The Voice of Chitral since 2004
Monday, 25 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دوائے دل – افغان طالبان ۔ تختے سے تخت تک! – (محمد شفیع چترالی)


نائن الیون کے واقعات کو کل بیس برس کا عرصہ مکمل ہورہا ہے اور وقت کی گردش کا کمال بلکہ عجوبہ یہ ہے کہ ان بیس برسوں میں دنیا بہت سے انقلابات،جنگوں،حوادث اور تبدیلیوں کے باوصف ایک بار پھر گھوم کر اس نقطے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں نائن الیون کے وقت تھی۔ کل جب واشنگٹن اور نیویارک میں امریکی شہری نائن الیون میں مارے جانے والے اپنے پیاروں کا ماتم کر رہے ہوں گے،کابل اور قندہار میں افغان طالبان اپنی نئی حکومت کے قیام کا جشن منارہے ہوں گے۔ آج کے دن کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیا اسباب و وجوہ ہیں جن کے باعث انسانی تاریخ کی جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی سے لیس پچاس کے قریب ممالک کی افواج افغانستان کے بے سرو سامان طالبان کو شکست نہ دے سکیں اور انسانیت کا کھربوں ڈالرز کا سرمایہ اور اسلحہ افغانستان میں بے کار اور ضائع چلا گیا۔ دنیا بھر کے مبصرین اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث ہورہی ہے مگر اس حقیقت کا اعتراف کہیں نہیں کیا جارہا کہ اس جنگ کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ دراصل اس کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز ہی نہیں تھابلکہ یہ محض انتقامی جذبے کے تحت اندھا دھند شروع کی جانے والی ایک مہم جوئی تھی جس کا واحد مقصد اپنی دھاک بٹھانا تھا۔ اس کا بالاخر یہی نتیجہ نکلنا تھا جو کہ نکلا۔


آج بیس برس بعد کا منظر نامہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ آپ کھربوں ڈالرز کا سرمایہ اور آدھی دنیا کی معاشی و عسکری طاقت لگاکر بھی غلط کو صحیح، جھوٹ کو سچ اور باطل کو حق بناکر نہیں دکھاسکتے۔ اتحادی افواج اس لیے افغانستان میں ذلت وادبار سے دوچار ہوئیں کہ ان کے پاس لڑنے کے لیے اسلحہ اور سرمایہ تو بے تحاشا تھا،پر کوئی نظریہ، مقصد اور جذبہ نہیں تھا جبکہ طالبان اس لیے سرخ رو ہوئے کہ ان کے پاس اسلحہ اور وسائل تو نہ ہونے کے برابر تھے تاہم لڑنے کا جذبہ،نظریہ اور اپنے حق پر ہونے کا حد درجے کا پختہ یقین تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سرفروشانہ جدوجہد اور بے مثال مزاحمت نے دنیا میں طاقت کے فلسفے اور ٹیکنالوجی کی خدائی کے تصور کو دفن کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی محکوم اور مظلوم اقوام کے لیے حوصلے اور امید کا ایک پیغام ہے کہ آج کی دنیا میں بھی سچ اور حق پر مبنی جدوجہد ہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
طالبان اپنی بیس سالہ جدوجہد کے دوران تین محاذوں پر ناقابل تسخیر رہے اور پوری دنیا کوحیران کرکے رکھ دیا، جس کی شاید ان کے بہت سے حامیوں کو بھی توقع نہیں تھی۔ پہلا محاذ عسکری مبارزت کا تھا جس میں افرادی قوت، مادی وسائل، اسلحے، سرمایے اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ان کا اتحادی افواج کی طاقت سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب اتحادی افواج نے افغانستان پر جارحیت کا آغاز کیا اور دیوہیکل بی باون طیاروں سے ”بموں کی ماں“ کہلانے والے ڈیزی کٹر بم گرانا اور کارپٹ بمباری کرکے آن واحد میں بستیوں کی بستیاں اڑانا شروع کردی تھیں تو ادھر پاکستان میں بیٹھے ہمارے بہت سے دانشوروں کے بھی دل دہل گئے تھے اور کہا جاتا تھا کہ آج کی دنیا میں گھوڑوں خچروں پر بیٹھ کر دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے والے دیوانے ہیں۔ مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ انہی دیوانوں نے کس طرح اپنی چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے اتحادی افواج کو ناکوں چنے چبوائے اور دنیا بھر کے فرزانوں کے ہوش اڑانے شروع کر دیے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف افغانوں کی جدوجہد کو امریکا کے کھاتے میں ڈالنے والے ہمارے دانشوروں کو آج سمجھ نہیں آرہی کہ طالبان کی اس فتح کو کس کھاتے میں ڈال دیں۔


یہ تو ہوئی عسکری محاذ کی بات جہاں طالبان نے ایک طرح سے افغانوں کی تاریخ کو ہی دوہرایا ہے۔ اس محاذ پر ماضی میں بھی افغان ناقابل تسخیر رہے۔ دوسرا محاذ جوکہ افغانوں کی تاریخ کا ایک کمزور باب ہے اور جہاں کئی دفعہ عسکری محاذ کی جیتی ہوئی جنگیں بھی ہاری گئی ہیں، معاشی اور مالی ترغیبات کے جال سے بچنے کا ہے جس میں طالبان نے تاریخ کو بدل کررکھ دیا ہے۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ افغانستان میں ابتدائی دو تین برسوں کے اندر ہی امریکا اور عالمی طاقتوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ عسکری میدان میں طالبان کو شکست دینا ممکن نہیں ہے،چنانچہ ہمیشہ کی طرح ڈالروں کی تجوریاں کھول دی گئیں اور ایک ایک طالبان کمانڈر کولاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ڈالرز کی پیشکش کرکے خریدنے کی کوشش کی گئی،خاص طور پر مذاکرات کے آغاز کے بعد تو کہا جاتا ہے کہ ایک نہیں بلکہ کئی ممالک کی جانب سے طالبان کے اہم رہنماؤں کو اپنے دام میں لانے کے لیے ہر ایک کو سونے میں تولنے کی پیش کش کی گئی مگر یہ مردان خود آگاہ و خدامست اس محاذ پر بھی ثابت قدم رہے اور دنیا کے درجنوں ممالک مل کر ان میں سے کسی ایک کو بھی خرید نہ سکے۔


اس سے اگلا محاذ سفارت کاری اور مذاکرات کا تھا۔ بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ یہ سیدھے سادھے افغان ملا اپنے مخصوص قبائلی پس منظر اور جنگی ماحول کی وجہ سے عسکری میدان میں تو زیر نہیں ہوئے تاہم مذاکرات کی میز پر دنیا کے گھاگ ترین سفارت کاروں اور چرب زبان”زلمیوں“ کے آگے ٹکنا شاید ان کے بس کی بات نہ ہو۔ پھر ظاہر ہے کہ مذاکرات ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور جہاں مدمقابل دنیا کا واحد سپر پاور کہلانے والا ملک ہو تو کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ دے کر ہی اپناکچھ منوایا جاسکتا ہے مگر یہاں بھی طالبان حوصلے اور تدبر کا پہاڑ ثابت ہوئے۔ انہوں نے کسی بھی مرحلے پر کسی عجلت، کمزوری، مجبوری یا طمع کا تاثر نہیں پیدا ہونے دیا جبکہ مد مقابل کی عجلت،مجبوری اور بے بسی کا مزہ لیتے رہے چنانچہ جب دوحہ میں مذاکرات کے بعد معاہدے کا اعلان ہوا تو ملابرادر کے چہرے پر فاتحانہ تمکنت اور امریکی وزیر خارجہ کی”مسکینی“کا ساری دنیا نے مشاہدہ کیا اور درحقیقت یہی وہ لمحہ تھا جب افغانستان کے مستقبل کی پیشانی پر طالبان کا نام کندہ ہوگیا تھا۔ اس لیے اب امریکا اور اس کے اتحادیوں کا بچارے اشرف غنی سے یہ شکوہ بالکل بے جا ہے کہ وہ پندہ اگست کی شام کو کیوں کابل چھوڑ کر بھاگ گیا۔ یہ تو نوشتہئ دیوار تھا اور ظاہر ہے کہ جان بچانا بھی توفرض ہے!


طالبان کی جدوجہد کا چوتھا اور فیصلہ کن مرحلہ 15 اگست کے بعدسے شروع ہوچکا ہے اور شاید یہی سب سے مشکل اور حوصلہ آزما مر حلہ ہے۔ یہ مرحلہ افغانستان میں ایک ایسی مضبوط اور پائے دار اسلامی حکومت کے قیام کا ہے جو افغان قوم کوچار عشروں پر محیط جنگ، خانہ جنگی،غربت،افلاس اور محرومیوں سے نجات دلاکر امن، ترقی،استحکام اور استقلال کی شاہراہ پر گامزن کرسکے۔ اس کی اہمیت صرف افغانستان کے حوالے سے ہی نہیں ہے بلکہ حالیہ تاریخ میں شاید پہلی دفعہ مسلمانوں کو ایک ایسا ملک اور ماحول میسر آگیا ہے جہاں وہ آزادی کے ساتھ اسلامی فلاحی ریاست کا ایک نمونہ اور ماڈل پیش کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی دباؤ کے موجودہ ماحول میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن اگر طالبان نے مذکورہ بالا تین مراحل کی طرح یہاں بھی تدبر سے کام لیا اور اپنی زیادہ توجہ ظواہر کی بجائے افغان عوام کے بنیادی مسائل یعنی بے امنی، غربت، بے روزگاری اور جہالت کے خاتمے اور عدل و انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور امن کی فراہمی پر مرکوز کی تو کوئی وجہ نہیں کہ افغانستان ایک جدید ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ریاست کی شکل میں پوری دنیا کے سامنے ایک مثال نہ بن سکے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , , ,
52274

افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی پر ایک نظر! – قادر خان یوسف زئی

افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی پر ایک نظر! – قادر خان یوسف زئی

افغانستان میں افغان طالبان کی تیزی سے بڑھتی پیش قدمی اور قریباََ پورے افغانستان کا کنٹرول بظاہر’چند ہفتوں‘  میں حاصل کرلینا، دنیا کے لئے باعث حیرت ہے کہ یہ کس طرح ہوگیا ، امریکی صدر بھی شدید تنقید کی زد میں اور انہیں فوجی انخلا کو عجلت کا موجب قرار دے کر موجودہ صورت حال کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔ مغرب میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جنگ تو اربوں ڈالر ز خرچ کئے بغیر نہیں لڑی جاسکتی، تو اس پر مختلف آرا ء اور تھیوریوں سامنے آرہی ہیں کہ افغان طالبان، مبینہ طور پر  افیون کی پیداوار، اسمگلنگ، کان کنی، اغوا برائے تاوان سمیت روس، ایران اور پاکستان سے مالی امداد حاصل کرتے ہوں گے۔ امریکہ تو باقاعدہ روس پر الزام عائد کرچکا کہ مبینہ طور پر افغان طالبان کو جنگی ساز و سامان سمیت مالی مدد بھی دے رہا ہے۔سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ نے بھی اپنے خزانے کھولے تھے بالفرض مبینہ الزام کو مان لیتے ہیں تو جیسی کرنی ویسی بھرنی والا معاملہ ہی سمجھ لیں، ویسے بھی یہ کوئی انہونی بات نہیں، تاہم یقینی طور پر اس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں۔


یہاں ایک نہیں بلکہ کئی سوال اٹھتے ہیں کہ یہ جو امریکی ٹینک و بھاری جنگی ساز و سامان افغان طالبان استعمال کررہے ہیں، ان کے قبضے میں کیسے آئے؟۔ جنگی پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں کے ذخائر غنی انتظامیہ نے دیئے یا ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ نے، اب جو  مکمل افغانستان پر افغان طالبان کی عمل داری کو دنیا تسلیم کرچکی تو وہاں موجود اربوں ڈالر و سونے کی شکل میں ملنے والی بلیک منی و کرپشن سے حاصل، مال غنیمت کیا افغان طالبان کے لئے کافی نہیں۔ اس نکتے کو یہیں تک محدود رکھ دیں کہ افغان طالبان کے لئے رقوم کا حاصل کرنا مشکل کام نہیں تھا اور نہ ہے۔ اب آتے ہیں کہ اتنے جلدی افغانستان ان کے کنٹرول میں کیسے آگیا، یہاں تک کہ ماضی میں سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والے علاقوں میں بھی انہیں جنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور افغان سیکورٹی فورسز سمیت کابل انتظامیہ کے ہمراہ جنگجو گروپوں نے بھی ہتھیار ڈال دیئے، افغانستان کی صورت حال کا مستقل جائزہ لینے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغان طالبان نے اپنی گوریلا وار اسٹریجی ایک مہینے قبل نہیں بلکہ 20 برسوں سے اختیار کی ہوئی ہے، انہوں نے غیر ملکی افواج و افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ جنگجو گروپوں کے ساتھ سخت جھڑپوں کے بعد افغانستان کے پچاس فیصد سے زائد علاقوں پر کئی برس قبل ہی قبضہ کرلیا تھا، یہ باقی ماندہ وعلاقے صرف اس لئے محفوظ تھے کہ امریکہ و نیٹو افواج زمینی جنگ کے بجائے فضائی حملوں میں اندھا دھند بمباریاں کرتے تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے مدر آف آل بمز کا بھیانک تجربہ کسی کے ذہن سے محو نہیں ہوا ہوگا۔ گوریلا  وار دنیا کی سب سے سخت اور دقت آمیزقرار دی جاتی ہے، ویت نام میں امریکہ کو ناکوں چنے چبانے میں گوریلا وار نے ہی اہم کردار ادا کیا تھا۔


اب کچھ حلقوں کے اُن مفروضوں کی جانب بڑھ جاتے ہیں جیسے ہضم کرنے کے لئے اس الزام کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا کہ افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی کی تشریح کرنے والے ان کے حامی ہوسکتے ہیں، تاہم اسے ایک مفروضہ ہی سمجھ لیں کہ اگر افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی سمجھ میں نہ آرہی ہو تو تاریخ میں ایسے ان گنت واقعات درج ہیں کہ ہفتو ں کے اندر اندر کئی حکمرانوں نے فتوحات حاصل کی، ایک ہی مثال سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ الیگزینڈرسکندر اعظم نے آرگنائز آرمی کے ساتھ 10 برسوں میں 17لاکھ مربع میل کا علاقہ قبضہ کیا تھا، جب کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالہ عنہ نے صرف دس برسوں میں دنیا کی دو سپر پاور روم اور ایران کے ساتھ آرگنائز آرمی کے بغیر 22لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کیا۔  الیگزینڈر کا نام صرف کتابوں میں سمٹ کر رہ گیا جب کہ حضر ت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بنائے  نظام دنیا کے 245 ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔  یقین کیجئے کہ صرف جنگی حکمت کے عزم  و جذبے کے حوالے سے موازنہ کرانے کے لئے صرف اُن حقائق کو سامنے رکھنے کی جسارت کی،جس سے سمجھنے میں مدد ملے گی کہ  افغانستان کا کل رقبہ تو صرف 652230   مربع کلو میٹر پر محیط ہے، یہاں تو چار دہائیوں سے جنگ جاری ہے،20برس پنجہ آزمائی کرنے کے بعد امریکہ نے 52ممالک کے ساتھ واپسی کی راہ لی،کیا دنیا دیکھ نہیں رہی کہ پہلے گھوڑے ہوتے تھے جس پر سوار ہوکر فتوحات حاصل کی جاتی تھی آج صرف موٹر سائیکل سواربھاری جنگی ہتھیاروں کے ساتھ اضلاع و دارلحکومتوں پر قبضہ کررہے ہیں۔ امریکہ کے خوف کا یہ عالم کہ پہلے تو اپنی تمام فوج کو واپس بلا لیا، لیکن چند افراد کے لئے تین ہزار سے زائد فوجی دستے دوبارہ کابل بھیج دیئے، کویت میں ڈیرے جما لئے، سمندر میں بحری جنگی بیڑوں کو الرٹ کردیا۔


افغان طالبان کی  جنگی حکمت عملیمیں بادی ئ النظر یہی اسٹریجی نظر آتی ہے کہ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد افغان سیکورٹی فورس میں شامل ہوئے،”بلیو و گرین وار“  اس حکمت عملی کی توثیق کرتی ہے۔ جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور پھر 52ممالک اور سپر پاور امریکہ کی شکست کے بعد واپسی نے افغان عوام سمیت افغان فوجیوں کے دل و دماغ میں افغان طالبان کو تسلیم کرنے کا رجحان کو بڑھایا۔ افغان طالبان نے معروف جنگجوؤں کو عام معافی کے اعلان میں عزت کے ساتھ جان کی امان دے کر اپنی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ کابل انتظامیہ نے افغان عوام کو نسلی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی، لیکن مزار شریف جیسے شہروں اور تمام بارڈر کراسنگز  پر قبضے نے ثابت کردیا کہ افغان عوام اب طویل جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
 کیا دنیا یہ نظارے نہیں دیکھ رہی کہ جہاں جہاں افغان طالبان جاتے ہیں عوام اُن سے گھل مل جاتے ہیں، ان کے ساتھ بنا خوف و ڈر سیلفی بناتے ہیں، امریکی ٹینکوں پر جشن مناتے ہیں، کیا یہ افغان طالبان کے خلاف مزاحمت نہیں کرسکتے تھے، کیا یہ افغانی نہیں ، ایسا نہیں ہے، افغانی صرف امن چاہتے ہیں، جو انہیں ایک مضبوط اور طاقت ور قیادت کی صورت میں مل سکے، فی الوقت تو افغان جنگ میں بھرپور مسلح مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ ضرور ہے کہ کابل انتظامیہ اور ان کے جنگجوؤں نے عوام میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کیا کہ وہ بعض علاقوں سے نقل مکانی  کرچکے، اور خود بھی فرار ہوگئے، لیکن ان کی جلد واپسی ہوگی کیونکہ وہاں تو افغان سیکورٹی فورسز نے بنا لڑے ہتھیار ڈال دیئے، جسے عوامی ریفرنڈم بھی کہا جاسکتا ہے،  اب کسیبڑی جنگ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اس لئے دنیا کو بھی دیکھنا چاہے کہ جن جن علاقوں میں افغان طالبان گئے وہاں عوام نے ان کا استقبال کرکے انہیں تسلیم کیا۔ پھر جبر کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔افغان عوام کے فیصلوں کو دنیا کو بالاآخر تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ یہی سب کے حق میں بہتر ہے۔ ( با شکریہ جہان پاکستان  )

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
51571

افغان طالبان کے قدموں کی آہٹ …. قادر خان یوسف زئی کےقلم سے

وطن عزیز سماجی امتحان، سیاسی آزمائش، اقتصادی چیلنجز سمیت خطے میں موجود کئی طوفانوں سے نبرد آزما ہے۔ افغان طالبان کے قدموں کی چاپ پاک۔افغان چمن بارڈر پر سنی ہی نہیں بلکہ پیش قدمی دیکھی بھی گئی کہ عید الاضحی سے قبل انہوں نے اسپین بولدک پر قبضہ کرلیا۔ یہ پاکستان کے لئے نہایت اہمیت کے حامل کا باعث بنا، باب دوستی پر افغان طالبا ن کے پرچم لہرائے جانیپر سرحد سیل کرکے اضافی فورسز تعینات کردی گئی۔ اسی دوران برطانیہ کی جانب سے دلچسپ بیان سامنے آیا کہ اگر افغان طالبان نے افغانستان کا کنڑول سنبھال لیا تو وہ ان کے ساتھ بھی کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔

یہ حقیقی معنوں میں غنی اتحادیوں کے لئے غیر متوقع دھچکا ہوگا، گر ایسا کچھ بھی ہوا۔ اس تبدیلی کی بنیاد ی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں لیکن اس کی اہم وجہ کابل انتظامیہ کی ساڑھے تین لاکھ فوج، ہزاروں جنگجو ؤں کی ملیشیا اور داعش کا افغان طالبان کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکامی قرار دیا جارہا ہے کہ ٹریلین ڈالر کے اخراجات و فوجی تربیت لینے کے باوجود افغان سیکورٹی فورسز اپنے زیر کنٹرول علاقوں کا دفاع تک نہیں کرپائیں۔ افغان طالبان کی پیش قدمی کی رفتار میں تیزی کی ایک وجہ فضائی حملوں کی اُس لہر کا کم ہونا ہے جو امریکی و نیٹو فورسز کی جانب سے تواتر کئے جاتے تھے،

غیر ملکی افواج کو فضائی برتری حاصل تھی لیکن اصل جنگ زمین یا مذاکرات کی ٹیبل پر ہی لڑی جاتی ہے۔ افغانستان میں مغربی نظام کو قابل قبول بنانے کے لئے امریکہ اور اتحادیوں کی کوششیں تاحال جاری ہیں، جب کہ افغان طالبا ن نفاذ شریعت کو نافذ کرنا اپنا مقصد قرار دیتے ہیں، افغانستان کی سرزمین پر کون سا نظام ہونا چاہے اور اس کے خدوخال کیا ہوں، اس حوالے سے دنیا افغانیوں کو مشورہ تو دے سکتی ہے لیکن ان پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرسکتی۔ اس وقت دنیا میں جن جن ممالک میں جو بھی نظام حکومت رائج ہے وہ کسی دوسرے ملک کے نظریات و ثقافت کی وجہ سے اختلافات کا شکار ہے اور کسی بھی ملک کے نظام و انصرم کو اس وقت رول ماڈل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اس کے مثبت اثرات ظاہر نہ ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ امیر ممالک میں دولت کی فروانی کی وجہ سے صورت حال ترقی پذیر ممالک سے مختلف ہے،

لیکن ایسے کئی مغربی ممالک ہیں جہاں آج بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، جرائم کی شرح زیادہ ہے، خواتین کو حقوق سے محرومی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جنسی بے راہ روی سمیت عدم برداشت با افراط ہے۔ پاکستان میں بھی نفاذ شریعت کے نام پر ریاست ے ساتھ معاہدہ ہوا تھا، اگربات صرف سرحدی علاقوں یا پختون قوم بشمول افغانی عوام کی جائے تو ان میں روایات و ثقافت کی جڑیں سیکڑوں برسوں سے اس قدر واثق ہیں کہ روایتی طور پرفوری و سستے انصاف کے ساتھ ساتھ ایسے سخت گیر قوانین اوررسومات بھی رائج ہیں جو قبل از اسلام سے چلی آرہی ہیں، تاہم دنیا کاکوئی بھی ملک اپنے انسانی نظام کو دین اسلام سے بہتر ثابت نہیں کرسکتا، لیکن یہ ضرور ہے کہ منفی پروپیگنڈا محاذ نے جہاں اسلام کے زریں قوانین اور اصولوں کو کو اوجھل رکھا ہوا ہے تو وہیں اس میں زیادہ قصور قدامت پسند طبقات کا بھی ہے،آپسی اختلافات میں عدم برداشت کے رجحان کی وجہ سے مخالفین کے پروپیگنڈوں کو تقویت ملتی رہی جس کا نقصان مسلم امہ کو یکساں اٹھانا پڑتا ہے۔

افغان طالبان افغانستان میں جو نظام چاہتے ہیں اگر عوام کو قبول نہیں تو وہ کبھی بھی نافذ نہیں کرسکتے، جنگجو خو بو افغانیوں کی روح میں رچی بسی ہے، افغان تاریخ کے مطالعے میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ غیر ملکی حملہ آور آتے رہے، قبضہ کرنے کی کوشش میں کئی کئی دہائیاں لگا دیں لیکن ان سب کا نتیجہ ایک ہی رہا کہ وہ اپنی مرضی کا نظام زیادہ عرصے تک افغانیوں پر مسلط نہیں کرسکے۔ چمن بارڈر سے قبل پشاور میں افغان طالبان کے حامیوں کی موجودگی اور حمایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان مہاجرین میں انہیں اندازوں سے زیادہمقبولیت حاصل ہے، چونکہ پاکستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین رہ رہے ہیں اور افغانستان کے حالات پر عام پاکستانی سے زیادہ ان کی نظر ہے، اس لئے سمجھنا ہوگا کہ انہیں علم ہے کہ چار دہائیوں میں سوویت یونین،امریکہ سمیت پچاس ممالک کی افواج افغان سرزمین میں وہ امن قائم کرنے میں ناکام رہیں جو افغان طالبان نے صرف پانچ برس میں قائم کردیا تھا۔

اس زمینی حقیقت کو ناقدین جو بھی نام دیں لیکن اس سچائی کو جھٹلا نہیں سکتے کہ چار دہائیوں میں سب سے زیادہ بہترامن کا دور افغان طالبان کا ہی رہا ہے، یہ ضرور ہے کہ ان کی سخت گیری سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن آج کا افغان طالب، ماضی کے مقابلے میں دور جدید کے تقاضوں، سیاست و سفارت کاری کے تقاضوں کو سمجھتا ہے، افغان طالبان کی قیادت بخوبی جان چکی کہ جنگ و امن میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہے، دنیا سے بہتر تعلقات استوار کرنے کے لئے انہیں عبوری دور کے تقاضوں کے تحت کچھ معاملات میں مصلحت سے بھی کام لینا ہوگا، جس کے لئے افغان طالبان کی سیاسی و عسکری قیادت ذہنی طور پر تیار بھی نظر آتے ہیں۔ افغان طالبان، پاک۔ افغان سرحدی علاقے اسپین بولدک سے قبل دیگر پڑوسی ممالک کے سرحدی گذر گاہوں کا کنٹرول بھی سنبھال چکے اور یقین دہانی بھی کراتے نظر آئے کہ پڑوسی ممالک کو تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہے،

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے مخالفین کی بڑی تعداد نہیں چاہتی کہ ان پر افغان طالبان حکومت کریں، اسے نسلی تناظر میں دیکھا جانا چاہے کیونکہ یہ افغان سرزمین کی روایت رہی ہے کہ نسلی و گروہی بنیادوں پر قبائل ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کرتے رہتے ہیں، فرقہ وارنہ یا مسلکی تناظر میں اختلافات کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس لئے مسلکی بنیادوں پر افغانیوں کے درمیان جھڑپیں، نسلی بنیادوں پر خانہ جنگی سے کم ہی متوقع ہیں۔افغان جنگ میں تذیرواتی تبدیلی پر مختلف قیاس آرائیاں اور پیشگوئیوں کا نہ رکنے والا ایک سلسلہ جاری ہے، یہ ایک فطری عمل ہے کیونکہ خطے کا پورا نقشہ بدلنے جارہا ہے اور دنیا کی نظریں افغانستان سمیت اس کے تمام پڑوسی ممالک پر ہیں، بالخصوص پاکستان پر تو دوست دشمن سب ہی ٹکٹکی باندھے بیٹھے ہیں، لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ماضی کی غلطیوں یا حکمت عملی دہرانا نہیں چاہتا، کیونکہ ریاست اچھی طرح جانتی ہے کہ کسی بھی غلط قدم اٹھنے کے مضمرات کس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
50638

افغاستان کو منقسم کرنے کے منصوبے؟………. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

سابق صدر آصف زرداری نے اگست  2010 میں فرانسیسی اخبار Le Monde کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ”اتحادی افواج، افغانستان میں (افغان) طالبان کے خلاف جنگ میں شکست کھارہی ہیں، اس جنگ میں دنیا کو متحد ہونا چاہیے نہ کہ تقسیم۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ (افغان) طالبان کا افغانستان میں برسراقتدار آنے کا امکان نہیں ہے تاہم ان کی گرفت پہلے سے مضبوط ہے‘ یہ بات سب سے اہم ہے کہ ہم لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی جنگ میں شکست کھا رہے ہیں‘ امریکی اور اتحادی افواج نے افغانستان کے زمینی حقائق کا غلط اندازہ لگایا ہے‘ صرف طاقت کے استعمال سے جنگیں نہیں جیتی جاسکتی“۔  افغان جنگ پر امریکہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سابق صدر کے موقف کو رد کردیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا تھا کہ،  ’میرا نہیں خیال کہ صدر اوباما، صدر زرداری کے موقف سے اتفاق کریں گے۔‘


11 برس بعد وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر کے موقف کی ایک طرح سے توثیق کی کہ پاکستان نے امریکہ کا ہمیشہ ساتھ دیا لیکن اس نے ہمیشہ ہمیں ہی بُرا کہا۔ سابق صدر زرداری نے مستقبل کی  پیش گوئی کرتے ہوئے بتا دیا تھا کہ امریکہ اور نیٹو زمینی حقائق کے برعکس عمل پیرا ہیں، زمینیوں کو فتح کرنے کے بجائے اگر دلوں کو فتح کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی تو آج امریکہ کو بدترین شکست کا سامنا نہ ہوتا۔ وزیراعظم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو دیئے انٹرویو اور اپنے آرٹیکل میں دو ٹوک موقف دیا کہ امریکہ کو اب کوئی فضائی اڈا نہیں ملے گا اور افغان طالبان کے خلاف بھی کوئی فوجی کاروائی نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے واضح پالیسی بیانیہ امریکی رویئے کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا ، خیال رہے کہ راقم نے11جون کو’روزنامہ جہان پاکستان‘میں شائع اپنے کالم میں وزیراعظم سے امریکہ کو فضائی اڈے دینے  کی افواہوں پر واضح پالیسی بیان دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا۔

21جون کو وزیراعظم نے عالمی نشریاتی ادارے میں بالاآخر پالیسی بیان دے دیا، جس سے غیر مبہم پالیسی واضح و افواہوں کا  قریباََخاتمہ ہوا۔ حزب اختلاف کی تنقید اپنی جگہ اب بھی برقرار لیکن  وزیراعظم کیپالیسی بیان کے بعد حکومتی وزرا ء، سفارتی حکام نے بھی کھل کر موقف کا اظہار کیا، گو کہ اس سے قبل ان کی وضاحتیں آتی رہیں لیکن وہ شکوک میں مزید اضافہ کردیتیں، اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے خصوصی ان کیمرا اجلاس بلانے کی بھی بات کی گئی، سینیٹر شیری رحمان و حنا ربانی کھر کا  موقف بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے کردار کو دیکھتے ہوئے موجودہ بات چیت کے نتائج میں پاکستان کا کیا حصہ ہوگا، نیز پاکستان افغانستان کے مستقبل کے متعدد ممکنہ منظر ناموں کے لئے کیسے تیاری کررہا ہے۔


سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دور اقتدار میں جن خدشات پر کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا تھا آج مکمل طور پر موجودہ صورت حال اسی بے یقینی کی عکاسی کررہی ہے۔ ذرائع کے  مطابق افغانستان میں نسلی و فرقہ وارنہ بنیادوں پر مسلح جنگجو گروپوں میں بھرتی  کا عمل شروع ہے، جس سے خطرہ ہے کہ پشتون اور دیگر نسلی اکائیاں آبادی کی تناسب سے انتظامی طور پر تقسیم  ہوسکتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں پشتونوں کی آبادی42 سے 48 فیصد اور دیگر نسلی اکائیوں کی تعداد بالخصوص تاجک کی20 سے 25 فیصد،جبکہ ہزارہ،ازبک، ایماق، ترکمانستان، بلوچ،پاشایی، نورستانی، عرب، براہوی، پامیری، گرجر، وغیرہ کی تعداد کم و بیش  30سے  33فیصد ہے۔ عالمی قوتیں سمجھتی ہیں کہ افغان طالبان کا اثر رسوخ و قبضہ پشتون خطے میں زیادہ ہے اور غیر پشتون علاقوں میں دیگر مسلح جنگجو ملیشیاؤں کا  نفوذہے اس لئے گمان  یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ نظام و انصرام کا حتمی فیصلہ نہ ہونے  سے خانہ جنگی کا بڑا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ تقسیم کے منصوبے پر افغانستان میں نسلی و سیاسی اکائیوں پر مشتمل اتحادی (عبوری) حکومت بنانے کا مسودہ دیا گیا، لیکن افغان صدر نے امریکی  مسودے کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔

حالیہ دورے میں صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر بھرپور کوشش کی کہ اتحادی افواج کے انخلا ء کو روکا جاسکے، لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی، تاہم امریکی حکام نے اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لئے650 فوجیوں کے تعیناتی برقرار رکھنے کی خبر پر افغان طالبان نے سخت ردعمل دیا،  جس سے خدشات ابھر کر سامنے آئے ہیں کہ اگر کابل ائیرپورٹ پر ترکی اور کابل کے مرکز میں امریکی تعینات رہیں گے تو غیر ملکی افواج سے تصادم کا خطرہ بھی موجود رہے گا جس سے اافغانستان میں امن کے کسی فارمولے پر بات چیت کی کامیابی کے امکانا تمعدوم ہوجائیں گے، تاہم بقول ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، کہ افغان طالبان سے اُس وقت تک مذاکرات کئے جائیں جن تک وہ خود انکار نہیں کردیتے۔


یہ ایک بڑی پیچیدہ صورت حال ہے جس کا اس وقت افغانستان کے علاوہ پاکستان کو بھی سامنا ہے، کیونکہ کسی بھی غیرمتوقع صورت حال میں مملکت کو نئی آزمائشوں سے گذرنا ہوگا، خدانخواستہ خانہ جنگی ہوتی ہے تو مہاجرین کا بڑا ریلا مزید پاکستان ہجرت کرے گا اور ان میں ملک دشمن عناصر چھپ کر آسکتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے، پاک۔ افغان بارڈر منجمنٹ سسٹم امریکی انخلا تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان ہنگامی حالات میں اپنی سرحدیں سیل کرنے کی استعداد بروئے کار لا سکے گا، لیکن افغان مہاجرین کے نئے ریلے میں انتہا پسندوں کی پہچان دشوار گذار عمل ہوگا، مہاجرین کی آمد کو عالمی قوانین کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا، اقوام متحدہ کے دباؤ پرمہاجرین کی آمد پر پابندی عاید کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

ان حالات میں پاکستا ن کو تین اطراف سے ملک دشمنو ں  سے بھی لڑنا ہوگا اور امریکہ کو فضائی اڈے اور افغان جنگ میں حصہ نہ بننے کے پالیسی بیان کے بعد ناراضگی و دوریاں مزید بڑھ جانے سے فیفٹ کی طرح نت نئے مطالبات اور ڈو مور کا سامنا رہے گا۔ جس کا مقابلہ و سامنا کرنے کے لئے قبل ازوقت ایک مشترکہ حکمت عملی بنائے جانا ضروری ہے۔ بقول سابق صد’ر ہم لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی جنگ میں شکست کھا رہے ہیں‘۔  سیاسی و دفاعی موثر حکمت عملی کے لئے ریاست کو پارلیمنٹ کے اندر و باہر تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلانے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، پارلیمانی جماعتوں کو ان کیمرہ بریفنگ پہلے بھی دی جاتی رہی ہے، باالفاظ دیگر ’عوام‘ کو اعتماد میں لینا ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49690