احساس کیش پروگرام میں توسیع…… محمد شریف شکیب
حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا دائرہ مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔احساس ایمرجنسی کیش کا بجٹ 144ارب سے بڑھا کر 203ارب روپے کر دیا گیا ہے،وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز اوراحساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سماجی تحفظ کا پروگرام سب سے پہلے اور سب سے تیز رفتاری سے شروع کیا، پروگرام کی شفافیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم بھی اپنی مرضی سے کیش پروگرام میں کسی کا نام نہیں ڈال سکتے انہوں نے بتایا کہ ایک کروڑ 69لاکھ محنت کشوں اور لاک ڈاون سے متاثرہ افراد کو رقم فراہم کرنے تک احساس کیش پروگرام جاری رہیگا۔احساس کیش پروگرام غریب اور متوسط طبقے کی مالی امداد کا ملکی تاریخ میں سب سے بڑا پروگرام ہے جس کے تحت اب تک مستحق خاندانوں میں سو ارب سے زیادہ رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ احساس ایمرجنسی پروگرام میں ان افراد اور خاندانوں کو ترجیح دی گئی جن کا کاروبار اور روزگار لاک ڈاون کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر غریبوں میں امدادی رقم تقسیم کی گئی ہے اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں فلاحی منصوبے شروع کئے جاتے رہے مگر ان سے زیادہ تر سیاست دانوں، ان کے خاندانوں، رفقاء، ووٹروں، سپورٹروں،بیوروکریسی اور امداد کے تقسیم کاروں نے ہی استفادہ کیا اور پانچ سے دس فیصد خوش قسمت مستحقین تک امداد پہنچ پاتی تھی۔احساس پروگرام کے تحت ستر سے اسی فیصد مستحق لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔امداد کی تقسیم کا نظام بھی سہل بنایاگیا تھا تاہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح احساس ایمرجنسی کیش پروگرام سے بھی بہت سے غیر مستحق لوگوں نے استفادہ کیا اور بہت سے مستحق لوگ اس وجہ سے محروم رہے کہ انہیں پروگرام تک رسائی کے وسائل میسر نہیں تھے۔اس پروگرام میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد حاصل کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اور ملک گیر سطح پر تحقیقات سے یہ تلخ حقیقت سامنے آئی تھی کہ اس امدادی پروگرام سے استفادہ کرنے والوں میں سے پچاس فیصد غیر مستحق ہیں بیواؤں، ناداروں، یتیموں اور بے سہارا خواتین کی مدد کے لئے شروع کئے گئے اس پروگرام سے گریڈ سترہ سے اکیس تک کے افسروں کے خاندان بھی فائدہ اٹھاتے رہے۔ان گھروں میں بھی بیواؤں اور یتیموں کا مال جاتا رہا جو ماہانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں یا جن کے بچے بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں ایک ایک گھر میں چھ چھ افراد بھی کئی سالوں سے یہ امدادی رقم وصول کر رہے ہیں۔ اس فلاحی سکیم کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے پروگرام کی افادیت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ اب احساس کیش پروگرام میں بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والوں کی شمولیت سے غریبوں کی حق تلفی ہورہی ہے۔وزیراعظم عمران خان اورڈاکٹر ثانیہ نشتر کو اس معاملے کا خود نوٹس لینا چاہئے اور جن غیر مستحق لوگوں نے غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ان سے ریکوری کرنے کے ساتھ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز بنانے چاہئیں۔تاکہ آئندہ کسی کو غریبوں، بیواؤں، یتیموں، معذوروں اور بے سہارا لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی جرات نہ ہو۔یہ حقیقت ہے کہ کورونا وباء کی وجہ سے جزوی لاک ڈاون کے باعث لاکھوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔اس فلاحی پروگرام کے تحت ملنے والی رقم کی وجہ سے دیہاڑی دار مزدوروں، ریڑھی بانوں اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے لوگ اور ان کے خاندان فاقوں سے بچ گئے۔ملک کو درپیش سنگین معاشی مشکلات کے باوجود غریبوں کا احساس اور قومی وسائل سے ان کی فوری اور براہ راست امداد کے پروگرام کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی ہے۔ حکومت اگر مخیر لوگوں کو بھی احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شامل کرے تو پروگرام کے لئے خاطر خواہ وسائل جمع ہوسکتے ہیں اس ملک میں خداترس مالدار لوگوں کی کمی نہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دی ہوئی رقم غریبوں اور مستحق لوگوں تک پہنچے۔ احساس پروگرام کے تحت امداد غریب اور مستحق لوگوں تک بروقت پہنچ رہی ہے اس لئے مخیر لوگ دل کھول کر اس کار خیر میں حصہ لے سکتے ہیں۔ نمود و نمائش کے لئے دولت لٹانے والوں کو بھی پروگرام میں شامل کیا جاسکتا ہے جو چیک دیتے وقت تصاویر بناکر اخباروں میں چھاپنے اور شہرت پانے کے لئے لاکھوں کروڑوں خرچ کرسکتے ہیں۔احساس پروگرام سے غیر مستحق لوگوں کو نکالناضروری ہے تاکہ اس پروگرام کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔