وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سرکاری ملازمین کے لیے احساس ای۔پنشن سسٹم کے اجراءکی منظوری دیدی۔ ای۔ پنشن سسٹم یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سرکاری ملازمین کے لیے احساس ای۔پنشن سسٹم کے اجراءکی منظوری دیدی۔ ای۔ پنشن سسٹم یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا حکومت کا ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اور انقلابی اقدام، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سرکاری ملازمین کے لیے احساس ای۔پنشن سسٹم کے اجراءکی منظوری دیدی ہے۔ ای۔ پنشن سسٹم یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے ای۔پنشن سسٹم کے اجراءکے لئے کانسپٹ پیپر تیار کر لیا ہے جبکہ کانسپٹ پیپر کو عملی شکل دینے کے لئے محکمہ خزانہ کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جنوری 2026 سے نئے پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی ای-پنشن سسٹم کے تحت کی جائے گی جبکہ موجودہ پیپر بیسڈ پنشن نظام کو مکمل پیپر لیس ای- پنشن نظام میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے احساس پنشن ڈیش بورڈ کا اجراءکیا جائے گا جو بیسڈ پلیٹ فارم ہو گا اورمکمل طور پر پیپر لیس ورک فلو پر مشتمل ہو گا۔
ملازمین ریٹائرمنٹ سے چھ ماہ قبل پورٹل پر ایک سادہ ڈیجیٹل فارم پرُ کر کے پنشن کیس داخل کرا سکیں گے،تمام ضروری دستاویزات بھی محفوظ طریقے سے سکین کرکے براہ راست پورٹل پر اپ لوڈ کی جا سکیں گی۔ اسی طرح ، اگلے مرحلے میں سسٹم خودکار طریقے سے متعلقہ حکام کے لیے ٹائم باونڈ ٹاسکس تخلیق کرے گا، نئے نظام کے تحت کسی بھی مرحلے میں ایک بھی فزیکل فائل یا پیپر استعمال نہیں ہو گا۔ ویری فکیشن اور منظوری کا تمام عمل بھی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ سسٹم خودکار طریقے سے سینکشن آرڈر، ریٹائرمنٹ آرڈر، پنشن پیپرز اور پنشن پیمنٹ آرڈر تیار کرے گا۔ یہ تمام آرڈرز ڈیجیٹل دستخط شدہ ہوں گے جو قانونی طور پر قابل قبول ہوں گے۔ ای پنشن سسٹم کے تحت محکمہ وار کارکردگی کی مانیٹرنگ کا ایک مربوط اور موثر نظام ہوگا۔وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری خزانہ ڈیش بورڈ کے ذریعے کارکردگی کو مانیٹر کریں گے۔ یہ پیپر لیس نظام نادرا، اے جی آفس اور بینکس کے ساتھ منسلک ہو گا۔ مقررہ ٹائم لائن کے اندر پنشن ریٹائرڈ ملازم کے بنک اکاو
¿نٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔ مزید برآں ، ای۔پنشن نظام کو دیرپا بنانے کے لیے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ای۔ پنشن سسٹم کا بروقت اجراءیقینی بنانے کے لیے دس اہداف پر مشتمل روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ روڈ میپ میں متعلقہ محکموں کو واضح اہداف بمعہ ٹائم لائنز تفویض کیے گئے ہیں۔ 15 جنوری 2026 تک ای۔ پنشن سسٹم کا باضابطہ افتتاح کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نئے سسٹم کے اجراءسے پنشن پراسیس ٹائم مہینوں سے کم ہو کر دو سے چار ہفتوں تک آ جائے گا۔اس آن لائن نظام سے پینشنرز کو پنشن کے لیے دفاتر کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملازمین کو پنشن کے موجودہ نظام کی طرح مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،یہ ایک حقیقی پیپر لیس سسٹم ہو گا جس سے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کو حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل پختونخوا بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا ای۔ پنشن سسٹم کا اجراءکرنے والا ملک کا پہلا صوبہ ہوگا۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اب تک 36 مختلف عوامی خدمات کو آن لائن کردیا گیا ہے جبکہ باقی خدمات کو بھی آن لائن کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے آزاد جموں اینڈ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ایک نمائندہ وفد کی ملاقات
دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے آزاد جموں اینڈ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ایک نمائندہ وفد نے پیر کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر، سابق وزرائے اعظم راجہ فاروق حیدر، راجہ عتیق احمد خان اور سردار عبدالقیوم نیازی کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کے ممبران شامل تھے۔ ملاقات میں کشمیر کے مسئلے کو بھر پور انداز میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے سے متعلق معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اپنی گفتگو میں وفد کے ارکان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے ہمیشہ کشمیر کے لوگوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے،کشمیر کاز کی بھر پور حمایت پر کشمیر کے عوام خیبر پختونخوا کے عوام اور حکومت کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یک طرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ میں پاکستان کو شاندار کامیابی ملی جس کے بعد کشمیر کا مسئلہ ایک دفعہ پھر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوگیا ہے، یہ ایک سنہرا موقع ہے جس کا بھر پور فائدہ اٹھا کر کشمیر کاز کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وفد کے اراکین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر یکسوئی کے لئے ہمیں صوبوں اور وفاق کا مزید تعاون درکار ہے، اس سلسلے میں پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں کشمیر کاز کے حوالے سے متفقہ قراردادیں منظور کرائی جائیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کو مزید موثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر اور متحد ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگوں نے پہلے بھی اپنے کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی دیں گے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور اسمبلی کشمیر کے مسئلے پر ہر طرح کا تعاون فراہم کرے گی اور اس سلسلے میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرانے کے لئے صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس جلد بلایا جائے گا جس میں آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبران کو بھی دعوت دی جائے گی اوراس قرارداد کے ذریعے عالمی برادری کو کشمیر کے مسئلے پر ایک موثر پیغام دیا جائے گا۔

