پاکستان سے اب تک 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس چلے گئے
پاکستان سے اب تک 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس چلے گئے
اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز)طورخم بارڈر کے راستے سے گزشتہ روز 5,220 افغان مہاجرین وطن واپس چلے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاک افغان طورخم بارڈر سے 401 قانونی اور 2,314 غیر قانونی افراد کی وطن واپسی ہوئی ہے، اب تک کل 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد افغان شہری واپس جا چکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 19، پنجاب سے 450 افغان شہری گزشتہ روز واپس بھیجے گئے، اب تک دیگر صوبوں سے 25 ہزار 392 افغان باشندے واپس جا چکے ہیں، خیبر پختونخوا کے ٹرانزٹ پوائنٹس سے گزشتہ روز 19 افغان شہری ڈیپورٹ ہوئے۔پشاور، لنڈی کوتل اور کوہاٹ جیل سے مجموعی طور پر 7,261 افراد کی واپسی مکمل ہوئی جبکہ گزشتہ روز 1,326 افغان شہریوں نے خیبر پختونخوا میں عارضی قیام کیا، بعد ازاں انہیں ڈیپورٹ کر دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ 54 ہزار سے زائد قانونی جبکہ 6 لاکھ 28 ہزار غیر قانونی تارکین وطن افغان شہریوں کی واپسی کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
افغان طالبان کا پروپیگنڈہ مسترد، وزیر دفاع نے افغان ترجمان کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیدیا
اسلام آباد(سی ایم لنکس)پاکستان نے افغان طالبان کا پروپیگنڈہ مسترد کردیا جب کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان ترجمان کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بھارتی پراکسیز سے واقف ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان ترجمان کی جانب سے بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن تبصروں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں پر تمام پاکستانیوں بشمول ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام بالخصوص خیبر پختونخوا کے لوگ، افغان طالبان رجیم کی طرف سے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی وحشیانہ دہشت گردی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس کے ارادے یا طرز عمل کے بارے میں کوئی وہم نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ غیر نمائندہ افغان طالبان رجیم ہے جو اندرونی دھڑے بندی کا شکار ہے، اور وہ افغان نسلوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر مسلسل جبر کی ذمہ دار ہے، جب کہ عوام کے بنیادی حقوق اظہار رائے، تعلیم اور نمائندگی کے بنیادی حقوق کو بھی سلب کر رہی ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 4 سالہ اقتدار میں رہنے کے بعد بھی افغان طالبان رجیم بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب بیان بازی کے ذریعے اور بیرونی عناصر کے لیے پراکسی کے طور پر کام کر کے اپنی ہم آہنگی، استحکام اور حکمرانی کی صلاحیت کی کمی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے برعکس، پاکستان کی پالیسی اپنے شہریوں کو سرحد پار دہشت گردی اور خوارج کے گمراہ کن نظریے سے بچانے کے لیے متحد، غیر متزلزل، اور قومی مفاد کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کے حصول کے لیے بھی ہے۔دوسری جانب، وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی افغان پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان بھارت سے پروپیگنڈا سیکھ رہے ہیں۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گرد کیمپ دکھانے کا چیلنج دے دیا۔گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیر اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوتا، پاکستان بھی چاہتا ہے کسی کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو۔
