کتا بوں کی ادارت اور تدوین کا ری سے نا م کما یا انجمن کے مشا عروں، مذاکروں، سیمیناروں اور کانفرنسوں میں تنظیمی امور سنبھا ل کر پرو گراموں کو کا میا بی سے ہم کنا ر کیا آپ کی شخصیت بڑی دلا ویز اور متا ثر کن تھی ہر وقت ہشاش بشاش اور مسکرا تے چہرے کے ساتھ نظر آتے ان کا کہنا تھا کہ محبت ایک طا قت اور توا نا ئی ہے،

amir khan mir tehsil nazim chitral

قنا عت دنیا میں انسا ن کی سب سے بڑی دولت ہے علا مہ اقبال کے فارسی اور اردو کلا م سے بر محل حوالے دینا ان کا وطیرہ تھا اکثر علا مہ کا یہ شعر دہراتے غیر ت ہے بڑی چیز جہان تک و دو میں پہنا تی ہے درویش کو تا ج سردارا نما ز جنازہ پڑ ھا نے کے بعد ان کے منجھلے بیٹے مو لا نا اشفاق احمد نے شر کا سے مختصر خطا ب کر کے سب کا شکر یہ ادا کیا اپنے پا پ کو یا د کر تے ہوئے کہا کہ بزر گوار نے اپنی اولا د کو صداقت اور قنا عت کی دولت میراث میں عطا کی ہے اور یہ سب سے بڑی دولت ہے امیر خا ن میر کی وفات سے ان کا خا ندان محبت کرنے اور محبت بانٹنے والے بزر گوار کی سر پر ستی سے محروم ہوا ان کے حلقہ احباب کو پُر مزاح گفتگو میں علم و ادب کے مو تی بکھیر نے اور لطا ئف وظرائف کے انبار لگا نے والے دوست کی جدا ئی کا صدمہ جھیلنا پڑا میرے لئے ان کی ایک اور حیثیت بھی تھی وہ روز نا مہ آ ج کے مستقل قاری اور داد بیداد پر نقد و تبصرہ کرنے والے مر بی اور محسن تھے اللہ ان کے بیٹوں اعجاز احمد، اشفاق احمد، امتیاز احمد، الطاف احمد اور انتخا ب احمد کے ساتھ ان کے پو تے لفٹننٹ طفیل احمد کو زند گی کی خو شیاں نصیب کرے اور ان کی روح کو اگلے جہاں میں دائمی راحت اور سکون نصیب فر مائے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
67471