The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 7 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اسلامی تہذیب کے زوال کے اسباب ۔ صوفی محمد اسلم

اسلامی تہذیب کے زوال کے اسباب ۔ صوفی محمد اسلم

بہت سے مسلم اسکالرز کہتے ہیں کہ یہ بیانیہ ہی اسلامی تہذیب کے زوال کا سبب بنا کہ اسلامی تہذیب زوال کا شکار ہے۔اس بیانیہ پر تنقید جائز ہے بلکہ یہ بیانیہ ہی اورینٹلسٹ سوچ کی پیداوار ہے۔ یہ اورینٹلزم ہے کیا؟۔١٩٧٠میں ایک امریکن فلسطینی نجاد اسکالر ایک کتاب لکھا اورینٹلزم ۔اس کتاب میں اس نے لکھا کہ اکثر مغریبی اسکالرز یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ایک پسماندہ تہذیب ہے اور جمود کا شکار ہے۔ ان کا خیال ہے کہ نہ صرف اسلامی تہذیب بلکہ تمام مشرقی تہذیب جس میں چین اورجاپان بھی شامل ہیں،جمود کا شکار ہیں۔مغربی اسکالرز کے خیال کے مطابق ان تہذیبوں میں ترقی اور تبدیلی کی خوبی ہی نہیں ہے اور وہ مغربی تہذیب کا مقابلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان میں ترقی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ان اقوام کو ترقی کرنے کیلئے مغربی تہذیب کو اپنانا ہوگا ۔ مسلم اسکالرز کہتے ہیں کہ اس بیانیہ کو جان بوجھ کر پھیلایا گیا۔ اس بیانیہ کی وجہ سے مسلم اُمہ کے دلوں میں احساس کمتری اور نامیدی پیدا ہوگیااور اس بیانیہ کا اصل مقصد بھی یہی تھا۔ جب نامیدی ہوتی ہے تو پھر کیا رہ جاتا ہے ۔ اسی طرح لوگ مغربی تہذیب کو غالب تسلیم کرنے لگے اور مغربی تہذیب کو اپنانا ہی ترقی کا واحد حل سمجھنے لگے۔ جو اسلامی تہذیب کے زوال کا سبب بنا۔

مسلمانوں کے الزام کسی حد تک درست ہے جب عوام کے دلوں میں کسی تہذیب کا مستقبل اندھیرا نظر ائے اور ناامیدی پیدا ہوجائے تو پھر اسے چھوڑ کر دوسرے غالب تہذیب کو اپناتے ہیں۔ مگر یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اس کتاب کے شائع ہونے سے پہلے ہی مسلم امہ اسپین اور فرانس میں اپنے اقدار کھو چکے تھے۔ پھر ایران میں انقلاب کسی مغربی تہذیب نے نہیں لائے اور ہندستان میں بھی مغل ریاست برطانیہ کے اقتدار سے پہلے ہی اپنا اثررسوخ کھو چکی تھی ،ہندو و سکھ اور مرہٹہ ریاستیں قائم ہوئے اور مغل ریاست سکڑ کر دہلی کے گرد و نواح تک محدود ہو چکا تھا۔ اس میں بھی مغربی کا اثر نہیں تھا۔

بعض مسلم اسکالرز مسلمانوں کے شکست کی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری جبکہ بعض اس کی وجہ جدید سائینس اور ٹیکنالوجی میں عدم دلچسپی اور دوری بتلاتے ہیں۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ اسلام ہی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اتحاد قائم رہتا ہے۔ اسلامی تعلمات جو مسلمانوں کو اپس میں بھائی چارہ کی بندھن میں باندھ کر ریاست میں اتحاد قائم رکھ سکتا ہے۔ ریاست میں قانوں اگر مضبوط ہو تو ہر طرف عدل و انصاف اور نظم ضبط قائم ہو سکتا ہے۔دوسری بات اسلام میں جہاد کا بہت بڑا مقام ہے جب نوجوان عیش و عشرت کے عادی بن جاتے ہیں اور ارام پسندی سے جسمانی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں ۔ اسلام میں جہاد کا حکم واضح ہے کسی تشریح کی ضرورت نہیں،جوانون کو جہاد اور جہاد کی تربیت سے دور رکھنا اسلامی ریاست کی مستقبل کیلئے نقصاندہ ہے۔ کمزور نسل کبھی بھی ریاست و تہذیب کو قائم نہیں رکھ سکتے ۔ یہ اسلام میں بہت اہم پہلو ہیں اسے کسی نہ کسی طرح نظرانداز کیا گیا۔

جہاں سائینس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کی عدم دلچسی کو ان کی شکست کی وجہ سمجھنے کی بات ہے ان اسکالر میں سے علامہ اقبال،سرسید احمد خان شامل ہیں۔ انکا ماننا ہے کہ دشمن جس آلہ حرب سے وار کر رہا ہے کم از کم متبادل ہتھیار اسی نوغیت اور اسی مغیار کا ہونا چاہئے۔ جب لڑنے کیلئے کوئی طاقتور ہتھیار ہی نہ ہو تو ریاست بچانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ جب ریاستیں شکست کھانے لگے تو پھر تہذیبیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں۔ یہ عام اصول ہے کہ غالب تہذیب ہی غالب اتی ہے اور لوگ اس کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔

مضموں کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ رسول اللہ کے تعلیمات سے وجود میں ایا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم میانہ روی کادرس دیا۔ ایک طرف اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے پر زور دیا تو دوسری طرف معاشراتی اقدار و اصلاحات بھی ساتھ رکھا۔ علم کو مسلمانوں پر فرض قرار دیا تو جہاد کو بھی فرض قرار دیا ہے۔ دشمن کے خلاف لڑنے کیلئے حربیات پر بھی زور دیا۔ جنگی ساز و سامان بھی تیار رکھے۔ مگر یہ مسلمانوں کی کمزوری ہے کہ وہ ایک پہلو کو ساتھ لیا اور دوسری کو چھوڑ دیا۔ آج بھی ہم شکست کو ازمائش یا کسی اور کی سازش قرار دیکر خود کو برالزمہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے معاملات میں انسان کو عقل و دانائی سے کام لینے کیلئے ازاد کیا ہے اور اسی ازادی میں نعمتوں کو اللہ سبحان الله کا عطاء کردہ عطیات سمجھ کر فائیدہ اٹھانا بھی ایک طرح کی عبادت ہے۔اللہ فہم و فراست عطاء فرمائیں۔ امیں
وماعلیناالاابلاغ

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
92273