چترال (بشیر حسین آزاد ) چترال پولیس نے ایک فراڈی شخص شیر عالم کو گرفتار کرلیا ہے جس کا تعلق گلگت سے ہے ۔ چترال پولیس کے مطابق مذکورہ شخص نے قراقرم انٹر نیشنل پرائیویٹ سکول کے نام سے ایک جعلی اداہ قائم کیا ۔ اور ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے داخلہ فیسوں کی مد میں ہزاروں روپے طلبہ سے حاصل کئے ۔ اور بازار میں ادارے کیلئے ہزاروں کی خریداری کی اور اشتہارات بنوائے ، لیکن کسی کو بھی آدائیگی نہیں کی ۔ یہاں تک کہ ٹیکسی کے کرایوں تک ادا نہیں کیا ۔ اور فراڈ کے ذریعے اپنا کام چلاتا رہا ۔ ملزم سے جعلی کاغذات ، شناختی کارڈز اور جعلی سم بھی بر آمد ہو چکی ہیں ۔ پولیس کے مطابق شیر عالم ملک کے دوسرے شہروں کراچی ،لاہور اور پشاور وغیرہ میں بھی فراڈ کے مقدمات میں ملوث تھا ۔ تاہم یہ چترال میں دھر لیا گیا ۔ چترال پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔ ملزم سے فراڈ کے سنسنی خیز انکشافات کا امکان ہے ۔
ریشن میں یوتھ کلب ریشن ٹیلنٹ ایوارڈ 2016 کی پُروقار تقریب کاانعقاد
چترال(بشیر حسین آزاد) یوتھ کلب ریشن(YCR) کی زیر نگرانی یوتھ کلب ٹیلنٹ ایوارڈ گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی عوام کی بہترین پذیرائی اور جوش وجذبے کے ساتھ ہفتہ10ستمبر کو ریشن میں منایا گیا۔جسکے مہمان خصوصی تحصیل ناظم سب ڈویژن مستوج مولانا محمد یوسف اور صدارت حاجی بلبل امان نے کی۔اس تقریب میں علاقہ ریشن کے معززین نے بڑی تعدا میں شرکت کی اور علاقے کے پانج سکولوں کے 30طلباء وطالبات نے شرکت کرکے یوتھ کلب ٹیلنٹ ایوارڈ حاصل کی۔اس تقریب کے مہمان خصوصی مولانا محمد یوسف،صدر حاجی بلبل امان ،سید سردار حسین،چیئرمین بی ایل ایس او،ناظم ویلج کونسل شہزادہ منیر،محمد عارف اللہ جنرل کونسلر،مولانا دینار،اعجاز احمد حقانی پرنسپل اسلامیہ ماڈل سکول،علی شیر خان کمیونٹی بیسڈ سکول،آصف اقبال پرنسپل ثمر قند سکول اینڈ کالج اورصدر یوتھ کلب ریشن یوتھ کونسلرآنس الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے طلباء وطالبات کو نمایاں پوزیشن لینے پر مبارکباد پیش کی اواُن پر زور دیا کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کامیابی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھیں اور ملک و قوم کی خدمت کریں۔مقررین نے اس تقریب کی وساطت سے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ نقل جیسے لعنت کو ختم کرکے سالانہ امتحانات کو شفاف بنایا جائے اور علاقے کے نوجوانوں کو صاف سترا اور صحت مند ماحول مہیا کیا جائے۔اُنہوں نے علاقے میں منشیات فروشی اور نقل کی روک تھام پرزور دیا۔اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ ہائی سکول ریشن کے ہیڈ ماسٹر کو بار بار اطلاع دینے کے باجود اس تقریب میں بلاوجہ شرکت نہ کرکے اُنہوں نے عوام کو مایوس اور اپنے طالب علموں کی حوصلہ شکنی کی جس کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔آخر میں یوتھ کلب ریشن کے صدر نے تقریب کوخوشگوار بنانے میں تعاون کرنے پر (ایلی پراجیکٹ اے کے آر ایس پی) کی میڈیم نگہت انچارج جنڈر اینڈ ڈولپمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور آئیندہ بھی اسی طرح تعاون کی اُمید ظاہر کی۔
وزیر اعظم کے دورۂ چترال اور اعلانات نے کئی پارٹیوں کو امتحان میں ڈال دیا ہے
چترال (محکم الدین) وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کے دورۂ چترال اور چترال کیلئے اُن کے اعلانات نے کئی پارٹیوں کو امتحان میں ڈال دیا ہے ۔ اُبھرتی ہوئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی اس صف میں شامل ہیںیہی وجہ ہے ۔ کہ وزیر اعظم کی تقریر پر ان دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے رہنما اور کارکن زیادہ سیخ پا نظر آرہے ہیں ۔ اور تقریر کے سیاق وسباق پر مختلف انداز میں تبصرے کررہے ہیں ۔ یہ تمام پارٹیوں کا حق ہے ۔ کہ وہ اپنے نقطہ نظر کے مطابق وزیر اعظم کی تقریر اور اعلانات پر اپنے خیا لات کا اظہار کریں ۔ کیونکہ یہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی مجبوری ہے ۔ کہ وہ اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ رکھنے کیلئے اپنے حریف پر وار کریں ،چاہے مخالف پارٹی کتنی ہی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہ کرے اور آسمان سے تارے کیوں نہ توڑ لائے۔ سیاسی پارٹیوں کو خود کو زندہ رکھنے کیلئے اپنے حریف کے خلاف بات ہر صورت کرنی ہی ہوتی ہے ۔ یوں حسب روایت و توقع چترال میں وزیر اعظم کی تقریر پر سوشل میڈیا اور میڈیا میں مخالفین کی طرف سے بحث جاری ہے ۔ اور اس میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے ۔ کہ کسی پر تنقید برملاکیا جائے ۔ اور ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ تحریک انصاف ہو پیپلز پارٹی یا جماعت اسلامی و جے یو آئی اور اے این پی یا کوئی اور پارٹی اُن کو دوسری پارٹیوں کی کمزوریوں پر انگلی اُٹھانے کا پورا اختیار ہے ۔ ہم اُن کے اس ا ختیار میں مداخلت کا حق رکھتے ہیں اور نہ اس حوالے سے اُنہیں کسی قسم کا مشورہ دینے کے مجاز ہیں ۔ لیکن ا یک چترالی کی حیثیت سے اس اختلاف کو تھوڑا سائڈ پر رکھ کر ہم اگر چترال کی ترقی پر نظر ڈالیں ۔ اور یہ جائزہ لیں کہ مخالفین کے بقول چترال کو حقارت کی نظر سے دیکھنے والے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مپھلجھڑیاں بکھیرنے والے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چترال کی تعمیر وترقی کے لئے ان تین سالوں کے دوران کیا کچھ کئے ہیں۔ اور کر رہے ہیں ،زیادہ بہتر ہو گا تاکہ ہمیں زبانی کلامی اور عملی ہمدرد کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ مثال کے طور پر جب وفاق کی طرف دیکھتے ہیں۔ تو موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت سے پہلے چترال کیلئے موت و حیات کی حیثیت رکھنے والے لواری ٹنل کا سانس رُک گیا تھا ۔مشینریز سمیٹ لئے گئے تھے ۔ مزدور اور انجینئرز اپنے اپنے ملکوں کو اور علاقوں کو چلے گئے تھے ۔ کچھ گولین گول ہائیڈل پراجیکٹ میں منتقل ہو گئے تھے ، ٹنل کی تعمیراتی کمپنی سامبوکے کروڑوں روپے حکومت کے ذمے واجب الادا تھے ۔ اورٹنل کے دونوں دھانوں پر پتھر ڈال کر بند کردیا گیا تھا ۔ جب موجودہ وزیر اعظم کی حکومت آئی ۔ٹنل کے دھانے کھول دیے گئے ۔ مشینریز نے دوباہ حرکت شروع کی ۔ کورین انجینئرز اپنے ملک سے واپس آئے،اور اُس روز آج کا روز تین شفٹوں پر کام جاری و ساری ہے ۔ سامبو کے بقا یا جات نہ صرف ادا کئے گئے ۔ بلکہ ایڈوانس چھ ارب روپے اُسے دے دیے گئے ۔ اور کمپنی کو یقین دلایا گیا کہ پیسے کی فکر نہ کرنا ۔ دن رات کام کرکے جلد از جلد تعمیر مکمل کرکے چترال کے لوگوں کو مشکلات سے نکالنا ۔ اب تک تین سالوں کے دوران 10ارب روپے لواری ٹنل پر خرچ کئے گئے ہیں ۔ جب کہ 8ارب روپے 2016-17کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ وزیر اعظم خود اس میں اتنی د لچسپی لے رہے ہیں ۔ کہ انہوں نے اپنی صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے گذشتہ روز چترال کے دورے کے موقع پر ٹنل کی وزٹ کی ۔ اور ٹنل کے اندر ایک کلومیٹر تک جا کر تمام کام کا خود جائزہ لیا ۔ اور موقع پر این ایچ اے کو ہدایت کی ۔ کہ جون 2017کو ٹنل افتتاح کیلئے مکمل ہونا چاہیے ۔ چترال پر سیلاب اور زلزلے کے دو بڑے آفت آئے ۔ وزیراعظم نے دو مرتبہ چترال کا دورہ کیا ۔ اوردو ارب بیس کروڑ روپے امدادی چیکوں کی صورت میں تقسیم ہوئے ۔ چکدرہ چترال روڈ کے لئے فنڈ مختص ہو چکے ہیں ۔ عشریت وغیرہ مقامات کے زمینات کی کمپنسیشن کی آدائیگی ہو رہی ہے ۔ زیادہ تر لوگوں نے رقم حاصل کر لئے ہیں ۔10ارب کی لاگت سے ٹنل سے چترال کی طرف سڑک پر کام زمینات کی رقم کی آدائیگی مکمل ہونے کے بعد شروع کیا جائے گا ۔ تیس میگاواٹ بجلی چترال کو دینے کیلئے وزیر اعظم نے نوٹیفیکیش جاری کی ہے ، ضلع بھر میں ٹرانسمیشن لائن کے سروے جاری ہیں ، چترال گرم چشمہ روڈ ، ایون بمبوریت روڈ ، کو بین لاقوامی معیار کی سڑک بنانے کیلئے جس کی چوڑائی 42فٹ اورپختہ حصہ 24فٹ ہوگا ۔ فنڈ مختص ہونے کے بعد این ایچ اے نے سروے کا آغاز کردیا ہے ۔ این ایچ اے حکام کے مطابق سروے اور ڈیزائن کی تکمیل کے بعد مارچ میں کام شروع کیا جائے گا ۔ ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے تورکہو روڈ کا افتتاح گذشتہ روز وزیر اعظم نے خود کیا ۔اور حالیہ دورے میں یونیورسٹی اور 250بستروں کا جدید ہسپتال اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کیلئے اعلان شدہ بیس کروڑ روپے ا س کے علاوہ ہیں ۔ان تمام منصوبوں کو یکجا کیا جائے ۔ تو 60ارب روپے کے منصوبے چترال میں چل رہے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں جب ہم صوبے کی حکومت کی چترال پر توجہ کا موازنہ کرتے ہیں ۔ تو انتہائی افسوس ہوتا ہے ۔ کیونکہ چترال کے لوگوں خصوصا نوجوانوں کو بہت زیادہ امید اور توقع تھی ۔ کہ تحریک انصاف کی حکومت چترال پر توجہ دے گی ۔ لیکن وہ اب تک خواب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے یونیورسٹی کا اعلان تو کیا ۔ لیکن اُسکی زمین کی خریداری کیلئے اتنی رقم مختص کی ۔ کہ اسے اُونٹ کے منہ میں زیرہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اگر صوبائی حکومت سالانہ اے ڈی پی میں اتنی ہی رقم یونیورسٹی کیلئے مختص کر تی رہے ۔ تو یونیورسٹی کی تکمیل کیلئے چترال کے بچے بچیوں کو پچاس سال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ اسی طرح اے ڈی پی میں چترال کے سڑکوں کی بحالی کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے رکھ دیے گئے ہیں ۔ جو کہ چترال کے عوام کے ساتھ نہ صرف مذاق ہے ۔ بلکہ بیوقوف بنانے کی مذموم کوشش ہے ۔ 2013اور2015کے سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ ویلی سڑکیں ، پلیں ، آبپاشی نہریں اور آبنوشی سکیمیں جوں کی توں پڑی ہیں ۔ چترال شہر کے زرگراندہ اورگولدور کی ایک معمولی لکڑی پُل بحال کرنے کی تاحال انہیں توفیق نہیں ہوئی ۔ جو گذشتہ سال سیلاب میں بہہ گئے تھے ۔ جیپ ایبل پُلوں کی تعمیر جن کی تعداد پورے چترال میں درجنوں میں ہے ،کی بحالی و تعمیر کی توقع رکھنا ہی بے سود ہے ۔جب پارٹی کے سربراہ ڈیڑھ سال بعد چترال آکر چترال کے انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے ڈونر کانفرنس منعقد کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ تو مزید کس چیز کی توقع رکھی جا سکتی ہے یہ تو اُس مقولے کے مصداق ہے ۔’’تریاق از عراق اوردہ شود ۔مارگُزیدہ مُردہ شود ‘‘ ایسے برق رفتار ہمدرد کیلئے کیا کہا جا سکتا ہے ۔ جو زخم بھر جانے کے بعد عیادت کو آئے ۔ اور آئے بھی تو خالی ہاتھ آئے ۔ چترال صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے ۔ اور 2013سے یہ آفات کے نرغے میں ہے ۔ لیکن صوبائی حکومت اس کی مشکلات مسلسل نظر انداز کر رہا ہے ۔ اور وسائل کی کمی کا رونا رو رہا ہے ۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جائے ۔ تو نوشہرہ ، صوابی ،دیر وغیرہ سمیت صوبے کے سات اضلاع پر نوازشیں ہو رہی ہیں ۔ جبکہ اصل مستحق چترال ہے ۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے ۔ کہ ایسے حالات میں جب کہ صوبے کی حکومت چترال کو یکسر نظر انداز کرچکاہے ۔ اور اُس کے مقابلے میں وفاق چترال کے بہت قریب آگیا ہے ۔ فضول باتوں میں اُلجھ کر اپنے پاؤں آپ کلہاڑی مارنا غیر سنجیدہ لوگوں کا کام ہے ۔ اورچترال کے مفاد کے بالکل خلاف ہے ۔ انتخابات کیلئے بہت وقت پڑا ہے ۔ اُس وقت تک انتظار کیا جائے ۔ اورجو اعلانات ہو چکے ہیں ۔ چترال کے مفاد کے یہ کام حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ سیاست کیلئے میدان کھلا ہے ۔ جو کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے ۔ لیکن سب سے بڑی سیاست یہ ہے ۔ کہ چترال کے مفادات حاصل کئے جائیں ۔ اور جو یہ مفادات چترال کو دینے کیلئے تیار ہو ۔ اُس سے لینے کی بجائے نان ایشو کو ایشو بناکر چترال کے ساتھ قربت میں دراڑ پیدا کرکے علاقے کو پھر سے پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی راہ ہموار کرنا کسی بھی طور عقلمندی نہیں ۔ ۔ چترال کے لوگوں کیلئے یہ ضروری ہے ۔ کہ وہ پارٹیوں کے خول سے نکل کر اپنے مفادات کے پیش نظر کسی کی حمایت یا مخالفت کریں ۔ جس طرح گلگت بلتستان اور کشمیر کے لوگ کر رہے ہیں ۔ ورنہ کھوکھلی اور بے مقصد پارٹیوں سے کچھ نہیں ملے گا ۔ اور ہم اسی طرح رُلتے رہیں گے ۔
چترال(بشیر حسین آزاد) چترال گول نیشنل پارک کے ملحقہ گیارہ دیہات کے وی سی سیز اور بفرزون رمبور اور گرم چشمہ کی نمائندہ تنظیم ہے۔اور گذشتہ11سالوں سے چترال گول وائلڈ لائف ڈویژن کے ساتھ اشتراک سے قدرتی وسائل کی تحفظ اور کمیونٹی کی ترقی کیلئے کام کررہی ہے۔(سی جی سی ڈی سی اے)کی چیئرمین شپ کیلئے انتخابات گذشتہ دنوں چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئے۔انتخابات نگران چیئرمین ریاض احمد دیوان بیگی ناظم چترال ٹو کے نگرانی میں منعقد ہوئے۔جسمیں عالم زیب ایڈوکیٹ اکثریتی ووٹ لیکر چیئرمین (سی جی سی ڈی سی اے) منتخب ہوئے۔یوتھ فورم کے نوجوانوں کی طرف سے محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے بروغل نیشنل پارک کی اسامیوں میں جانے والے امتیازی سلوک کی پُرزورمذمت
چترال ( بشیر حسین آزاد ) چترال کے پسماندہ ترین علاقہ بروغل کے یوتھ فورم کے نوجوانوں نے محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے بروغل نیشنل پارک کی اسامیوں میں اُن کے ساتھ کئے جانے والے امتیازی سلوک کی پرُزور مذمت کی ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ جب تک بروغل کے نوجوانوں سے انصاف نہیں کیا جاتا ۔ وہ بروغل نیشنل پارک کوکسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ چترال پریس کلب میں جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امین جان تاجک ویلج ناظم بروغل ، شفیق احمد ، عیسی خان ، نذیر احمد ، شیرین بیگ ،میر عزیز اور میرزا جان نے کہا ۔ کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے بروغل نیشنل پارک کی آسامیوں میں بھرتی کے سلسلے میں اُن کے قد ،صحت اور تعلیم کو بنیاد بناکر اُن کو حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ جو کہ سراسر قابل مذمت اور ظلم و زیادتی کی انتہا ہے ۔ کیونکہ بروغل چترال بلکہ پاکستان کا وہ پسماندہ ترین علاقہ ہے ۔ جو اب تک تعلیم،صحت کے اداروں اور خوراک سے محروم ہے ۔ وادی میں اب بھی لوگ پیدل ، گھوڑوں اور یاک پر سفر کرتے ہیں ۔ اور لوگوں کی زندگی کا انحصار مال مویشی پالنے پر ہے ۔جبکہ نیشنل پارک قائم کرکے بروغل کے مال مویشیوں کی خوراک بھی بند کی جارہی ہے ۔ اور مقامی نوجوانوں کو ملازمت سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بروغل جیسے دور اُفتادہ علاقے کے نوجوانوں سے چترال شہر کے نوجوانوں کے مقابلے کی توقع کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بروغل کے عوام اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور وائلڈ لائف کو خبردار کرتے ہیں ۔ کہ بروغل کے نوجوانوں کو خصوصی رعایت دے کر اُن پوسٹوں پر تقرر کیا جائے ۔ بصورت دیگر تمام بروغل کے لوگ نیشنل پارک کا بائیکاٹ کریں گے ۔ انہوں نے چترال کے تمام سیاسی نمایندگان سے پُر زور اپیل کی ۔ کہ اُن کی حالت پر رحم کیا جائے ۔ اور نیشنل پارک کے مشتہر پوسٹوں پر مقامی نوجوانوں کا تقرر کیا جائے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ۔ کہ علاقے میں تعلیم، صحت اور خوراک کی کمی کا ذمہ دار حکومت ہے ۔ اور آج کے جدید دور میں بھی بروغل ہمارے حکمرانوں کی عدم توجہ اور امتیازی سلوک کی وجہ سے انتہائی طور پر پسماندگی کا شکار ہے ۔ اس کے باوجود یہاں کے لوگوں پر رحم نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ علاقے کے نوجوانوں کو اگر نظر انداز کیا گیا ۔ تو بہت سے مسائل اُٹھ سکتے ہیں ۔ اور محکمہ وائلڈ لائف کسی صورت اس نیشنل پارک کو کامیاب نہیں کر سکتا ۔ نیشنل پارک کو کامیاب بنانے کیلئے مقامی نوجوانوں کو رعایت دے کر اُن کا تقرر کرنا انتہائی ضروری ہے ۔