The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 29 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

میری زندگی کا سب سے خوب صورت ناول – تحریر:  سوسن پری کریمی، دختر ہنزہ

Chitral Times

میری زندگی کا سب سے خوب صورت ناول – تحریر:  سوسن پری کریمی، دختر ہنزہ

میری زندگی کا سب سے خوب صورت ناول – تحریر:  سوسن پری کریمی، دختر ہنزہ

میری زندگی کا سب سے خوب صورت ناول – تحریر:  سوسن پری کریمی، دختر ہنزہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اگر ہماری محبت کی کہانی کسی ناول کے صفحات پر رقم ہوتی، تو شاید پاؤلو کوئیلو کے ناول “The Alchemist”  کی طرح اس میں خوابوں کی جستجو، قسمت کی پراسرار راہیں اور ایک دوسرے کو پا لینے کا معجزہ ہوتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سینٹیاگو اپنے خزانے کی تلاش میں دنیا گھوما تھا، اور مجھے اپنا سب سے قیمتی خزانہ تمہاری صورت میں مل گیا۔

اگر ہماری محبت نکولس اسپارکس کے ناول The Notebook”   “کے نوح اور ایلی جیسی ہے، تو اس میں وقت کے ساتھ گہری ہوتی چاہت، یادوں کی خوشبو اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تمہیں دوبارہ چن لینے کا عہد بھی ہے۔ تم میرے لیے محض زندگی کے ساتھی نہیں، بلکہ وہ شخص ہو جس کے ساتھ میں زندگی کے ہر موسم کو محبت کا موسم بنا سکتی ہوں۔

تم میں کبھی خالد حسینی  کے ناول “The Kite Runner”   کی طرح اپنوں کے لیے وفا نبھانے والا حوصلہ دکھائی دیتا ہے، تو کبھی جوجو موئیز کے ناول “Me Before You”   کی طرح زندگی کو نئے رنگوں سے دیکھنے، چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنے اور لمحوں کو خوب صورت بنانے کا ہنر۔ تم نے مجھے سکھایا کہ محبت صرف خوب صورت الفاظ کا نام نہیں؛ یہ تھکن کے بعد ایک دوسرے کا سہارا بننے، خاموشی میں دل کی بات سمجھنے، مشکل وقت میں ہاتھ تھامنے اور روزمرہ کی معمولی خوشیوں میں جنت تلاش کرنے کا نام ہے۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب ہم نے تیرہ برس پہلے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تھا۔ شاید تب ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وقت ہمیں کتنے موسموں سے گزارے گا، کتنی مسکراہٹیں ہمارے دامن میں ڈالے گا اور کتنی آزمائشوں کے باوجود ہمارے رشتے کو مزید گہرا کرے گا۔

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی کسی خوب صورت شام میں سورج کی سنہری کرنیں ہمارے گزرے ہوئے برسوں پر ٹھہری ہوئی ہیں۔ یادوں کی ایک کھڑکی سے ہماری پہلی ملاقات جھانکتی ہے، دوسری سے تمہاری مسکراہٹ، تیسری سے وہ بے شمار لمحے جن میں تم نے میرے عام سے دنوں کو خاص بنا دیا۔ اور سامنے مستقبل کی ایک روشن راہ ہے، جس پر ہم دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھ رہے ہیں۔

شادی سے پہلے تمہاری شاعری کی دونوں کتابیں ’’شاید پھر نہ ملیں ہم‘‘ اور ’’تیری یادیں‘‘ میں پڑھ چکی تھی۔ تمہارے لفظوں میں چھپی اداسی، ہجر کی کسک اور یادوں کی نمی سے بھی آشنا تھی۔ ممکن ہے تم نے انڈین فلم ’’ساجن‘‘ دیکھی ہو، جس میں سنجے دت ایک حساس اور اداس شاعر امن ورما کا کردار ادا کرتا ہے، جبکہ مادھوری ڈکشٹ کی محبت اس کی شاعری اور شخصیت کے گرد ایک خوب صورت کہانی بنتی ہے۔ شاید اسی فلم کے اثرات ہوں یا تمہاری شاعری کا وہ اداس رنگ، مگر میرے دل میں ایک عجیب سا خوف بیٹھ گیا تھا۔ جانتے ہو، میرا سب سے بڑا خوف کیا تھا؟ میں نے شادی کی پہلی رات تم سے ایک وعدہ لیا تھا کہ شادی کے بعد تم غمگین شاعری نہیں کرو گے۔ میں سوچتی تھی کہ اگر تم نے شادی کے بعد بھی اداس شاعری لکھی تو لوگ کیا کہیں گے؟ کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ تمہاری بیوی تمہارا خیال نہیں رکھتی، تمہیں خوش نہیں رکھ پاتی، اسی لیے تمہارے لفظوں میں اب بھی اداسی بسی ہوئی ہے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی تمہارے دکھ کو میری محبت کی کمی سمجھے، کوئی ہماری رفاقت پر سوال اٹھائے۔ اور تم جانتے ہو، تم نے کیا کیا؟ تم نے اپنا وعدہ نبھایا، میرے احساسات کی لاج رکھی اور میرا مان رکھا۔ شاید تم نے کبھی اس وعدے کی گہرائی کو میرے زاویۂ نظر سے نہ دیکھا ہو، مگر آج تیرہ برس بعد یہ اعتراف کرنا چاہتی ہوں کہ تمہاری اس خاموش محبت نے میرے دل میں تمہارے لیے احترام کو اور بڑھا دیا۔ تم نے مجھے یہ سکھایا کہ محبت صرف کسی کے لیے خوب صورت نظمیں لکھنے کا نام نہیں؛ کبھی کبھی کسی کی ایک معصوم سی خواہش کو عمر بھر اپنے دل میں جگہ دینے کا نام بھی ہے۔

تیرہ برس پہلے ہماری کہانی دو دلوں سے شروع ہوئی تھی، مگر آج یہ کہانی آشا، آذین اور سبطین کی مسکراہٹوں سے روشن ایک مکمل کائنات بن چکی ہے۔ آشا، ہماری محبت کا وہ خواب ہے جسے ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پھول بنتے دیکھا؛ آذین، ہماری زندگی کی وہ میٹھی دھن ہے جو گھر کی خاموشیوں کو قہقہوں سے بھر دیتی ہے؛ اور سبطین، ہماری کہانی کا وہ نیا باب ہے جس نے ہمارے دلوں میں محبت کے لیے مزید جگہ پیدا کر دی۔ اب ہماری محبت صرف تمہارے اور میرے درمیان دھڑکنے والا احساس نہیں، بلکہ تین ننھی کائناتوں میں پھیلتی ہوئی وہ روشنی ہے جس کے گرد ہماری زندگی گھومتی ہے۔

ڈئیر کریمی! اگر زندگی ایک طویل ناول ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اس کا ہر اگلا باب تمہارے نام ہو۔ اگر یہ ایک سفر ہے تو میری منزل تمہارے ساتھ چلتے رہنے میں ہے۔ اگر یہ ایک خواب ہے تو میری دعا ہے کہ اس خواب کی تعبیر میں ہمارے بچوں کی ہنسی، ہمارے گھر کا سکون اور تمہاری آنکھوں میں میرے لیے وہی محبت ہمیشہ زندہ رہے۔

مجھے تمہارے ساتھ صرف خوشیوں کے دن نہیں گزارنے؛ میں تمہارے ساتھ عمر کے ہر موسم میں بوڑھا ہونا چاہتی ہوں۔ سردیوں کی کسی خاموش شام میں ایک ہی کمبل میں بیٹھ کر پرانی یادیں دہرانا، بارش کی بوندوں کے ساتھ چائے پینا، ہاں تمہاری پسندیدہ ادرک والی چائے۔۔۔ بچوں کے بڑے ہو جانے کے بعد ان کی شرارتوں کو یاد کرکے مسکرانا، اور زندگی کی شام میں بھی تمہارا ہاتھ تھام کر یہ کہنا کہ دیکھو، ہم نے کتنی خوب صورت زندگی گزاری ہے!

میں چاہتی ہوں کہ جب ہمارے بالوں میں چاندی اتر آئے، تب بھی تم میری آنکھوں میں وہی پہلی محبت تلاش کر سکو، اور میں تمہاری مسکراہٹ میں اپنا پورا جہان دیکھ سکوں۔

تم میرے لیے کسی افسانے کے بے عیب ہیرو نہیں، بلکہ حقیقت کی دنیا میں میرا پسندیدہ انسان ہو؛ اپنی خوبیوں، کمزوریوں، خوابوں اور خاموشیوں سمیت۔ تمہارے ساتھ محبت کا مطلب کسی کامل انسان کو پانا نہیں، بلکہ ایک حقیقی انسان کے ساتھ مل کر زندگی کو خوب صورت بناتے رہنا ہے۔

شادی کی تیرہویں سالگرہ مبارک، میری محبت، میرے ہم سفر، میرے بچوں کے بہترین ساتھی، اور میرے دل کے سب سے عزیز انسان!

اللہ کرے ہماری محبت پر وقت کی گرد نہ بیٹھے، ہماری رفاقت پر کسی غم کا سایہ مستقل نہ ہو، ہمارے گھر میں ہمیشہ محبت، صحت، سکون اور برکت کی روشنی رہے، اور ہم اپنے بچوں کے لیے محبت اور احترام کی ایسی مثال بنیں جسے وہ عمر بھر اپنے دلوں میں سنبھال کر رکھیں۔

اور ہاں، اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ کیا ہے، تو میں مسکرا کر کہوں گی کہ پاؤلو کوئیلو نے “The Alchemist”   میں خزانے کی تلاش کا قصہ لکھا، نکولس اسپارکس نے “The Notebook”   میں محبت کی لازوال یادیں رقم کیں، خالد حسینی  نے “The Kite Runner”  میں وفا اور رشتوں کی گہرائی دکھائی، اور جوجو موئیز نے “Me Before You”   میں زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کا احساس دلایا؛ مگر میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے ان سب احساسات کی ایک جھلک اپنی حقیقی زندگی میں، تمہارے ساتھ ملی۔

تیرہ برس، ہزاروں یادیں، بے شمار دعائیں، تین خوب صورت تحفے آشا، آذین اور سبطین۔۔۔ اور ایک محبت، جسے میں ہر جنم میں دوبارہ چننا چاہوں گی۔  تم تھے تو سفر خوب صورت تھا، تم ہو تو زندگی حسین ہے، اور تم رہو گے تو آنے والا ہر کل میری امیدوں کا سب سے روشن صفحہ ہوگا۔

Happy 13th Anniversary, My Love!

آج بھی تم، کل بھی تم، اور میری ہر آنے والی دعا میں بھی تم!

معذرت چاہتی ہوں کہ میری اردو شاید اتنی شستہ اور دل نشیں نہیں جتنی تمہاری محبت کا حق ادا کرنے کے لیے ہونی چاہیے؛ یقیناً انگریزی میں شاید اس سے بہتر لکھ سکتی تھی، مگر تمہارے ساتھ بیٹھ کر، تمہاری گفتگو میں اردو کی مہک محسوس کرتے کرتے، میں نے اس زبان سے محبت کرنا بھی سیکھا ہے۔ اور پھر میں چاہتی تھی کہ میری محبت کی یہ تحریر صرف انگریزی سمجھنے والوں تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر اُس دل تک پہنچے جو رشتوں کی حرمت، محبت کی گہرائی، وفا کی معنویت اور عمر بھر کی رفاقت کی قدر جانتا ہے؛ کیونکہ بعض محبتیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، دل سے محسوس کی جاتی ہیں۔

آپ کی اور صرف آپ کی

سوسن