The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 25 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

افغانستان کی جانب سے سرحدی تناؤ؛ ارندو کے امن پر اثرات – تحریر! احسان الحق

افغانستان کی جانب سے سرحدی تناؤ؛ ارندو کے امن پر اثرات – تحریر! احسان الحق

چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں گزشتہ روز افغان طالبان فورسز کی طرف سے فائرنگ  نے مقامی آبادی اور پورے علاقے کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔تاہم پاکستان کی طرف سے موثر جوابی کاروائی کی گئی، اور  یہ جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اطلاعات کے مطابق اس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی طرف سے لگائے گئے باڑ کی مرمت میں مداخلت تھی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک افغان سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس کے اثرات صرف سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ مقامی عوام کی روزمرہ زندگی، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

ارندو، چترال کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور پاکستان کی آخری سرحدی پٹی شمار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے صوبہ کنڑ کے علاقے بریکوٹ اور دوکلام جبکہ دوسری جانب نورستان کی سرحدیں جڑتی ہیں۔ یہاں رہنے والے لوگ ایک ہی زبان بولتے ہیں، ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ خونی رشتوں اور ثقافتی ہم آہنگی میں بندھے ہوئے ہیں۔ سرحد کی لکیر نے ان رشتوں کو تقسیم ضرور کیا ہے، مگر سماجی اور خاندانی روابط آج بھی قائم ہیں۔

chitraltimes arandu border area students fancing 4

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، 1893 کے معاہدے کے تحت قائم ہوئی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بارڈر ہے، جبکہ افغانستان نے ہمیشہ اس کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہی یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی بڑی وجہ رہا ہے۔ پاکستان نے 2017 میں اپنی نیشنل سیکیورٹی کے پیش نظر 2600 کلومیٹر طویل اس سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا اور 2021 تک یہ عمل مکمل کر لیا۔ افغان حکومتوں نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی اور کئی مواقع پر سرحد پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس بار جھڑپ اس وقت ہوئی جب پاکستان نے قدرتی آفات کے باعث متاثر ہونے والی باڑ کی مرمت شروع کی۔ افغان طالبان نے اس عمل کو روکنے کی کوشش کی اور فائرنگ کا آغاز کیا جس پر پاکستانی فورسز نے بھرپور جواب دیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی یہ کشیدگی مقامی آبادی کے لیے خوف و ہراس کا باعث بنی۔ ارندو کے پاکستانی جانب اور دوکلام و بریکوٹ کے افغان جانب رہنے والے لوگ براہ راست اس فائرنگ کی زد میں آئے۔ گھروں سے نکلنا محال ہوگیا اور لوگ محصور ہو کر اپنی جانیں بچانے پر مجبور ہو گئے۔

chitraltimes arandu border area students fancing 6

اس قسم کی کشیدگی کا سب سے پہلا اثر سماجی زندگی پر پڑتا ہے۔ بارڈر کے دونوں طرف خاندان ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ رشتے جو صدیوں سے قائم ہیں کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے ذہنوں میں مسلسل خوف بیٹھ جاتا ہے کہ کسی بھی وقت دوبارہ فائرنگ شروع ہو سکتی ہے۔ بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ اسکول بند کر دیے جاتے ہیں اور والدین اپنے بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔

مزید برآں صحت کے شعبے پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ کشیدگی کے دوران مریض اور زخمی ہسپتال نہیں پہنچ پاتے، ایمبولینسوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہوتی، اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم لوگ بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورت حال خواتین اور بچوں کے لیے مزید کٹھن بن جاتی ہے۔

ارندو اور اس کے گردونواح کی معیشت ماضی میں زیادہ تر سرحدی تجارت اور مزدوری پر انحصار کرتی تھی۔ لوگ چھوٹے پیمانے پر اشیائے خوردونوش، مویشی اور دیگر سامان دونوں طرف سے لاکر بیچتے اور اپنی روزی کماتے تھے۔ لیکن باڑ لگنے اور بارڈر کی بندش کے بعد یہ تجارت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ اب مقامی آبادی کے پاس محدود وسائل ہیں اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غربت اور بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور لوگ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

chitraltimes arandu border area students fancing 1

اس علاقے میں بسنے والے لوگ دہائیوں سے جنگ اور کشیدگی کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ سرحدی جھڑپیں ان کے لیے نئی نہیں، مگر ہر واقعہ ان کے زخم تازہ کر دیتا ہے۔ بارڈر کے قریب رہنے والے خاندان جب فائرنگ کی زد میں آتے ہیں تو ان کے پاس نہ تو پناہ گاہیں ہوتی ہیں اور نہ نقل مکانی کے وسائل۔ وہ اپنی جان بچانے کے لیے محصور ہو کر دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔

مسئلہ صرف ارندو یا چترال تک محدود نہیں۔ پاک افغان سرحد پر کشیدگی کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر بارڈر پر امن قائم نہ رہا تو یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ دوسری جانب افغانستان میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اندر بھی سیکیورٹی چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔ یہ جھڑپیں دہشت گرد گروپوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی میں ہے۔ سب سے پہلے مقامی سطح پر امن کمیٹیاں قائم کی جائیں جن میں دونوں طرف کے مشران، علمائے کرام اور عوامی نمائندے شامل ہوں تاکہ کشیدگی کے وقت فوری ثالثی کی جا سکے۔ بارڈر ٹریڈ کے خاتمے نے مقامی لوگوں کو شدید معاشی دباؤ میں ڈال دیا ہے، اس لیے حکومت کو متبادل روزگار کے ذرائع پیدا کرنا ہوں گے۔ ارندو جیسے مقامات پر چھوٹے پیمانے کی انڈسٹری، زراعت اور مقامی دستکاریوں کو فروغ دے کر روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے۔

chitraltimes arandu border area students fancing 2

مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی جائے۔ اگر ان علاقوں میں اسکول، ہسپتال اور سڑکیں بہتر ہوں تو عوام کو احساس ہوگا کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو ایک باضابطہ سیکیورٹی ڈائیلاگ شروع کرنا چاہیے جو صرف فوجی سطح تک محدود نہ ہو بلکہ عوامی سطح پر بھی رابطے بڑھائے جائیں تاکہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے جا سکیں۔ دونوں حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے سنیں اور درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں تاکہ نہ صرف سیکیورٹی یقینی ہو بلکہ انسانی اور معاشرتی پہلو بھی نظرانداز نہ ہوں۔

ارندو میں حالیہ کشیدگی ایک مقامی واقعہ ضرور ہے مگر یہ پورے خطے کے امن و استحکام پر سوالیہ نشان ہے۔ بارڈر پر رہنے والے لوگ پہلے ہی معاشی و سماجی مشکلات کا شکار ہیں، اب مزید کشیدگی ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور بارڈر کے مسئلے کو صرف فوجی نقطہ نظر کے بجائے انسانی، سماجی اور معاشی پہلوؤں سے بھی دیکھیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے

احسان الحق
ایم- فل اسکالر
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد۔

chitraltimes arandu border area students fancing 3

chitraltimes arandu border area students fancing 5

chitraltimes ihsanul haq arandu

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
114462