رواں سال محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ کیلئے 9.65 ارب روپے جاری کر چکے ہیں جو ریزرو فنڈز سے الگ ہیں۔ مزمل اسلم
سال کے پہلے چارمہینے میں صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے502.2 ملین روپے عوام پر خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز )مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا صحت کارڈ ریزرو فنڈز استعمال بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو صحت کے شعبے میں بھی دوسرے صوبوں پر سبقت حاصل ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چار مہینے میں صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے502.2ملین روپے عوام پر خرچ کیے گئے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے مہلک مہنگی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے اور جولائی سے اکتوبر تک صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے کارڈیالوجی سروسز پر 135.3ملین روپے خرچ کیے گئے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریزرو فنڈز سے کینسر کے علاج پر 31.4 ملین روپے کے فنڈز استعمال کیے گئے جبکہ جگر پیوندکاری پر 80.6ملین روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جولائی سے اکتوبر تک صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے گردے پیوندکاری پر 88 ملین روپے خرچ کیے گئے ان چار ماہ میں کو کلئیر ایمپلانٹ پر 165.5ن روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آئی سی یو، ڈائیلسز اور دیگر بیماریوں پر صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے1.3ملین روپے خرچ کیے گئے جبکہ پچھلے مالی سال میں بھی صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے 824.4ملین روپے خرچ کیے گئے تھے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ رواں سال محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ کیلئے9.65 ارب روپے جاری کر چکے ہیں جو ریزرو فنڈز سے الگ ہیں۔
۔۔۔
۔
*خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے صحت کے مراکز میں فارمیسی خدمات کے انضمام سے متعلق پہلی جامع پالیسی کی منظوری*
*صحت کے نظام میں بہتری اور محفوظ، معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے تاریخی اصلاحاتی اقدام*
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے میں پہلی بار “صحت مراکز میں فارمیسی خدمات کے انضمامِ کی پالیسی کی منظوردی ہے، جو صحت عامہ کے نظام میں بہتری اور سروس ڈیلیوری کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ پالیسی صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985ء کے قاعدہ 25(3) کے تحت باقاعدہ طور پر منظور کی۔یہ انقلابی پالیسی ہسپتالوں اور کلینیکل فارمیسی خدمات کو بہتر بنانے، منشیات کے انتظامی کنٹرول کو مضبوط کرنے اور ادویات سے متعلق قوانین و ضوابط کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
اس کے تحت ایک یکساں نظام برائے معیارِ کی ضمانت متعارف کرایا جائے گا تاکہ تمام سرکاری صحت مراکز میں محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔پالیسی کا ایک اہم پہلو فارمیسی عملے اور انسانی وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق ہے، تاکہ فارماسسٹ حضرات مریضوں کی نگہداشت اور ہسپتالوں کے انتظامی امور میں ایک پیشہ ورانہ اور فعال کردار ادا کر سکیں۔ اس اقدام سے بہتر علاج کے نتائج کے ذریعے عوام براہ راست مستفید ہوں گے۔ حکومت خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر صحت نے اپنے سرکاری بیان میں اس پالیسی کی منظوری کو صوبے میں جاری صحت عامہ کے اصلاحاتی عمل کا ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ حکومت نے صحت کی خدمات کے معیار، مؤثریت اور شفافیت میں مزید بہتری لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس پالیسی کے تحت صوبے بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز میں معیاری، مؤثر اور سستی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے مریضوں کے ہسپتال میں قیام کا دورانیہ کم ہوگا، منشیات کے کنٹرول اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا، اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ ادویات کا استعمال سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیا جا سکے۔تفصیلی پالیسی دستاویز عوامی معلومات کے لیے محکمہ صحت حکومت خیبر پختونخوا کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔یہ اقدام حکومت خیبر پختونخوا کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صوبے کے ہر شہری کو محفوظ، معیاری اور مؤثر ادویات کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
