The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 1 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ارندو روڈ کا مقدمہ اور کمپنی – تحریر: احسان الحق

ارندو روڈ کا مقدمہ اور کمپنی – تحریر: احسان الحق

damil arandu chitral

ضلع چترال کے جنوب میں واقع قدرتی حُسن سے مالامال وادی ارندو، ضلع چترال اور ملک پاکستان کا آخری حصہ ہے جہاں سے آگے افغانستان کے دو صوبے یعنی کُنڑ اور نورستان شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ وادی انتظامی طور پر ایک یونین کونسل ہے جو کہ پانچ ویلج کونسلوں یا نیبرہُڈ کونسلوں پر مشتمل ہے۔

یو-سی ارندو کی سب سے بڑی ویلج کونسل ‘ارندو خاص’ ہے اور اس کے ساتھ چار ویلج کونسل یعنی ‘ارندو گول’، ‘اکروئئ’، ‘دمیل نِسار’ اور ‘دمیل’ واقع ہیں۔ ارندو کی کل آبادی تقریباً 30 سے 35 ہزار پر مشتمل ہے اور مذکورہ بَالا 5 ویلج کونسلوں میں آباد ہے۔ ارندو کو جغرافیائی لحاظ سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے کیوں کہ یہ چترال کو زمینی راستے سے افغانستان کے ساتھ ملاتا ہے۔ اس وادی کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں مختلف قومیں آباد ہیں۔ 7 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں اور رقبے کے لحاظ سے یہ چترال کی تمام یونین کونسلوں میں سب سے بڑی یونین کونسل ہے۔

ارندو کی سرزمین اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ بارڈر لائن پر موجود ہونے کی وجہ سے یہاں کے مکینوں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ افغانستان میں سوئیت یونین (روس) کے دس سالہ دور سے لیکر “امریکا کی دہش- تگردی کے خلاف عالمی جنگ” کے بیس سالہ دورانیے تک اس علاقے نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ سہولیات سے محروم اس علاقے کے لوگوں کو آج بھی کوئی معمولی سے معمولی کام کیلیے کسی بھی قریبی سرکاری دفتر جانے کے لئے دو سے تین گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ اس علاقے میں کوئی سرکاری دفتر موجود نہیں جہاں ان لوگوں کو بآسانی اپنے کام یا مسائل حل کرنے کی سہولت میسر ہو۔ سب سے قریبی کاروباری مرکز (دروش) پہنچنے کیلیے علاقے کے لوگ صبح کی آذان سے پہلے اٹھتے ہیں کیوں کہ بعد میں یا تو گاڑی نہیں ملتی یا اگر مل بھی جائے تو مرکز پہنچنے تک کئی گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں اور وہاں پہنچ کر متعلقہ کام کرنے کے بعد واپس رات گزارنے اپنے گھر نہیں پہنچ سکتے اور مجبوراً وہیں کسی ہوٹل میں قیام کرنا پڑتا ہے۔ راستے (روڈ) کی حالت اتنی خراب ہے کہ ایک بار اس روڈ پر سفر کرنے کے بعد اگلے دو دن تک ہڈی پسلی درد کرتی ہیں۔ اس روڈ کی حالت پر کبھی کسی حکومت کو رحم آیا نہ کسی ادارے کو۔

آرندو

“ارندو روڈ کا مقدمہ اور کمپنی” کے اس عنوان کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر ارندو روڈ کا مقدمہ کیا ہے اور کمپنی کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔ دروش سٹی سے جنوب کی جانب جو چترال ٹو پشاور مین روڈ ہے اس سے میرکھنی کے مقام پر ایک راستہ الگ ہوتا ہے جو مسافروں کو اس حسین وادی کی جانب لے جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق میرکھنی سے ارندو خاص تک اس راستے کی لمبائی تقریباً 30 سے 35 کلومیٹر کے قریب ہے۔ جیسے ہی اس راستے پر سفر شروع ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے یہ راستہ گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ گدھوں یا جانوروں پر بیٹھ کر سفر کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ 30 کلو میٹر کے اس سفر میں تقریباً 2 سے 3 گھنٹے لگ جاتے ہیں وہ بھی اگر راستے میں گاڑی کے ٹائر سڑک پر پڑے تیز دار پتھروں سے مقابلہ کرسکیں، ورنہ ٹائر پنکچر ہونے کی صورت میں مزید ایک دو گھنٹے لگ سکتے ہیں، جوکہ عموماً ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ اس روڈ پر گاڑی داخل ہوتے ہی رفتار اتنی کم ہوجاتی ہے کہ ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر پتہ نہیں چلتا گاڑی چل رہی ہے یا رُکی ہوئی ہے۔ اکثر تو دوران سفر مصنف “وزیر آغا” کی تصنیف “چند روز ایک روڈ رولر کے ساتھ” والی کہانی یاد آجاتی ہے جس میں مصنف “روڈ رولر” کی سُست رفتاری بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “ہمارے گاؤں میں جب پہلی بار روڈ رولر آیا تو مجھے اس پر بیٹھ کر سفر کرنے کا شوق چڑھا اور میں ڈرائیور سے اجازت لے کر روڈ رولر پر سوار تو ہوگیا لیکن دوران سفر میں یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ یہ چل رہا ہے یا رُکا ہوا ہے۔

مزید لکھتے ہیں کہ جب کافی دیر تک روڈ رولر پر سفر کرنے کے بعد میں نے ڈرائیور سے کہا کہ بس مجھے یہیں اُتار دو، میں نے واپس گھر جانا ہے تو ڈرائیور کہنے لگے کہ میں آپ کو روڈ رولر پر ہی واپس گھر چھوڑتا ہوں۔ یہ سنتے ہی میں نے روڈ رولر کی سُست رفتاری کو ذہین میں رکھتے ہویے فوراً ڈرائیور سے کہا “نہیں مجھے جلدی گھر پہنچنا ہے لہٰذا میں واپس پیدل ہی جاؤں گا”۔

ارندو روڈ پر چلتی ہوئی گاڑیوں کی بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔
اس روڈ کی جو ابتر حالت ہے اس کے پیچھے وجوہات کو اگر دیکھا جائے تو اس کا مقدمہ سمجھ میں آجائے گا۔

arandu road chitral 1

اس مقدمے کو ہائلائٹ کرنے کی ضرورت اس لئے بھی پیش آتی ہے کیوں کہ اس مقدمے کو لے کر ارندو کے لوگ کئی بار سیاسی میدان میں دھوکہ کھا چکے ہیں۔ اسی مقدمے کی بنیاد پر ارندو کے عوام کو ایک بار نہیں بار بار الیکشن میں پھسلایا گیا ہے۔ خواہ کسی سیاسی نمائندے کی الیکشن کمپئن ہو یا کسی سرکاری آفیسر (یعنی بڑے بابو صاحبان) کی کلی کچہری، سب کے سب اسی مقدمے کو حل کرنے کا چانسہ دے کر اپنے مفادات حصول کرکے چلے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ 2014 میں اس روڈ کو بنانے کیلیے “کمپنی” والوں کی ایک نامور کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف-ڈبلیو- او) کو ٹھیکہ ملا تھا۔ یہ خبر سن کر علاقے کے مکینوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کام کا آغاز بھی ہوگیا۔ کچھ وقت کیلیے کام زور و شور سے جاری تھا اور علاقے کے لوگ روز بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر کمپنی کی طرف سے لائی گئی ہیوئ مشینری کو مہارت سے پہاڑ گِراتے ہوئے دیکھ کر جھوم اٹھتے تھے۔ یہ سلسلہ تقریبا 1 سال تک جاری رہا اور روڈ کی ایکسٹنشن کا عمل اپنے عروج پر تھا۔

drosh arandu road chitral3 1 scaled

جگہ جگہ باجری اور میٹیریل کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ روڈ کی توسیع کیلیے بڑے بڑے چٹانوں کو انتہائی مہارت کے ساتھ گرایا جاتا تھا اور کھبی کبھار چٹانوں سے نکلے ہوئے ملبے کی صفائی میں 4 سے 6 گھنٹے تک روڈ آمدورفت کیلیے بند ہوجاتی تھی اور مسافروں کو اتنی دیر تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ یقینا روڈ پراتنا انتظار کرنا ایک تکلیف دہ لمحہ ہوتا تھا مگر عوام روڈ بننے کی خوشی میں اس تکلیف کو خوشی خوشی سہہ جاتے تھے۔ کافی حد تک ایکسٹینشن کا کام ہوچکا تھا اور کچھ جگہوں پر چٹانوں کی کٹائی ہونی تھی اور روڈ کی صفائی کا کام بھی نامکمل تھا۔ اسی دوران کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس سارے عمل میں اچانک سُستی پڑھ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی کی ہیوئ مشینری اور سامان کم ہونے لگے اور آہستہ آہستہ کچھ لمحے میں کمپنی ڈوبتی ہوئ سورج کی طرح غائب ہوگئ۔ خوشیاں مناتی ہوئی عوام کو اچانک اندازہ ہوگیا کہ کمپنی کام ادھورا چھوڑ کر چلی گئی ہے لیکن عوام پہلے تو کچھ عرصے تک اس امید پر تھے کہ کمپنی والے اچھے لوگ ہیں آجائیں گے، یہ اس طرح ہمیں دلدل میں پھنسا کر نہیں جائیں گے۔ آہستہ آہستہ جب عوام کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ کمپنی کا کوئی اپنا نہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گَچھ کرنے لگے کہ آخر کمپنی کہاں گئی؟ کیوں گئی اور کب آئے گی؟۔ ان سوالات کے جواب کسی کے پاس بھی نہیں تھے۔ آج تک ان سوالات کے جوابات نہیں مل سکے اور ملتے بھی کیسے آخر کمپنی بھی تو بڑے لوگوں کی تھی جن سے سوال کرنے کی جرات کون کرتا۔

بس وہیں سے ارندو روڈ کا مقدمہ یتیم ہوچکا ہے اور جو ٹھوڑی بہت چلنے کے قابل روڈ پہلے سے بنی ہوئی تھی وہ بھی کمپنی والے کھنڈرات میں تبدیل کرکے جائے وقوعہ سے غائب ہوگئے ہیں۔ دس سال گزر گئے اور جگہ جگہ کٹائی کے ملبے اور پھتر سے بھری ہوئی اس روڈ پر آج بھی عوام اس امید سے سفر کرتے ہیں کہ کسی روز کمپنی واپس آجائے گی اور ہماری خوشیاں واپس لائے گی۔

احسان الحق
ایم-فل اسکالر
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد

chitraltimes ihsanul haq arandu

آرندو

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
101981