The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 19 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

80s کی یادیں ۔ ایک تصویر، ایک زمانہ، ایک پوری دُنیا! – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

Chitral Times

80s کی یادیں ۔ ایک تصویر، ایک زمانہ، ایک پوری دُنیا! – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

80s کی یادیں ۔ ایک تصویر، ایک زمانہ، ایک پوری دُنیا! – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

80s کی یادیں ۔ ایک تصویر، ایک زمانہ، ایک پوری دُنیا! – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

.

سوشل میڈیا پر آج کل ایک خوب صورت ٹرینڈ چلا ہے80s ۔۔۔ کی زندگی کیسی تھی، اُس زمانے کی تصویریں کیسی ہوتیں، لوگ کیسے سفر کرتے، کیسے بیٹھتے اور کیسے وقت گزارتے تھے؟ میں نے بھی سوچا، کیوں نہ ذرا اُس زمانے کو ایک تصویر میں واپس لایا جائے۔ جب اپنی تصویر مصنوعی ذہانت کے سامنے رکھی تو بخدا، مصنوعی ذہانت نے بھی کیا کمال کی اداکاری کی!

اگرچہ تصویر میں دکھائی گئی بہت سی چیزیں 80s کے ساتھ ساتھ 90s میں بھی ہماری زندگی کا حصہ رہیں، مگر ہمارے لیے یہ دونوں دہائیاں ایک ایسے زمانے کی نمائندہ ہیں جب زندگی سادہ تھی، وسائل کم تھے، سفر دُشوار تھا، مگر خوشیاں شاید آج سے کہیں زیادہ تھیں۔

1984ء یعنی ہماری پیدائش کا سال۔۔۔ شاید اسی لیے 80s کا ذکر آتے ہی دل کے کسی کونے میں ایک مانوس سی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں سفر کا اپنا ہی لُطف تھا۔ مضبوط فور وِیل گاڑیاں، سفاری، بلند و بالا پہاڑ، دریا، کچے پکے راستے، موڑ در موڑ پھیلی وادیاں اور راستے میں چھوٹے چھوٹے چائے خانے۔۔۔ جہاں مسافر ایک آدھ پڑاؤ ڈالتے، گرم چائے پیتے، گپ شپ کرتے اور پھر اپنی منزل کی اور روانہ ہوجاتے۔

غذر سے گلگت کا سفر بھی محض منزل تک پہنچنے کا نام نہیں تھا؛ سفر خود ایک واقعہ ہوا کرتا تھا۔ راستے میں کسی خوب صورت مقام پر گاڑی رُک گئی، دریا کے کنارے چند لمحے گزارے یا کسی چائے خانے میں بیٹھ گئے۔ لکڑی کی سادہ میزیں، شیشے کے گلاس، گرم چائے کی بھاپ، مسافروں کی گفتگو اور باہر کھڑی فور وِیل گاڑیاں۔۔۔ آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے، وہ بھی کیا زمانہ تھا!

اور مجھے یاد ہے، جب 90s میں پہلی بار بابا جان کے ساتھ گلگت گیا تھا۔ میرے لیے وہ واقعی ایک نئی دُنیا تھی۔ گاؤں سے نکل کر گلگت کی رونق دیکھنا، نئی نئی چیزیں دیکھنا اور ہر منظر کو حیرت سے تکنا۔۔۔ سب کچھ آج بھی ذہن کے کسی روشن گوشے میں محفوظ ہے۔

پھر ایک منظر ایسا ہے جو شاید زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔

بابا جان کی مضبوط اُنگلیوں میں اپنی ننھی سی اُنگلیاں تھامے چل رہا تھا۔ نہ جانے کس چیز نے میری توجہ کھینچی کہ میں نے بابا جان کی اُنگلیوں سے اپنی اُنگلیاں چُھڑائیں اور اُس طرف دوڑ پڑا۔۔۔

وہ چیز آئس کریم تھی!

آج اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو ہنسی بھی آتی ہے اور آنکھیں بھی بھیگ جاتی ہیں۔ اُس وقت شاید آئس کریم ہی دُنیا کی سب سے بڑی نعمت محسوس ہوئی ہوگی، مگر آج سمجھ آتا ہے کہ اصل نعمت تو بابا جان کی وہ مضبوط اُنگلیاں تھیں جنہیں تھام کر میں نے پہلی بار ایک نئی دُنیا دیکھی تھی۔

اور پھر وہ گاؤں کی زندگی۔۔۔

رات کو گھر کی چَھت پر بسترے بچھا کر آسمان تلے سو جانا، دیر تک ستارے گننا، چاند کو دیکھ کر بچوں کا آپس میں لڑنا کہ ’’چاند میرا ہے!‘‘، آس پاس گھروں سے ریڈیو کی آواز آنا، کبھی موسیقی، کبھی خبریں اور کبھی کسی ڈرامے کے مکالمے۔۔۔ بجلی چلی جائے تو اندھیرا بھی جیسے اپنا سا لگتا تھا۔

صبح سویرے گھر سے نکلنا، تتلیوں کے پیچھے بھاگنا، بارش میں بھیگنا، کاغذ کی کشتیاں بنانا اور انہیں پانی میں بہانا۔۔۔ یہ سب معمولی واقعات نہیں تھے، یہی تو ہماری دولت تھی۔

بچپن کی یادیں بھی عجیب متاع ہوتی ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، موسم بدل جاتے ہیں، چہرے بچھڑ جاتے ہیں، مگر کچھ خوشبوئیں، کچھ آوازیں، کچھ منظر اور کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں دل کے کسی کونے میں اسی طرح محفوظ رہتی ہیں، جیسے کسی غریب کی عمر بھر کی جمع پونجی۔ جون ایلیا نے اسی کیفیت کو کتنی خوب صورتی سے لفظوں میں سمویا ہے؎

یہ تیرے خط، تری خوشبو، یہ تیرے خواب و خیال
متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح
گذشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

ندا فاضلی نے شاید اسی کیفیت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں محفوظ کردیا ہے؎

وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی
وہ اب تک مرے دل پہ نقش و نگار ہیں
اور پھر وہی حسرت کہ۔۔۔
یہ دولت بھی لے لو، یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی

گاؤں کی راتوں میں واقعی ایک الگ ہی جادو تھا۔ چھت پر لیٹے لیٹے آسمان کے تاروں کو گننا، چاند کو اپنا سمجھ کر اس پر جھگڑنا، ریڈیو کی مدھم آواز سنتے سنتے نیند کی وادی میں اُتر جانا۔۔۔ آج ہمارے پاس دُنیا بھر کی آوازیں ہیں، مگر وہ ایک ریڈیو کی آواز کہاں!

کچی مٹی کی خوشبو، بارش کا پانی، پہاڑوں کی خاموشی، دریا کا شور، چائے خانے کی رونق، فور وِیل گاڑی کا سفر، بابا جان کی اُنگلی، ایک آئس کریم، اور چھت پر پھیلا ہوا ستاروں بھرا آسمان۔۔۔

زندگی شاید اس وقت کم تھی، مگر زندگی میں زندگی بہت تھی۔

آج مصنوعی ذہانت ایک تصویر کو 80s کا رنگ دے سکتی ہے، چہرے کو پُرانے فلمی کیمرے کی دھندلاہٹ دے سکتی ہے، لباس اور ماحول بدل سکتی ہے؛ مگر وہ بابا جان کی انُگلی کی گرفت، پہلی آئس کریم کی خوشی، گاؤں کی چَھت پر ستارے گننے کا لُطف اور بچپن کی بے فکری کہاں سے لائے گی؟

یہ چیزیں مصنوعی ذہانت کے پاس نہیں…
یہ صرف انمول یادیں ہیں۔

اور شاید اسی لیے کچھ تصویریں وقت گزرنے کے بعد پُرانی نہیں ہوتیں، بلکہ اور بھی قیمتی ہوجاتی ہیں۔ وہ ہمیں صرف ماضی نہیں دکھاتیں، بلکہ اُن لوگوں، راستوں اور لمحوں تک واپس لے جاتی ہیں جن کے بغیر ہماری یادوں کی دُنیا ادھوری ہے۔ فہمی بدایونی خوب کہا ہے؎

تیرے موجود رہنے تک حسیں ہیں
ستارے، آسماں، دُنیا وغیرہ

صائمہ نورین بخاری نے خوب کہا ہے؎

دل سے تیرے خیال جُدا بھی نہ ہو سکے
وہ درد ہیں کہ جن کی دوا بھی نہ ہوسکے
ہرپَل تھی دست و پا میں زمانوں کی بیڑیاں
اس قید میں تھے ہم کہ رہا بھی نہ ہوسکے

شاید اسی لیے یہ تصویر میرے لیے محض 80s کی ایک تصویر نہیں، بلکہ میرے اپنے بچپن کا کھلا ہوا دریچہ ہے۔ مصنوعی ذہانت چہرے پر پُرانے زمانے کی دھندلاہٹ، لباس میں اُس دور کی سادگی اور منظر میں گزرے وقت کا رنگ تو واپس لا سکتی ہے، مگر بابا جان کی اُنگلیوں کی وہ گرفت، پہلی آئس کریم کی وہ خوشی، گاؤں کی چھت پر ستارے گننے کی وہ بے فکری، ریڈیو کی وہ مدھم آواز اور بارش میں کاغذ کی کشتی کا وہ معصوم سا لُطف کہاں سے لائے گی؟ یہ سب چیزیں کسی تصویر میں نہیں، ہمارے اندر زندہ رہتی ہیں۔ شاید اسی کا نام بچپن ہے کہ انسان عمر بھر بڑا ہوتا رہتا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں ایک بچہ وہیں ٹھہرا رہتا ہے۔۔۔ وہی بچہ، جو آج بھی بابا جان کی اُنگلی تھامے، کسی آئس کریم کی طرف حیرت سے دیکھ رہا ہے۔ اور شاید زندگی کی سب سے بڑی دولت یہی ہے کہ کچھ یادیں وقت کے ساتھ پُرانی نہیں ہوتیں، بلکہ ہر بار آنکھوں میں نمی اور لبوں پر مسکراہٹ بن کر ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کبھی کتنے خوش نصیب تھے۔

Abdul Karim Karimi gb 80 Trend