آئینی ترامیم پر حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا، فضل الرحمان
آئینی ترامیم پر حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا، فضل الرحمان
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم پر حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا ہے، اب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں یہ ہمارا مسودہ نہیں تھا، جو مسودہ پہلے فراہم کیا گیا تھا وہ کیا کھیل تھا؟رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اسد قیصر کی رہائش گاہ پہنچنے پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے رہنما جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسد قیصر کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ انہوں نے میرے بہت کھانے کھائے ہیں کھانا کھانے آئے تھے کھا کر جارہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا ہے، اب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں یہ ہمارا مسودہ نہیں تھا، جو مسودہ پہلے فراہم کیا گیا تھا وہ کیا کھیل تھا؟ مطالعہ کرنے کے بعد وہ مسودہ کسی لحاظ سے قابل قبول نہیں تھا یہ قوم سے بڑی خیانت ہوتی اگر اس کا ساتھ دیتے۔دریں اثنا انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں مبینہ گفتگو پر جواب دینے سے گریز کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق صدر عارف علوی اور رؤف حسن نے بھی ظہرانے میں شریک ہوئے۔ اسد قیصر نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں ظہرانے کی دعوت دی تھی۔ آئینی ترامیم کیلیے حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن وفود نے مولانا فضل رحمن سے ملاقات کی تھی۔ اس سلسلے میں اسد قیصر کافی متحرک رہے۔ عارف علوی بھی مولانا سے ملے تھے۔
مخصوص نشستوں کا معاملہ: الیکشن کمیشن کا دوسرا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم
اسلام آباد(سی ایم لنکس) مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کا دوسرا مشاورتی اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت الیکشن کمیشن کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ممبران کمیشن، سیکرٹری اور قانونی ٹیم شریک ہوئی، قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کی وضاحت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم کی بریفنگ کے بعد کمیشن نے مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن میں مشاورتی اجلاس جمعرات کو پھر ہوگا۔واضح رہے کہ 14 ستمبر کو مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے اکثریتی بنچ نے وضاحتی حکم جاری کیا جس میں کہا گیا کہ فیصلے کی روشنی میں پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار ہیں جبکہ الیکشن کمیشن فیصلے پر فوری عملدرآمد کرے۔