The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جب انسان نے سوال کرنا سیکھا – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

Chitral Times

جب انسان نے سوال کرنا سیکھا – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

جب انسان نے سوال کرنا سیکھا – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

جب انسان نے سوال کرنا سیکھا – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

.

تاریخِ انسانی محض مٹی کے کھنڈرات، فتوحات، اور بادشاہیوں کی خونی داستان نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل ایک ایسے مسلسل سوال کا نام ہے جسے ہم ’’فلسفہ‘‘ (Philosophy) کہتے ہیں۔ جب ایتھنز کے بازاروں میں سقراط نے یہ صدا لگائی تھی کہ ’’غیر جانچ شدہ زندگی جینے کے لائق نہیں‘‘ (The unexamined life is not worth living)، تو شاید وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ فکری چنگاری آنے والی صدیوں تک انسان کے اندرونی اندھیروں کو روشن کرتی چلی جائے گی۔ سقراط کے اس زہر کے پیالے سے لے کر بیسویں صدی کی جدید لیبارٹریوں اور عدالتوں تک، انسان کی یہ فکری تگ و دو عقل، علم (Epistemology)، اور اخلاقیات (Ethics) کے سنگم پر کھڑے ہو کر کائنات اور خود اپنے وجود کو سمجھنے کی ایک لازوال داستان ہے۔
جب ہم اس فکری کارواں کے ابتدائی نقوش دیکھتے ہیں، تو افلاطون کے افق پر ’’نظریۂ مُثُل‘‘ (Theory of Forms) کا وہ سورج چمکتا دکھائی دیتا ہے جہاں مادی دنیا کی ہر شے محض ایک فانی پرچھائی اور اصل حقیقت خیالات کی ابدی دنیا میں بسی معلوم ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، دنیا میں جتنے بھی لکڑی یا لوہے کے میز موجود ہیں، وہ ٹوٹ پھوٹ سکتے ہیں، لیکن ذہن میں موجود میز کا بنیادی تصور یا “خاکہ” ابدی اور سچا ہے۔ لیکن فکر کا حسن ہی اسی تضاد میں پوشیدہ ہے کہ افلاطون کے اپنے ہی شاگرد ارسطو (Aristotle) نے اس آسمانی دنیا کے محل کو زمین پر اتار لیا۔ ارسطو نے کہا کہ سچی حقیقت آسمانی تصورات میں نہیں، بلکہ اسی مادی دنیا اور حسی تجربے میں ہے جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنے ہاتھوں سے چھوتے ہیں۔ اس ایک نظریاتی اختلاف نے مشاہدے اور منطق (Logic) کی وہ بنیاد رکھی جس پر آگے چل کر پوری سائنسی عمارت استوار ہوئی۔
یہ مکالمہ جب قرونِ وسطیٰ کی ندیوں کو عبور کرتا ہوا جدید دور کے سمندر میں اترا، تو فکری زاویے یکسر بدل گئے۔

اسکاٹ لینڈ کے مفکر ڈیوڈ ہیوم (David Hume) نے استقرا کے مسئلے (Problem of Induction) اور علت و معلول (Causality) پر تشکیک (Skepticism) کے ایسے تالے ڈالے کہ عقلِ انسانی کے تمام دعوے ہل کر رہ گئے۔ ہیوم کا اصرار تھا کہ اگر سورج روزانہ مشرق سے نکلتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کل بھی یہ لازماً مشرق سے نکلے گا؛ یہ محض ہماری عادت اور نفسیاتی توقع ہے۔ لیکن اس فکری ہلچل کا جواب دینے کے لیے عمانویل کانٹ (Immanuel Kant) اٹھے اور انہوں نے وہ انقلابی معرکہ سر کیا جسے ’’کوپرنیکی انقلاب‘‘ (Copernican Turn) کہا جاتا ہے۔ کینٹ نے ثابت کیا کہ انسانی ذہن باہر کی دنیا کا کوئی بے جان عکس یا خالی تختی (Tabula Rasa) نہیں، بلکہ یہ خود زمان (Time) اور مکان (Space) کے فریم ورک کے ذریعے کائنات کا معمار ہے۔ مثال کے طور پر، جیسے کوئی رنگین چشمہ پہن کر دنیا کو دیکھے تو ہر چیز اسی رنگ کی لگتی ہے، ویسے ہی ہمارا ذہن کائنات کو سبب اور اثر کے خانوں میں رکھ کر دیکھتا ہے۔

اخلاقیات کے میدان میں داخل ہوں تو کانٹ کے نزدیک ’’فرض‘‘ (Duty) اور ’’نیت‘‘ (Intention) ہی سب کچھ ہے، چاہے نتیجہ کتنا ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو؛ مثال کے طور پر، اگر کوئی قاتل دروازے پر آ کر آپ کے دوست کے بارے میں پوچھے تو کانٹ کے نزدیک جھوٹ بولنا بہرحال غلط ہے کیونکہ اصول مطلق ہے۔ لیکن اس کے برعکس جب جرمی بنتھم (Jeremy Bentham) کی افادیت پسندی (Utilitarianism) سامنے آتی ہے، تو وہ نیت کے خول کو توڑ کر عمل کے نتائج اور اجتماعی فائدے (The greatest good for the greatest number) کو اخلاقیات کا واحد ترازو قرار دے دیتی ہے، یعنی اس صورت میں جھوٹ بولنا جائز ہے اگر اس سے کئی جانیں بچتی ہوں۔

پھر وقت آگے بڑھا اور بیسویں صدی میں عقل کا یہ سفر فلسفۂ سائنس (Philosophy of Science) اور نفسیات کے صحراؤں سے جا ٹکرا۔ کارل پوپر (Karl Popper) نے اعلان کیا کہ وہی نظریہ سائنسی کہلا سکتا ہے جو غلط ثابت ہونے کا خطرہ مول لے سکے، جسے انہوں نے ردپذیری کا اصول (Falsifiability) کا نام دیا؛ بصورت دیگر وہ محض ایک توہم پرستی یا غیر سائنس (Pseudo-science) ہے۔ مثال کے طور پر، یہ دعویٰ سائنسی ہے کہ پانی سو ڈگری پر ابلتا ہے کیونکہ اسے لیبارٹری میں غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کارل پوپر کے ہم عصر تھامس کوہن (Thomas Kuhn) نے اس لکیری ترقی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سائنس آرام سے سچائی کی سیڑھی نہیں چڑھتی، بلکہ طویل خاموشی کے بعد اچانک فکری دھماکوں اور پیراڈائم شفٹس (Paradigm Shifts) کے ذریعے اپنی شکل بدلتی ہے، جیسے نیوٹنی فزکس کا یکسر بدل کر آئینسٹائن کی نسبت عامہ (Relativity) کی طرف آنا۔
ادھر انسانی ذہن کی تہوں میں اترنے والی الزبتھ لوفٹس (Elizabeth Loftus) نے اس روایتی غرور کو خاک میں ملا دیا جو انسانی یادداشت کو ایک محفوظ کیمرہ سمجھتا تھا۔

انہوں نے ثابت کیا کہ یادداشت کوئی ریکارڈنگ نہیں بلکہ ایک لچکدار تعمیری عمل (Constructive Process) ہے، جو ذرا سی گمراہ کن معلومات کے اثر (Misinformation Effect) سے بھی اپنی پوری شکل بدل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹریفک حادثے کے بارے میں غلط الفاظ بول کر گواہ کے ذہن میں شیشے ٹوٹنے کی جھوٹی یاد بھی پیدا کی جا سکتی ہے، جس نے عدالتی نظام (Judicial System) میں چشم دید گواہوں (Eyewitnesses) کی حیثیت ہی بدل کر رکھ دی۔ سقراط کے حلق سے اترنے والے زہر سے لے کر آج کے ڈیجیٹل اور پرآشوب دور تک، یہ پورا فکری سفر ہمیں پکار پکار کر ایک بہت بڑا پیغام دیتا ہے۔ یہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کائنات میں کوئی بھی نظریہ حتمی یا پتھر کی لکیر نہیں ہوتا، اس لیے عقل کو ہمیشہ فکری عاجزی (Intellectual Humility) اور اصلاح کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

آج کی اس دنیا میں جہاں سوشل میڈیا کا شور، پروپیگنڈا اور اندھی تقلید انسانی عقل کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں، کانٹ کی کہی ہوئی روشن خیالی (Enlightenment) کی بات اور تنقیدی سوچ (Critical Thinking) ہی وہ واحد چراغ ہے جو انسان کو ہجوم کا غلام بننے سے بچاتا ہے۔ ارسطو کا افلاطون سے اختلاف ہو، یا پوپر اور کوہن کی فکری جنگ، یہ سب اس بات کا گواہ ہیں کہ معاشرے کبھی اختلافِ رائے کو کچلنے سے نہیں بلکہ اسے دلیل کے ساتھ سننے سے پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ہم نے اس چراغِ عقل کو بجھنے دیا اور سوال پوچھنے کا ہنر بھلا دیا، تو پھر یہ زندگی نہ تو جینے کے لائق رہے گی اور نہ ہی اس کے پاس انسان کہلانے کا کوئی جواز باقی بچے گا۔