The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جنرل الیکشن: ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی؛ الیکشن اخراجات کا تخمینہ 49ارب سے تجاوز – ایک لاکھ سے زائد قیدی ووٹ کے حق سے محروم

Posted on

جنرل الیکشن: ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی؛ الیکشن اخراجات کا تخمینہ 49ارب سے تجاوز – ایک لاکھ سے زائد قیدی ووٹ کے حق سے محروم

لاہور( چترال ٹائمزرپورٹ)انتخابات 2024 میں ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی کے اخراجات کا تخمینہ 49 ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔انتخابات 2024 میں ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور دیگر اخراجات کے اضافے سے الیکشن اخراجات کا تخمینہ 49 ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے وفاقی حکومت سے 47 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی تھی جو مرحلہ وار الیکشن کمیشن کو فراہم کی جارہی ہے۔ملک میں سکیورٹی خدشات اور سرحدی صورتحال کے پیش نظر پولیس، رینجرز، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے سکیورٹی کے لیے الیکشن کمیشن سے مزید ساڑھے 3 ارب روپے کی ڈیمانڈ کردی ہے، اس حوالے سے صرف پنجاب پولیس نے عام انتخابات کی سکیورٹی کیلئے الیکشن کمیشن سے ایک ارب 19کروڑ روپے طلب کرلیے ہیں۔

الیکشن2024: ایک لاکھ سے زائد قیدی ووٹ کے حق سے محروم رہیں گے

لاہور(سی ایم لنکس)ملک بھر کی116 جیلوں کے ایک لاکھ سے زائد قیدی 8فروری کو جنرل الیکشن میں ووٹ کے حق سے محروم رہیں گے۔دنیا کے سینکڑوں ممالک اپنے شہریوں، قیدیوں اور تارکین وطن کو مختلف شرائط کے ساتھ ووٹ ڈالنے کاحق دیتے ہیں، ان ممالک میں اگر کوئی تارکین وطن بھی حق رائے دہی استعمال کرنا چاہے تو ان کیلئے بھی شرائط مقرر کی گئی ہیں۔پاکستان میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 26 کے مطابق ہر شخص انتخابی علاقے میں بطور ووٹر اندراج کا حقدار اور آئین کی شق 51 کے معیار پرپورا اترنیوالا فرد آئینی طور پر ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔آئین میں حقِ رائے دہی کے لیے اہلیت کے جو مندرجہ بالا معیار طے کیے گئے ہیں وہ قیدیوں کو ووٹنگ کے عمل سے خارج نہیں کرتے، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 93 (d) کے مطابق جیل میں نظر بند یا زیر حراست شخص پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈال سکتا ہے۔پاکستان کے چاروں صوبوں کے جیل خانہ جات کے حکام سے موصول ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی116 جیلوں میں تقریباً 1 لاکھ سے زائد قیدی موجود ہیں، جن میں 1500 کے قریب خواتین ہیں۔ان قیدیوں میں ایسے نابالغ قیدی شامل ہیں جو جیل میں ہی 18 برس کی عمر کو پہنچ چکے اورشناختی کارڈ بنوانے کے حق دار ہیں۔قیدوں میں 71 فیصد ایسے ہیں جن کے مقدمات کے فیصلے نہیں ہوئے،ان میں بہت سے ایسے ہیں جو معمولی جرائم میں پابند سلاسل ہیں اور ان کے مقدمات کی پیروی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔لاہورکی ڈسٹرکٹ اور سینٹرل جیل میں عمر قید کاٹنے والے غلام علی،شہزاد، منشا،رستم کا پیشی کے موقع پر کہنا تھا کہ ماضی اور موجودہ حکومتوں نے آج تک اسیران کیلئے ایسا کوئی لائحہ عمل ہی مرتب نہیں کیا جس سے قیدی بھی اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں۔سندھ کے ضلع سکھر کی جیل کے قیدی اللہ ڈینو، لاکھو اور دیگر کا کہنا تھا کہ ہم نے بلدیاتی انتخابات میں بھی حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو درخواستیں دیں، لیکن سرکاری سطح پر ہماری شنوائی نہیں ہوئی۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ہدہ جیل میں موجود قیدی بہادرخان، افتخار مکرانی کا کہنا ہے اگر ہر جیل میں پولنگ سٹیشن قائم کر دیا جائے تو ہزاروں کی تعداد میں قیدی ووٹ کاسٹ کریں گے۔واضح رہے پاکستان کی کسی جیل میں موجود قیدی ووٹ ڈالنے کے لیے سب سے پہلے متعلقہ پریزائیڈنگ افسر کو تحریری طور پر اپنا پوسٹل بیلٹ پیپر جیل منگوانے کی درخواست کرتا ہے، بیلٹ پیپر ملنے کی صورت میں قیدی جیل حکام کے زیر نگرانی ووٹ ڈالتا ہے، اور بعد ازاں جیل حکام قیدیوں کے تمام نشان زدہ بیلٹ پیپرز الیکشن کمیشن کو بھیج دیتے ہیں۔تاہم پچیدہ نظام محکمہ داخلہ، ڈی آئی جیل خانہ جات اور دوسرے کئی سرکاری عہدیداروں سے اجازت کے باعث قیدی ووٹ نہ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
84389