The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 23 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اسکردو؛ دنیا کی بلند ترین ایئرپورٹ سے برف ہٹاکر پروازوں کیلئے مکمل فعال ہوگیا

اسکردو ( چترال ٹائمز رپورٹ ) اسکردو میں دنیا کا بلند ترین ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا‘ ایئرپورٹ پر6 انچ برف پڑنے سے رن وے اور اپرن ایریاز مکمل بند تھے‘ ہنگا می بنیاد پر8 گھنٹوں میں رن وے اور اپرین ایریاز کو کلیئر کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسکردو ایئرپورٹ کا رن وے برف باری کے باعث بند تھا جسے اب صاف کردیا گیا ہے اور دنیا کے بلند ترین اسکردو ایئرپورٹ کے رن وے کو کلیئر کردیا گیا ہے۔اس ضمن میں ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر 6 انچ برف پڑنے سے رن وے اور اپرن ایریاز مکمل بند تھے تاہم ہنگا می بنیادوں پر8 گھنٹوں میں رن وے اور اپرین ایریاز کو کلیئر کیا گیا، جس کے بعد ایئرپورٹ ایک بار پھر مکمل فعال ہوگیا ہے، ایئرلائن کی جانب سے موسم کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فلائٹ آ پریٹ کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب معروف بین الاقوامی ایئر لائن فلائی دبئی نے اسکردو کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی درخواست دے دی، فلائی دبئی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو اسکردو میں فلائٹ آپریشن شروع کرنے کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، اس سلسلے میں سول ایوی ایشن کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فلائی دبئی پاکستان سول ایوی ایشن اور دبئی سول ایوی ایشن سے منظوری کے بعد اسکردو کے لیے باقاعدہ آپریشنز شروع کر سکے گی، بین الاقوامی فلائٹ آپریشنز کا آغاز ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔خیال رہے کہ ملک کے بین الاقوامی شہرت کے حامل سیاحتی شہر اسکردو کے ائیرپورٹ کو بین الاقوامی ائیرپورٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے اسکردو ایئرپورٹ کو بین الاقوامی معیار کے ہوائی اڈے کا درجہ دینے کا اعلان کیا، کیوں کہ اسکردو ائیرپورٹ کو اپ گریڈ کیے جانے کے بعد بیرون ممالک سے پروازوں کی براہ راست اسکردو آمد ممکن ہو گئی ہے، ائیرپورٹ کی اپ گریڈیشن سے اسکردو پاکستان میں عالمی پروازوں کے روٹس سے جڑ جائے گا، اس اقدام کی بدولت عالمی پروازوں کی آمد سے سیاحت کو فروغ اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے تحت اسکردو ایئرپورٹ معاہدوں کے تحت نامزد غیر ملکی ائیرلائنز کے لیے دستیاب ہوسکتا ہے۔

skardu airport snowfall


حکومت پنجاب کا سانحہ مری میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے مالی امداد کا اعلان


لاہور(سی ایم لنکس)حکومت پنجاب نے سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کو 8،8 لاکھ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اہم اجلاس میں ہوا، جس میں صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت، ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور، چیف سیکرٹری پنجاب، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، کمشنر راولپنڈی اور آئی جی پنجاب نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سانحہ مری میں جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مری میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے 17 کروڑ 60 لاکھ روپے منظور کیے گئے جس کے تحت سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام 22 افراد کو فی کس 8 لاکھ روپے دیئے جائیں گے جب کہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے فوری مالی معاونت 1 کروڑ 76 لاکھ روپے کا اعلان کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کی بارشوں میں جان کی بازی ہارنے والے افراد کیلئے بھی مجموعی طور پر 3 کروڑ 35 لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں سانحہ کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا، اور فیصلہ کیا گیا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سربراہی میں اعلی سطحی انکوائری کمیٹی بنائی جائے گی، کمیٹی 7 دنوں میں غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کرے گی اور 7 دنوں میں ہی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں مری کا انتظامی ڈھانچہ فی لفور اپ گریڈ کرنے اور مری کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ مری میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو فوری تعینات کرنے اور ٹریفک جام کی وجوہات بننے والی سڑکوں کے چھوٹے لنکس فی لفور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

chitraltimes Mari incident 22 dies tourists 21
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
57102

اسکردو انٹرنیشنل ائرپورٹ کا افتتاح؛ گلگت بلتستان میں سیاحت کو مذید فروع ملیگا، وزیراعظم

سکردو( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے پسماندہ اور نظر انداز کئے گئے علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیح ہے،سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اوربہتر سڑکوں کی تعمیر سے مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کوسہولت ملنے سے گلگت بلتستان میں سیاحت کو مزید فروغ ملے گااور علاقے میں اقتصادی خوشحالی آئے گی، پاکستان کی متنوع اور دلکش مقامات کی حامل سیاحت پاکستان کا اثاثہ بن سکتا ہے،سیاحت کے شعبہ میں گلگت بلتستان سے سالانہ 30 سے 40 ارب ڈالرحاصل کئے جاسکتے ہیں اور مقامی لوگوں کو روزگار کے وسیع مواقع بھی میسرآئیں گے۔

جمعرات کو یہاں سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سٹریٹیجک جگلوٹ سکردو روڈ کے افتتاح کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو اوپر نہیں اٹھایا جاتا۔جب اقتدارسنبھالا تو اس وقت ہماری کوشش تھی کہ گلگت بلتستان، بلوچستان، سابق فاٹا، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سمیت دور درازاور پسماندہ علاقوں کو دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لائیں۔ یہاں پر غربت کی نچلی لکیر سے لوگوں کو نکالیں کیونکہ جس معاشرے میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو یہ معاشی ناانصافی ہے۔کسی معاشرے میں خوشحالی کا اندازہ وہاں کے امیرلوگوں کی زندگی دیکھ کرنہیں بلکہ غریبوں کے رہن سہن کو سامنے رکھ کر لگایا جاتاہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک سے غربت کی کمی کے لئے پوری طرح کوشاں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں جب 2013 میں ہماری حکومت آئی تو اس وقت وہاں سب سے زیادہ دہشت گردی سے تباہی ہوئی تھی۔لوگوں کی حفاظت کی ذمہ دار پولیس کے خود اپنے 700 اہلکار شہیدہوئے۔یو این ڈی پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2013 سے 2018 تک ہماری حکومت کے دوران خیبر پختونخوامیں تیزی سے غربت کم ہوئی۔ ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت کے پانچ سال پورے ہوں تو پیچھے رہ جانیوالے علاقے تعمیر و ترقی میں اوپر آئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ سکردو میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بن گیا ہے۔ وقت ثابت کرے گاکہ سکردو کے ایئرپورٹ کے انٹرنیشنل بننے سے یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ میں نے ساری دنیا کے حسین مقامات دیکھے ہیں اور یقین سے کہہ سکتا ہو ں کہ دنیا کے سب سے خوبصورت پہاڑی سلسلے گلگت بلتسان میں ہیں۔پہلے ان علاقوں میں آنا مشکل تھا،بیرون ملک سیآنے والے سیاح پہلے کراچی یا اسلام آباد آتے تھے۔ جہاں موسم کی خرابی کی وجہ سے پروازیں کئی کئی دن تاخیر کا شکارہوتی تھیں لیکن اب بیرون ملک سے براہ راست پروازوں سے بڑی تعدادمیں سیاح یہاں آ سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سڑکیں بہتر ہونے سے اندرون ملک گرم علاقوں کے لوگ بھی یہاں کا رخ کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ 30 سال پہلے سکردو جگلوٹ روڈ پر سفر کیا تب یہ سڑک انتہائی خطرناک تھی۔ وزیراعظم نے این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او کو مشکل اور خطرناک روڈ بنانے پر خراج تحسین پیش کیا جس سے سکردو سے گلگت کاسفر 8 گھنٹوں سے کم ہو کر 3 گھنٹے رہ جائے گا۔

chitraltimes pm imran khan inaugurating skardu airport for intl flights
PRIME MINISTER IMRAN KHAN INAUGURATING THE EXPANSION AND UPGRADATION OF SKARDU AIRPORT FOR INTERNATIONAL FLIGHT OPERATION. SKARDU, 16TH DECEMBER, 2021.


وزیراعظم نے کام کے دوران شہید ہونیوالے ایف ڈبلیو او کیفوجی جوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ سیاحت پاکستان کا اثاثہ بن سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کیمقابلہ میں سویٹزر لینڈ کا رقبہ آدھاہے لیکن وہ سیاحت سے سالانہ 70 ارب ڈالر کماتے ہیں جبکہ پاکستان کی سالانہ کل برآمدات 30 ارب ڈالر تک ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ کئی لوگوں سے ملے ہیں جو سویٹزرلینڈ اور آسٹریا سے یہاں آئے وہ خود کہتے ہیں کہ سویٹزر لینڈ اور آسٹریا ان علاقوں کے برابر نہیں۔یہاں دونوں موسموں میں سیاحت کیمواقع موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں سے آزاد کشمیر کو ملانے والی روڈ سے فاصلے مزید کم ہوں گے۔ آسانیاں ہوں گی تو سیاحت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کی زمین کاپوری طرح دھیان رکھیں،باہر سے لوگ یہاں آکر مہنگے داموں زمینیں خریدیں گے۔ یہاں پہلے ہی زمین کم ہے۔ یہاں ریزارٹ بنانیہیں ان کے لئے اراضی رکھیں کیونکہ اگر ہم سوچ سمجھ سے کام لیں تو صرف گلگت بلتستان سے30 سے 40 ارب ڈالرسیاحت سے حاصل کر سکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کے بھی وسیع مواقع ہیں۔ گندھارا تہذیب کے آثار، کٹاس راج سمیت ہندوؤں کے لئے سیاحتی مقامات موجود ہیں۔

صوفی ازم کے لئے بڑی بڑی درگاہیں موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس وسیع و عریض سمندری حدود موجود ہیں۔ وہاں ریزارٹ بن سکتے ہیں۔ اللہ نے اس ملک کو جو جو نعمتیں دی ہیں ان سے ابھی فائدہ نہیں اٹھایاجاسکا۔وزیراعظم نے کہا کہ مقامی اورعالمی سطح پر اس علاقے میں سیاحت کیفروغ سے مقامی لوگوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔ لوگوں کو روزگار کے لئے کہیں باہر نہیں جانا پڑے گا بلکہ باہر سے لوگ روزگار کی تلاش میں یہاں آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں بجلی کا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے لئے وزیراعلیٰ نے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کا اعلان کیاہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ دور دراز کے علاقوں کے لوگوں کی سہولت کے لئے مزید اضلاع کی تجاویز دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ساری دنیا کو مہنگائی کاسامنا ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے سپلائی لائن رک گئی،تجارت بند ہو گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت غریب طبقے کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے آٹے، گھی اور دالوں پر 50 ہزار سے کم آمدن کے حامل افراد کو 30فیصد رعایت دینے کے لئے احساس راشن کارڈ کامنصوبہ لے کر آئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس کے لئے صحت کارڈ دے رہے ہیں۔

امیر ممالک میں بھی ہر شہری کو یہ سہولت دستیاب نہیں۔گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ہر گھرانے کو یہ سہولت میسر ہے۔ پنجاب میں اگلے تین ماہ میں یہ سہولت میسرآ جائے گی۔ اس سے ایک گھرانے کو 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس میسر ہو گی جس سے وہ کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں اپنا علاج کروا سکیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ غریب گھرانوں کے ہونہار بچوں کو اچھی اور فنی تعلیم سے اوپر اٹھا سکتے ہیں۔ ایک ہنر مندفردسارے خاندان کو اوپر اٹھا سکتا ہے۔ ہم نے 20 لاکھ خاندانوں کے لئے یہ سکالرشپ پروگرام شروع کیا ہے۔کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضہ ایک خاندان کے ایک فرد کو ملے گاجبکہ ایک فرد کو فنی مہارت کی تعلیم دی جائے گی۔ اس کے علاوہ گھر بنانے کے لئے 27 لاکھ روپے تک بلا سود قرض دیاجارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 47 ارب روپے کی سکالرشپس د یئیجا رہے ہیں۔ اس پروگرام کی وہ خود مانیٹرنگ کریں گے تاکہ میرٹ پر یہ سکالرشپ مل سکیں۔وزیراعظم سیکرٹریٹ میں مستحق، ہونہار طالب علم اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے آن لائن درخواستیں دے سکیں گے۔ انہوں نے شدید سردی کے باوجود بڑی تعداد میں جلسہ گاہ میں لوگوں کی شرکت پر ان کا شکریہ اداکیا۔قبل ازیں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے بھی جلسے سے بھی خطاب کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جگلوٹ اسکردو روڈ کا افتتاح کر دیا


اسکردو (سی ایم لنکس)وزیر اعظم عمران خان نے جگلوٹ اسکردو روڈ کا افتتاح کر دیا، منصوبے سے ہر قسم کی بھاری ٹریفک کی آمدورفت بھی ممکن ہو گی اور علاقے میں معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہو گا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پراسکردو پہنچے، جہاں انھوں نے جگلوٹ اسکردو روڈ کا افتتاح کیا۔ترجمان این ایچ اے کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ منصوبہ اہل علاقہ کیلییجمہوری حکومت کا تحفہ ہے، جگلوٹ اسکردو روڈ کے ٹھیکہ کی لاگت 31 ارب ہے۔مشکل پہاڑی علاقے میں سفری اوقات پہلے سے نصف ہوگئے ہیں، منصوبے سے ہر قسم کی بھاری ٹریفک کی آمدورفت بھی ممکن ہو گی اور علاقے میں معاشی ترقی کو فروغ حاصل ہو گا۔دورے کے دوراب وزیراعظم اسکردو ایئرپورٹ کا بھی افتتاح کریں اور میونسپل اسٹیڈیم اسکردو میں عوامی اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔اسکردو میں وزیراعظم ترقیاتی اسکیمز اور جی بی حکومت کی کارکردگی پراجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
56248