The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 20 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کامرحلہ مکمل ہو گیا، الیکشن کمیشن

Posted on

امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کامرحلہ مکمل ہو گیا، الیکشن کمیشن

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)عام انتخابات 2024 کے لئے اپیلٹ ٹربیونلز کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کامرحلہ بدھ کو مکمل ہو گیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست جمعرات کو شائع کی جائے گی۔امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی 12 جنوری کو واپس لئے جا سکیں گے جبکہ اسی روز امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔ امیدواروں کو انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 13 جنوری کو ہو گی جبکہ پولنگ 8 فروری کوہو گی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی مستعفی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی نے استعفیٰ دے دیا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دیا۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس زیر سماعت ہے جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے جب کہ ان کی ایک مبینہ ا ڈیو بھی سامنے ا ئی تھی جب کہ جسٹس مظاہر نے ا ج اسی سلسلے میں کونسل کو اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا۔استعفے میں جسٹس مظاہر نے کہا ہے کہ میں نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیے ہیں۔جسٹس مظاہر نے اپنے استعفے میں مو قف اختیار کیا ہے کہ میرے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں۔جسٹس مظاہر نقوی نے استعفے کی کاپی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھیج دی۔سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس زیر سماعت ہے جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے جبکہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔سپریم جوڈیشل کونسل نے اس حوالے سے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔اس سے قبل آج ہی جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا۔اپنے جمع کرائے گئے جواب میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے خود پر عائد الزامات کی تردید کر دی۔

جسٹس مظاہر نقوی کا جواب میں کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف معلومات لے سکتی ہے، کونسل جج کے خلاف کسی کی شکایت پر کارروائی نہیں کر سکتی۔جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں، رولز کے مطابق کونسل کو معلومات دینے والے کا کارروائی میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطور پراسیکیوٹر تعیناتی پر بھی اعتراض کر دیا۔جمع کرائے گئے جواب میں جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ہے کہ کونسل میں ایک شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل بھی ہے، اٹارنی جنرل شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں۔جسٹس مظاہر نقوی کا جواب میں کہنا ہے کہ بار کونسلز کی شکایات سیاسی اور پی ڈی ایم حکومت کی ایما پر دائر کی گئی ہیں۔جواب میں جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان بار کی 21 فروری کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، شہباز شریف سے ملاقات کے روز ہی پاکستان بار نے شکایت دائر کرنے کی قرارداد منظور کی۔جسٹس مظاہر نقوی نے اپنے جواب میں کہا ے کہ شوکاز کا جواب جمع کرانے سے پہلے ہی گواہان کو طلب کرنے کا حکم خلافِ قانون ہے۔جمع کرائے گئے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مجھ سے کوئی بھی شخص باآسانی رجوع کر سکتا ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی کا سپریم جوڈیشل کونسل کو جمع کرائے گئے جواب میں کہنا ہے کہ غلام محمود ڈوگر کیس خود اپنے سامنے مقرر کر ہی نہیں سکتا تھا، یہ انتظامی معاملہ ہے، غلام محمود ڈوگر کیس میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا تھاجواب میں جسٹس مظاہرنقوی کا کہنا ہے کہ لاہور کینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا ہے، ایس ٹی جونز پارک والے گھر کی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا۔جسٹس مظاہر نقوی کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، نہ ہی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا۔ان کا اپنے جواب میں کہنا ہے کہ گوجرانوالہ میں خریدا گیا پلاٹ جج بننے سے پہلے کا ہے اور اثاثوں میں ظاہر ہے۔جواب میں جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ہے کہ زاہد رفیق نام کے شخص کو کوئی ریلیف دیا، نہ ہی ان کے بزنس سے کوئی تعلق ہے، میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔جسٹس مظاہر نقوی کا جواب میں کہنا ہے کہ دونوں بیٹے وکیل اور 2017ء سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے آ رہے ہیں، جسٹس فائز کیس میں طے شدہ اصول ہے کہ بچوں کے معاملے پر کونسل کارروائی نہیں کر سکتی۔جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پارک روڈ اسلام آباد کے پلاٹ کی ادائیگی اپنے سیلری اکاؤنٹ سے کی تھی، الائیڈ پلازہ گوجرانوالہ سے کسی صورت کوئی تعلق نہیں ہے۔جسٹس مظاہر نقوی نے جمع کرائے گئے جواب میں سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج کرنے اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
84015

عام انتخابات، کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں دائرکرنیکا مرحلہ مکمل

عام انتخابات، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کا مرحلہ مکمل

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)آئندہ عام انتخابات 2024 کے لئے ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کا مرحلہ مکمل ہو گیاجن کی سماعت 10 جنوری تک جاری رہے گی، ان اپیلوں کی سماعت کیلئے 24 اپیلٹ ٹربیونلز قائم کئے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق 25 سے 30 دسمبر تک ریٹرننگ افسران کی جانب سے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر کل 25 ہزار 951 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جن میں سے 22 ہزار 711 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں۔کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلوں کیلئے 3 جنوری ا?خری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 13 جنوری تک ہوگی، ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں 16 جنوری تک جبکہ اپیلیٹ ٹربیونل کی جانب سے ان اپیلوں پر فیصلہ19 جنوری کو ہوگا۔امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 20 جنوری کو جبکہ کاغذات نامزدگی 22 جنوری کو واپس لئے جاسکیں گے۔ امیدواروں کی فہرست 23 جنوری کو جاری کی جائے گی۔ جنرل نشستوں پر امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست 11 جنوری کو شائع کی جائے گی۔کاغذات نامزدگی 12 جنوری کو واپس لئے جاسکیں گے۔امیدواروں کو انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 13 جنوری کو ہوگی جبکہ پولنگ 8 فروری کو ہوگی۔

توہین الیکشن کمیشن کیس؛ عمران خان اور فواد چوہدری پر فرد جرم عائد

راولپنڈی(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری پر توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم عائد کردی۔اڈیالہ جیل راولپنڈی میں توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی۔پی ٹی آئی وکلا نے درخواست کی کہ ا?ج قانونی ٹیم کے سربراہ شعیب شاہین سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، فرد جرم آج عائد نہ کی جائے، اس کیس میں عجلت نہ کی جائے۔وکلا نے جیل ٹرائل کے خلاف بھی استدعا کی۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی ا?ئی کی دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے عمران خان اور فواد چوہدری پر فرد جرم عائد کردی۔الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی۔بعدازاں ایڈووکیٹ علی بخاری نے جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چارج شیٹ کو چیلنج کریں گے، جو چارج فریم ہوا اس کو بھی ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔پی ٹی آئی وکیل عمیر نیازی نے کہا کہ چارج میں ایسی کوئی چیز نہیں جس پر توہین ثابت ہوسکے، عمران خان نے ہم سے کہا ہے کہ کمیشن کے ایک ممبر کے خلاف سپریم کورٹ جاچکے ہیں اس کو کمیشن سے الگ ہوجانا چاہیے۔پی ٹی آئی رہنما اصغر چوہدری نے بتایا کہ سماعت میں فرد جرم عائد ہونے پر عمران خان سخت غصے میں تھے، انہوں نے الیکشن کمیشن ممبران کو کہا کہ آپ جانبدار ہیں، ہم سے انتخابی نشان تک چھین لیا، ایک وقت آئے گا کہ آپ پر سنگین غداری کا آرٹیکل 6 لگے گا۔کمیشن ممبران کارروائی کے دوران ششدر رہ گئے۔حبا فواد چوہدری نے بتایا کہ فواد چوہدری نے سماعت کے دوران کہا کہ الیکشن کمیشن کے ایک رکن کے خلاف ریفرنس دائر ہے، وہ سماعت نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی وہ بینچ کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کو جاری شوکاز کا جواب تک دینے نہیں گیا اور فرد جرم عائد کر دی گئی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83772