The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 3 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے زیر اہتمام لوئر چترال میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کا مربوط ذہنی صحت پروگرام کا آغاز

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے زیر اہتمام لوئر چترال میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کا مربوط ذہنی صحت پروگرام کا آغاز

لوئر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے اشتراک سے ’مربوط ذہنی صحت پروگرام‘ کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد علاقے کے عوام کو بروقت، باعزت اور رازداری کے ساتھ ذہنی صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ چترال اور گلگت بلتستان کے تقریباً دو لاکھ چھبیس ہزار افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچائے گا، جس میں صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں کے درمیان مؤثر رابطے اور اشتراکِ عمل کو فروغ دیا جائے گا۔ پروگرام کے نمایاں حصوں میں آغا خان میڈیکل سینٹر بونی (چترال) اور آغا خان اسپتال گلگت میں ذہنی صحت کے داخل مریضوں کے لیے خصوصی خدمات کا قیام شامل ہے، جو خطے میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا

ریجنل ہیڈ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان، معراج الدین نے اس پروگرام کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کی جانب سے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومتی نمائندگان اور شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد معاشرے میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا، کمیونٹی کی سطح پر خدمات کو مربوط بنانا اور ایک ایسا معاون نظام تشکیل دینا ہے جو ہر فرد کو بروقت اور باعزت ذہنی و نفسیاتی معاونت فراہم کر سکے۔

یہ پروگرام آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے اشتراک سے آغا خان ترقیاتی نیٹ ورک کے مختلف اداروں کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے، جن میں آغا خان ایجوکشن سروس، پاکستان؛ آغا خان یونیورسٹی دماغ و ذہن ادارہ؛ آغا خان یونیورسٹی برائے تعلیم و ترقی؛ آغا خان یوینورسٹی ہسپتال شعبۂ امراضِ نفسیات؛ آغا خان دیہی امدادی پروگرام؛ ڈیجیٹل انسانی وسائل مرکز؛ آغا خان ہیلتھ بورڈ برائے پاکستان؛ اور جماعتی اداروں کے محکمہ کی بین الاقوامی ذہنی صحت کی مجلس شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت خیبر پختونخوا چترال بھی اس پروگرام کے نفاذ میں ایک اہم شراکت دار ہے۔

ظفرالدین، صدرِ نامدار ریجنل کونسل لوئر چترال، اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل ہمارے معاشرے میں بدنامی، لاعلمی اور غلط فہمیوں کی نذر ہیں، جس کے باعث لوگ اکثر مدد حاصل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کو جسمانی صحت جتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے، اور ایسے پروگرامز معاشرے میں شعور اجاگر کرنے، منفی تصورات کے خاتمے اور لوگوں کو بروقت معاونت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر چترال، ریاض احمد نے اپنے خطاب میں آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے، خصوصاً صحت اور تعلیم میں، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی خدمات نمایاں ہیں۔ آج کے دور کی ایک نہایت اہم ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’مربوط ذہنی صحت پروگرام‘ کا آغاز ایک قابلِ تحسین اور دوراندیش قدم ہے۔ یہ پروگرام چترال کے عوام کو رازداری، اعتماد اور پیشہ ورانہ معاونت فراہم کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی مسلسل کوششیں ہماری برادریوں پر دیرپا اور مثبت اثرات مرتب کریں گی۔ ڈپٹی کمشنر آفس اس پروگرام کے مؤثر نفاذ میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

شاہی خطیب مولانا خالق الزمان نے اپنے خطاب میں ذہنی صحت کے فروغ کے لیے ادارے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحت مند جسم ہی ایک متوازن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے صحت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے مختلف اداروں کے اشتراک سے ذہنی صحت کے میدان میں اٹھایا گیا یہ قدم وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے مولانا خالق الزمان نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی ہماری ضرورت محسوس کی جائے گی، ہم ہمیشہ پیش پیش رہیں گے اور اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے۔

ڈائریکٹر آغا خان ایجوکیشن سروس چترال، شریف پناہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ہمارے معاشرتی اور معاشی حالات پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، ذہنی امراض پاکستان میں مجموعی بیماریوں کے بوجھ کا چار فیصد سے زیادہ حصہ ہیں، جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ ذہنی صحت کو قومی ترجیح بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال، ڈاکٹر فیاض رومی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل میں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوتی ہیں، خصوصاً حمل اور زچگی کے دوران۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً چالیس فیصد خواتین اس دوران ذہنی دباؤ یا اضطراب کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر فیاض رومی نے اس موقع پر آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان اور ضلعی ہسپتال کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامز صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور مریضوں کو بروقت ذہنی و جسمانی معاونت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہر تعلیم سابق پرنسپل ممتاز حسین نے اپنے خطاب میں کہا اسی طرح خطے میں ہونے والی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے یا خودکشی سے جاں بحق ہونے والے تقریباً چالیس فیصد افراد پہلے سے افسردگی میں مبتلا تھے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں خودکشی کے واقعات کی شرح میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تخمینے کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ افراد نفسیاتی معاونت کے ضرورت مند ہیں۔

ماہرِ امراضِ نفسیات، ڈاکٹر نسیم احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں یہ جان کر بے حد اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے ہمیشہ ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے بحران پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہر سطح پر مؤثر تعاون فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت اور ترقیاتی اداروں کے ساتھ مل کر معاشرے میں دیرپا اور مثبت تبدیلی لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ڈاکٹر نسیم احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی بیماری کو ایک حقیقی طبی مسئلہ کے طور پر تسلیم کرنا ہی بہتری کی سمت پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔

پروگرام کے اختتام پر منیجر بیسک کمیونٹی پروگرام، نصرت جہاں نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کی کامیابی میں ان کے تعاون اور حمایت کو سراہا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی اشتراک اور تعاون کے ذریعے ہم اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔

chitraltimes akhsp chitral launch mental health program 12 chitraltimes akhsp chitral launch mental health program 8

chitraltimes akhsp chitral launch mental health program khateb khaliquzaman chitraltimes akhsp chitral launch mental health program 4

chitraltimes akhsp chitral launch mental health program 2 chitraltimes akhsp chitral launch mental health program 11 chitraltimes akhsp chitral launch mental health program 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
114862

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے آئی ایچ ایف ایوارڈز 2022 میں سلور ایوارڈ جیت لیا

Posted on

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے آئی ایچ ایف ایوارڈز 2022 میں سلور ایوارڈ جیت لیا

ہیلتھ سروس کو یہ ایوارڈسنہ 2023ء تک کاربن کے نیٹ زیرو اخراج کے اہداف کے حصول کے لیے گئے اقدامات کے اعتراف پر دیا گیا ہے۔

دبئی، متحدہ عرب امارات(چترال ٹائمز رپورٹ )  آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان(AKHS,P)، آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی ایک ایجنسی ہے جس نے انٹرنیشنل ہاسپٹلز فیڈریشن (IHF) ایوارڈز 2022 میں گرین ہسپتالوں کے لیے اشیکاگا نیکن ایکسی لینس ایوارڈز (Ashikaga-Nikken Excellence Awards) کی کیٹگری میں سلور ایوارڈ جیت لیا ہے۔

akhsp wins the silver at the IHF Awards 1

انٹرنیشنل ہاسپٹلز ایوارڈز کا آغاز سنہ2015ء میں ہوا تھا اور دنیا بھر میں یہ ایوارڈزہسپتالوں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو سراہنے والے ایک اہم پروگرام کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کو سلور ایوارڈ دبئی، متحدہ عرب امار ات، میں منعقدہ 45ویں آئی ایف ایچ ورلڈ ہسپتال کانگریس کے دوران ایوارڈز کی خصوصی تقریب میں نوازا گیا۔اس ایوارڈ کا مقصد ایجنسی کے موجودہ اقدامات اور 2030تک کاربن کے اخراج کو نیٹ زیرو تک لانے کے لیے کیے گئے عہد کو تسلیم کرنا تھا۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ایک تخمینے کے مطابق،پاکستان میں خارج ہونے والے کاربن کا 4فیصد اخراج میں ہیلتھ آپریشنز سے ہوتا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق، کم اور درمیانہ آمدنی والے ممالک میں طبی نظام،گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں 3-5 فیصد تک سبب بنتے ہیں۔اس بات کے پیش نظر، AKDNنے دنیا بھر میں اپنے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی کو ترجیح دی ہے۔ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان بھی AKDNکے اِس عزم میں شریک ہے تاکہ سنہ 2030ء تک کاربن کے اخراج کو نیٹ زیرو تک لایا جا سکے اور اِس کے لیے یہ ملک بھر میں اپنی ہیلتھ کیئر کی 113سے زائد سہولتوں میں موسمی ایجنڈے پر راہنمائی کر رہی ہے۔

akhsp wins the silver at the IHF Awards 2

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے زیرنگرانی،ملک میں،کام کرنے والی صحت کی سہولتوں میں گیس کے اخراج اور فضلے (waste)پر 60 فیصد تک کنٹرول کیا گیا ہے۔ایئر کنڈیشنرز اور ریفریجریٹرز کی بڑی تعداد کو ماحول دوست گیسوں کے استعمال پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ تمام دفاتر اور سہولتیں توانائی کے استعمال میں بچت کرنیوالی لائٹوں اور، بعض صورتوں میں، شمسی توانائی پر منتقلی کے عمل میں ہیں۔ اسی طرح، سفر کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے بھی اخراج میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بھی مؤثر طریقے کار اپنائے گئے ہیں۔

دور دراز وادیوں میں،جہاں ہیلتھ کیئر تک فاصلے بہت زیادہ  ہیں،یا ایسے دیہاتوں میں جہاں  متبادل سہولتیں دستیاب نہیں ہے، آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان نے  مریضوں کا ٹیلی کنسلٹیشنز کے ذریعے   ایسے ڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ ممکن بنایا ہے جو شہری علاقوں میں دستیاب صحت کے جدید اداروں میں کام کر رہے ہیں ۔  اِس سے نہ صرف مریضوں کے لیے وقت اور پیسے کے استعمال میں کمی ہوتی ہے بلکہ سفر کی ضرورت میں کمی سے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں ۔ طبی سہولیات بھی اِس طرح تعمیر کی جارہی ہیں جن سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور وہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔

akhsp wins the silver at the IHF Awards 1

نقصان دہ اخراج میں کمی کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر،جناب ندیم عباس نے کہا:” ہم سب نے براہ راست دیکھا ہے کہ کس طرح گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمی تبدیلیوں نے پاکستان کو متاثر کیاہے۔حالیہ سیلابوں کے بعد ہونے والی گفتگو میں زیادہ ترموسمی تبدیلیوں پربات ہوتی ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان سنہ 2030ء تک کاربن کے نیٹ زیرو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ہم حکومت اور اپنے پارٹنرز کے ساتھ ملک کر کام کرتے رہیں گے تاکہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو روکنے کی غرض سے کیے جانے والے اقدامات کو وسعت دی جا سکے۔“

akhsp wins the silver at the IHF Awards 3

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
67949