اطالوی سیاست اور اسلاموفوبیا کی نئی قسط – از قلم: نجیم شاہ
اطالوی سیاست اور اسلاموفوبیا کی نئی قسط – از قلم: نجیم شاہ
روم کی گلیوں میں ایک نیا تماشا شروع ہوا ہے۔ ایک اطالوی انجینئر، جو برسوں پہلے اسلام قبول کر کے عبدالحق بن گئے، نے چند ہم خیال افراد کے ساتھ ایک چھوٹا سا گروپ بنایا ہے۔ نہ منشور، نہ کوئی سیاسی ڈھانچہ، لیکن میڈیا نے ایسے شور مچایا ہے جیسے کل صبح سورج طلوع ہوتے ہی روم میں برقعے اور شرعی عدالتیں کھڑی ہوں گی۔ یہ وہی پرانا کھیل ہے، خوف بیچو، نفرت بیچو، اور عوام کو یقین دلاؤ کہ اُن کی آزادی خطرے میں ہے۔
یہ ڈرامہ نیا نہیں۔ یورپ میں اسلاموفوبیا ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ کبھی مسجدوں کو ہدف بنایا جاتا ہے، کبھی حجاب کو، اور کبھی کسی مسلمان سیاستدان کو۔ حالانکہ اٹلی میں مسلمان آبادی نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن میڈیا کے لیے یہ چھوٹی سی اقلیت ایک بڑے خطرے کا ڈھول بجانے کے لیے کافی ہے۔ عوامی ذہنوں میں یہ تاثر بٹھا دیا جاتا ہے کہ شریعت کا مطلب کوڑے اور سنگسار ہے، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔
شریعت دراصل اُصول و ضوابط کا نام ہے۔ جیسے ہر مذہب اپنے ماننے والوں کو عبادات اور اخلاقیات کے اُصول دیتا ہے، ویسے ہی اسلام بھی اپنے ماننے والوں کو روزمرہ زندگی کے رہنما اُصول دیتا ہے۔ صفائی، عبادات، والدین کے حقوق، پڑوسیوں کے ساتھ سلوک، وراثت کی تقسیم، نکاح و طلاق کے ضابطے — یہ سب شریعت کا حصہ ہیں۔ لیکن میڈیا کو یہ سب دکھانے میں دلچسپی نہیں، اُنہیں صرف وہ چند سزائیں یاد رہتی ہیں جنہیں وہ خوفناک بنا کر پیش کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شریعت کا پچانوے فیصد حصہ فرد کی ذاتی زندگی اور اخلاقی تربیت سے متعلق ہے، اور صرف پانچ فیصد حصہ سزاؤں سے متعلق ہے۔ دُنیا کے ستاون اسلامی ممالک میں بھی یہ پانچ فیصد قوانین مکمل طور پر نافذ نہیں ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام ریاستی نمائندوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے معاملات مشاورت سے طے کریں۔اصل مقصد یہ ہے کہ اجتماعی فیصلے عقل، انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ کیے جائیں۔ لیکن یہ بات میڈیا کے لیے بے معنی ہے، کیونکہ خوف زیادہ بکتا ہے۔
ذرا مغربی دُنیا کے منتخب مسلمان رہنماؤں کو دیکھ لیجیے۔ لندن میں صادق خان تین بار میئر منتخب ہوئے، نیویارک میں زہران ممدانی عوامی نمائندے ہیں۔ کیا اُنہوں نے کوئی ایسا قانون نافذ کیا جو عوامی مشاورت کے بغیر ہو؟ نہیں۔ یہ مثالیں صاف بتاتی ہیں کہ شریعت کا نفاذ کوئی بیرونی جبر نہیں بلکہ عوامی رضامندی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ لیکن پروپیگنڈے کے سوداگر یہ حقیقت کبھی نہیں بتاتے۔
اگر آسان لفظوں میں سمجھنا ہو تو شریعت وہی اُصول ہیں جو ہر گھر میں نانی اماں بچوں کو سمجھاتی ہیں: جھوٹ نہ بولنا، چوری نہ کرنا، بڑوں کا ادب کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا۔ یہی اصول جب مذہب کے ذریعے بیان کیے جائیں تو اُنہیں شریعت کہا جاتا ہے۔ لیکن مغربی میڈیا نے اِس لفظ کو خوف کی علامت بنا دیا ہے، حالانکہ یہ دراصل اخلاقیات کا دُوسرا نام ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسیحی اور یہودی عربی بھی اپنے مذہبی اُصولوں کو ’’شریعت‘‘ ہی کہتے ہیں۔ لیکن کبھی کسی مسیحی جماعت پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ وہ ’’عیسائی شریعت‘‘ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تعصب صرف مسلمانوں کے خلاف دکھایا جاتا ہے، اور اِس کا مقصد صرف ایک ہے: عوام کو بانٹنا اور نفرت کو بڑھانا۔
روم میں شریعت کے نام پر جو خوف بیچا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے زیادہ فسانہ ہے۔ یہ پروپیگنڈہ نہ صرف مسلمانوں کو بدنام کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اصل ضرورت اِس بات کی ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ شریعت کوئی خوفناک کوڑا نہیں بلکہ اخلاقی اُصولوں کا مجموعہ ہے، جو انسان کو بہتر شہری اور بہتر پڑوسی بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ لیکن افسوس، میڈیا کے بازار میں اخلاقیات نہیں، صرف خوف کی بولی لگتی ہے۔
