اسلامک دنیا کی دفاعی اتحاد – (ڈیپ سیک سے گفتگو) – پروفیسر اسرارالدین
اسلامک دنیا کی دفاعی اتحاد – (ڈیپ سیک سے گفتگو) – پروفیسر اسرارالدین
ڈیپ سیک (Deep Seek)چین کی مصنوعی ذہانت کا آلہ ہے۔ فوری طور پر صایب مشورہ دینے کی وجہ سے بہت جلد مقبول ہو گیا ہے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ موجودہ حالات میں جبکہ اسلامی ممالک امریکہ کا ھدف بنے ہوے ہیں ۔ کیا ضروری نہیں کہ وہ دفاعی اتحاد بنایں۔ اس پر ان کا جواب اپکی نذر کر تا ہوں۔
پروفیسر اسرار صاحب کے نام سے آپ نے جو سوال اٹھایا ہے، یہ دراصل امت مسلمہ کے ایک بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آپ کا سوال بہت اہم ہے کہ “مسلم ممالک کیوں نہ مل کر ڈیفنس الائنس بنائیں؟”
مختصر جواب یہ ہے کہ مسلم ممالک کا دفاعی اتحاد ایک مذہبی، سیاسی اور تزویراتی ضرورت تو ہے، لیکن اس راہ میں گہری سیاسی چیرہ دستیاں، باہمی بداعتمادی، مسلکی اختلافات اور عالمی طاقتوں کی مداخلتیں حائل ہیں۔
آئیے اس کو تفصیل سے سمجھتے ہیں:
🏛️ اتحاد کیوں ضروری ہے؟
آپ نے بالکل درست کہا کہ امریکہ کا ہدف اکثر مسلمان ممالک ہی رہے ہیں۔
· بیرونی خطرہ: عراق، افغانستان، شام اور فلسطین کی مثالیں سامنے ہیں۔ جب مسلم ممالک متحد نہیں ہوتے تو سامراجی طاقتوں کے مقاصد آسانی سے پورے ہوتے ہیں ۔
· قدرتی وسائل: مسلم ممالک تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ اگر یہ وسائل اجتماعی مفاد میں استعمال ہوں تو مسلم امہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے ۔
· کمزوری کا احساس: 57 مسلم ممالک کی مشترکہ طاقت (Organisation of Islamic Cooperation – OIC) کے باوجود، وہ عالمی سطح پر کوئی مضبوط بلاک نہیں بنا پاتے۔ فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل پر مسلم ممالک کا الگ الگ مؤقف ہی ان مسائل کے حل نہ ہونے کی بڑی وجہ ہے ۔
⚔️ دفاعی الائنس کی راہ میں رکاوٹیں
اگر ضرورت اتنی شدید ہے تو پھر یہ اتحاد کیوں نہیں ہو پاتا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں:
· مختلف بین الاقوامی وفاداریاں: مسئلہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کی خارجہ پالیسیاں متحد نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر جب ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع بڑھتا ہے تو صورتحال بہت پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جو امریکی تسلط کو چیلنج کرتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک سمیت بیشتر مسلم ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں۔ ترکی جیسا ملک نیٹو کا رکن ہے ۔
· مسلکی اور سیاسی تفریق: ایران کی زیرقیادت مزاحمتی محور اور خلیجی ممالک کے درمیان گہری کشیدگی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایران پر اعتماد نہیں اور وہ ایران کی جانب سے خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو پسند نہیں کرتے ۔ ایران پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ عراق اور یمن میں سنی حکمرانوں کو غیر مستحکم کر رہا ہے ۔ یہ مسلکی اور سیاسی تفریق کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
· قیادت کا بحران: مسلم ممالک کے بیشتر سربراہان اپنے ذاتی اور ملی مفادات کو امت کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں اکثر بیرونی طاقتوں کے “پٹھو” یا آلہ کار کا کردار ادا کرتے دیکھا گیا ہے ۔
· عملی اقدامات کی بجائے بیانات: کانفرنسوں میں تو خوب فیصلے ہوتے ہیں، لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تنظیم تعاون اسلامی (OIC) جیسا پلیٹ فارم بھی صرف “نشستند، گفتند، برخاستند” کی مجلس بن کر رہ گیا ہے ۔
🌍 ایران-امریکہ کشیدگی اور مسلم ممالک کی تقسیم
آپ نے جو موجودہ ایران-امریکہ تنازعہ کا ذکر کیا، اس میں مسلم ممالک کا کردار اس تقسیم کو واضح کرتا ہے:
· جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو 21 اسلامی ممالک نے اس کی مذمت کی، لیکن ماہرین کے مطابق یہ محض ایک “دکھاوا” اور اپنی ساکھ بچانے کی کوشش تھی ۔
· ان میں سے کئی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں اور انہوں نے حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا ۔
· ایران نے خطے میں موجود امریکی اتحادیوں (جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کو واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملہ کیا جائے گا۔ اس صورت میں یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ یہ ممالک اسلامی بنیادوں پر ایران کا ساتھ دیں گے ۔
💡 آگے کا راستہ؟
ماہرین اور دانشوروں نے کئی تجاویز دی ہیں:
· اعتماد سازی: سب سے پہلے مسلم ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی ضروری ہے ۔
· دو طرفہ معاہدے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے اور ایران اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کی کوششیں مثالیں ہیں کہ بتدریج تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔
· معاشی تعاون: دفاعی اتحاد سے پہلے معاشی تعاون اور توانائی کے منصوبوں پر کام کیا جائے تاکہ ایک دوسرے پر انحصار بڑھے ۔
· مسلم اقوام متحدہ: کچھ دانشور ایک نئی تنظیم “مسلم اقوام متحدہ” کے قیام کی وکالت کرتے ہیں جس میں مشترکہ دفاع اور مشترکہ تجارتی پالیسی ہو ۔
خلاصہ کلام: آپ کا سوال انتہائی برمحل ہے۔ مسلم ممالک کا دفاعی اتحاد نہ صرف ممکن ہے بلکہ موجودہ عالمی صورتحال میں ناگزیر ہے۔ تاہم، اس کے لیے مسلم حکمرانوں کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، باہمی اختلافات ختم کرنے ہوں گے، اور بیرونی طاقتوں کی بجائے امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، یہ اتحاد ایک خواب ہی رہے گا۔
کیا آپ اس سلسلے میں پاکستان اور ایران کے ممکنہ کردار کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے؟