The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 26 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

 مشرقی اُفق ۔ اسرائیل فلسطین جنگ قطر پر حملہ ۔ میر افسر امان

بسم اللہ الرحمان الرحیم

 مشرقی اُفق ۔ اسرائیل فلسطین جنگ قطر پر حملہ ۔ میر افسر امان

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:۔ ”اے لوگوں جو ایمان لائے ہو یہودیوں و عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی ان میں ہے۔ یقیناًاللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔المائدہ۔۱۵۔
اب اس آیات کوسامنے رکھیں۔ عربوں کی امریکا سے دوستی کو پر کھیں۔ پچھلے دنوں دنیا نے دیکھا کہ کیسے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے عربوں سے اربوں ڈالر کا جگا ٹیکس و صول کیا۔ کیسے عربوں نے اپنے بچیوں کے بالوں سے ٹرمپ کا استقبال کیا۔ایک قیمتی ہوائی جہاز کا تحفہ بھی دیا۔کیسے اپنے اپنے ملکوں میں امریکا کو فوجی اڈے رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔کیسے اپنا سارا سرمایا امریکا کے بنکوں میں رکھا ہوا ہے
۔اور کس طرح امریکہ کی شہہ پر اسرائیل نے قطر پر بین لاقوامی قانون کو توڑتے ہوئے حماس کی قیادت پر حملہ کیا۔ اب آپس میں منافقت کرتے ہوئے اسرائیل کہہ رہا ہے امریکہ کو اس پہلے سے بتایا تھا۔ امریکہ صرف نے مزاحمتی بیان دے دیا۔ ہماری اجازت کے بغیر اسرائیل نے حملہ کیا۔اسرائیل امریکہ کے بغیر زیرو ہے۔ کچھ نہیں کر سکتا۔ جو کچھ امریکا نے کرنا ہوتا ہے وہ اسرائیل سے کراتا ہے۔
اسرائیل نے قطر پر حملہ کیوں کیا؟۔ وہ حماس کی قیادت کو ختم کرنا چاہتا تھا۔مگر اللہ نے حماس کی قیادت کو محفوط رکھا۔ حماس کے دفتر کے میں اسٹاف کے پانچ فلسطینی،جن میں قطر میں حماس کے مرکزی رہنما خلیل الحیہ کا بیٹا،ایک قطری سیکورٹی آفیسر اس حملے میں شریک ہو گئے۔ اُنہیں اعزاز کے ساتھ اللہ کے سپرد کر دیا گیا۔کہا جارہا ہے کے موساد نے قطری حکومت کو یقین دلایا ہوا تھا کہ جیسے حماس کے مرکزی لیڈروں کو مختلف جگہوں پر شہید کرتا رہا ہے۔ قطر میں قیام پذیر حماسی قیادت پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ قطر کے ذریعے سے بات چیت کے لیے راستہ کھلا رہے۔لیکن یہود نے اللہ سے وعدے پورے نہیں کیے قطر سے کیا کرتا؟۔اس وقت اسرائیل کے مطابق حماس پر اس نے دباؤ اپنے انتہا کو پہنچا دیا ہے۔ غزہ کو اسی فیصد مسمار کر دیا ہے۔ اب غزہ سٹی سے عوام کو نکل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ حماس پر ہتھیار ڈالنے  کے لیے دباؤ بڑھا رہاہے۔ کہتا ہے سارے یرغمالی رہا کر دو۔غزہ سے نکل جاؤ۔ اسرائیل کے مطابق اس دباؤ کو کامیاب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حماس کی بچی کچی قیادت کو بھی راستے سے ہٹا دے تاکہ حماس ہتھیار ڈال دے یرغمالی چھوڑ دے اور غزہ سے نکل جائے۔
اسرائیل کی سوچ اتنی جلدی پوری ہونا ہوتی، تو حماس دو سال سے اس کا بہادری سے مقابلہ نہ کر رہی ہوتی۔ حماس اب بھی گوریلہ طرز کی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔یہود و نصاریٰ نے کو ن سا اسلحہ ہے جو ایک چھوٹی سے غزہ کی پٹی جو صرف چالیس کلومیٹر لمبی اور دس کلومیٹر چوڑی پراستعمال نہیں کیا۔ ابھی نہیں کئی عشروں پہلے سے غزہ کی اس پٹی کی سفاک اسرائیل نے ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ باہر سے کوئی بھی چیز غزہ میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ ایک دفعہ ترکی سے آنے والے امدادی فلوٹیلا پر بین الاقوامی  سمندر میں حملہ کر کے کئی شہید کر چکا ہے۔اب دنیا کی نمایندگی کرنے والے چوالیس ملکوں کے پچپن جہازوں پر مشتمل صمود فلوٹیلا پر بھی حملے کر چکا ہے۔ مگر یہ فلوٹیلا غزہ کی طرف روں دواں ہے۔ غزہ کا محاصرہ کرنے والے ظالم سفاک اسرائیل خوراک،پانی بجلی، گیس سب کچھ اپنے کنٹرول میں کیے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ جوامریکہ اور مغرب کی لونڈی ہے۔ اُس نے درجنوں قرارادادیں فلسطین کے حق میں منظور کیں۔ اسرائیل نے ان سب پر عمل نہیں کیا۔ بلکہ ردی کی ٹوکری میں ڈالتا رہا۔ امریکہ ہمیشہ ان قرارداوں کو اسرائیل کے حق میں ویٹو کر رہا ہے۔ صرف اس لیے کہ فلسطین مسلمانوں کا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ نے مل کر اس میں یہود کو ناجائز طریقے سے قبضہ کروایا ہوا ہے۔ اسی اقوام متحدہ نے انڈونیشیا کے ایک جزیرے جس میں عیسائیوں کی اکثریت تھی۔ اس کو علیحدہ ملک بنا دیا۔ سوڈان کے ایک صوبے میں  بھی عیسائیوں کی اکثریت تھی اسے بھی علیحدہ صوبہ بنا دیا۔ مگر فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کو امریکی نے بے بس کیا ہوا ہے۔ ابھی اس مہینے اقوام متحدہ میں فلسطین  کو تسلیم کرنے کا پروگرام ہونا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی جو خود اسرائیل کی پپٹ ہے، کے ویزے منسوخ کر دیے۔اقوام متحدہ کے اجلاس میں آنے سے روک دیا۔
حماس کی شیخ احمد یاسین ؒ نے اسلامی اور جہادی تربیت کی ہے۔ یہ جہادی لوگ ہیں۔ شہادت کو اپنے لیے اعزازسمجھتے ہیں۔ ان کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ یہ اللہ کے نیک  بندے اپنے آخری مجاہد تک یہود سے لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس مشکل کی گھڑی میں عربوں اور دیگر ملکوں کو کیا کرنا چاہیے؟۔سب سے پہلے مسلمان اجتماہی طور پر اللہ سے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اسکا طریقہ اسلام میں موجود ہے۔ اسلامی ملکوں کااتحاد کر کے اپنے میں کسی ایک ملک کو اپنا امیر منتخب کر لیں۔ امیر باہمی مشاورت سے اسلامی طریقہ جنگ، جہاد کا اعلان کرے۔ مسلم دنیا کا فطری لیڈر،ایٹمی /میزائیل قوت والاپاکستان پہلے سے موجودہے۔بھارت پر فتح پاکر اس نے ثابت بھی کر دیا ہے۔ ایران کو اپنے دست بازرو بنائیں۔ ایران ایک عرصے سے اکیلا امریکہ اور مغربی قوتوں سے مقابلہ کر رہا ہے۔ اُس نے غزہ جنگ میں اپنے پراسکیز کو لڑا کر مسلمانوں میں بہادری کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ عوام کے دلوں سے خوف نکال دیا ہے۔ دولت مند عربوں کو پاکستان کے قرضے اُترانے میں مدد کرنی چاہیے۔ عربوں کی مالی مدد سے پاکستان اور ایران اپنے ایٹمی اور میزائیل پروگرام کو ہنگامی بنیادوں پر ترقی دیں۔
 دیکھیں! اللہ پر اس ایمان کے ساتھ معاملہ کریں کہ اللہ حی القیوم ہے۔ ہمیں دیکھ رہاہے۔ ہمین سن رہا ہے۔اگر ہمارا ایمان ایسا ہوگا تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ شامل ہو گی۔ پھر شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبال ؒ کے شعر:۔
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
یہ طریقہ ہے فلسطین کو اسرائیل سے چھڑانے کا۔ اسلامی ملک قطر پر حملے کابدلہ لینے کا۔ فلسطینیوں پر ظلم ستم نسل کشی کا بدلہ لینے کا۔اسرائیل حماس جنگ جیتنے کا۔ دنیا میں سر بلند کر کے جینے کا۔ میرا کامل یقین ہے کہ جہادی کلچر رکھنے والے مسلمان، دنیا میں ہزار ہزار سال جنیے کی تمنا کرنے والے یہود، ہندو، نصاریٰ کو شکست فاش سے دو چار کریں نگے۔ ان شاء اللہ
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
113881