The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ارب روپے میں بننے والے آئی پی پی کو 400 ارب کی ادائیگی ہوچکی، ایف پی سی سی آئی

Posted on

ارب روپے میں بننے والے آئی پی پی کو 400 ارب کی ادائیگی ہوچکی، ایف پی سی سی آئی

کراچی(چترال ٹائمزرپورٹ ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر عبدالمہیمن نے کہا ہے کہ آئی پی پیز سے معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر عبدالمہیمن نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کو ماہانہ 150 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹ ہورہی ہے، بند پلانٹس کے ساتھ دس پندرہ فیصد پر چلنے والے پلانٹس کو بھی ادائیگیاں کی جارہی ہیں، تمام آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے جس میں بدعنوانیاں پائی گئیں تو پاکستان خود بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے، آئی پی پیز کے معاملے پر جتنا تحقیق کی اتنے ہوشربا انکشافات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی شدید مہنگی ہوچکی ہے، بڑے پیمانے پر کاروبار اور صنعتیں بند ہورہی ہیں، ایک آئی پی پی 50 ارب روپے میں لگا، اس کو اب تک 400 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہیں، پانی سر سے گزر چکا ہے، بجلی کی قیمت مسلسل بڑھتی رہیں تو صنعتیں بند ہو جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے، درآمدی کوئلے کے پلانٹس کو لوکل کوئلے پر منتقل کیا جائے، 52 فیصد آئی پی پیز حکومت اور 20 فیصد چین کے ہیں، آئی پی پیز سے طے کیے گئے معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، کہ کس دور میں کون کون سے معاہدے کن شرائط پر کیے گئے، آئی پی پیز کو معاہدوں پر نظر ثانی کے لیے تیار کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کے ذریعے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، آئی پی پیز مالکان نے اپنے بچوں کو ملک سے باہر بھیج دیا ہے، مالکان کو معلوم ہے کہ کیا ہونے جارہا ہے، آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیاں دفاعی بجٹ سے زیادہ ہیں، دفاعی بجٹ 2200 ارب روپے جبکہ کیپسٹی چارجز 2600 ارب روپے ہیں۔

بنوں امن مارچ میں مسلح لوگ شامل تھے، فوج نے بالکل درست ردعمل دیا، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی(سی ایم لنکس)پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بنوں امن مارچ میں مسلح لوگ شامل ہوئے جنہیں روکنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بنوں واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کینٹ پر دہشت گردوں کے حملے اور فائرنگ سے پاک فوج کے 8 جوان اور کچھ معصوم شہری بھی شہید ہوئے، امن مارچ میں مسلح لوگ شامل ہوئے، جنہوں نے جائے وقوعہ پر فائرنگ کی، دیوار کو گرادیا اور راشن ڈپو کو لوٹا۔انہوں نے کہا کہ فوجی نے ایس او پیز کے مطابق بالکل درست ردعمل دیا، فوجی ایس او پیز کے مطابق تنصیبات پر حملہ ہو تو پہلے وارننگ دی جاتی ہے، پھر ہوائی فائرنگ اور پھر دو ٹوک جواب دیا جاتا ہے۔ترجمان پاک فوج نے زور دیا کہ بنوں واقعے میں امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے فوج کی نہیں، احتجاجی مجمع میں شامل ہوکر شرپسند عناصر فائرنگ کرکے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، تو یہ ذمہ داری وہاں کی حکومت، پولیس اور انتظامیہ کی ہے، یہ سمجھ نہیں ا?تا کہ اپنی سیاسی جماعت اور صوبائی حکومت کیخلاف کس بات کا احتجاج کرایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بنوں واقعہ اس لیے ہوا کہ ہمارا عدالتی و قانونی نظام 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو ڈھیل دے گا اور کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گا تو ملک میں انتشار مزید پھیلے گا اور فسطائیت بڑھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بنوں واقعے پر عوام کا پرامن احتجاج بالکل ہونا چاہیے، دہشت گردوں کیخلاف مارچ کریں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
91169