ہنزہ اور چلاس: ارتقا کی ایک خوبصورت سمت ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
۔
ایک صدی قبل انگریز مصنف لوریمر نے ہنزہ سمیت بروشسکی بولنے والے علاقوں کے رقص کو Quick Dance ، جبکہ چلاس اور دیگر شینا بولنے والے علاقوں کے رقص کو Slow Dance قرار دیا تھا۔ یعنی ہمارے خطے میں رقص کے انداز اور رفتار کا یہ فرق تاریخی طور پر بھی موجود رہا ہے؛ آج اسے اچانک تہذیب کے زوال کا عنوان دینا کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو جانا ہے۔
اسی حوالے سے انور کاکو کی ایک شگفتہ بات یاد آتی ہے۔ وہ ازراہِ تفنن کہا کرتے تھے کہ ہنزہ والے ناچتے ہوئے بڑی بڑی چھلانگیں لگاتے ہیں، مگر ان کی نگاہ صرف آسمان پر نہیں ہوتی؛ وہ دورانِ رقص آس پاس زمین بھی دیکھتے جاتے ہیں کہ کہیں کوئی خالی قطعہ نظر آ جائے تو اسے بھی خرید لیں! اب یہ الگ بحث ہے کہ ہنزہ کے رقص میں چھلانگ زیادہ ہے یا زمین خریدنے کا شوق؛ لیکن کاکو کی اس بات میں ہنزہ کے مزاج پر ایک خوبصورت طنز ضرور چھپا ہے۔۔۔ یہاں رقص بھی ذرا تیز ہے اور ترقی کی رفتار بھی۔۔۔ شاید اسی لیے ہنزہ والوں کو صرف ناچتے ہوئے نہیں، آگے بڑھتے ہوئے بھی دیکھنا چاہیے، ان سے سیکھنا چاہیے۔
ہنزہ کے ایک نجی ہوٹل میں سیاحوں کے رقص کی ایک ویڈیو سامنے آئی تو حسبِ روایت سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے اسے تہذیب، اقدار اور معاشرتی زوال کے تناظر میں دیکھا، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ایک نجی جگہ پر سیاحت اور تفریح کا معمول کا مظہر تھا۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر شاید اس واقعے کو محض ایک رقص یا اخلاقی بحث تک محدود کرنے کے بجائے ہمیں اس سے کہیں بڑے سوال پر غور کرنا چاہیے۔۔۔ کیا معاشرہ بدلتے وقت کے ساتھ اپنی سوچ بھی بدلتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہنزہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں؛ یہ ایک ایسے معاشرے کی مثال ہے جس نے گزشتہ چند دہائیوں میں تعلیم، سیاحت، ٹیکنالوجی اور عالمی روابط کے ذریعے تیزی سے تبدیلی دیکھی ہے۔ جدیدیت صرف نئی عمارتوں، بہتر سڑکوں، موبائل فون، انٹرنیٹ، ہوٹلوں اور سیاحتی مراکز کا نام نہیں۔ جدیدیت دراصل ذہن کے بدلنے کا نام بھی ہے۔ ترقی کے ساتھ روشن خیالی، برداشت، تنوع کو سمجھنے کی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور دوسروں کے انتخاب کے حق کو تسلیم کرنے کا شعور بھی پیدا ہونا چاہیے۔ اگر ہم جدید سہولتیں تو قبول کریں، لیکن ذہنی طور پر ہر نئی چیز کو خوف، شک اور تعصب کی نظر سے دیکھتے رہیں تو ہماری ترقی ادھوری رہ جاتی ہے۔
میرے والد اکثر ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ جب میری بڑی بہن کا اسکول میں داخلہ ہوا تو معاشرے کے کچھ لوگوں نے تو اعتراض کیا ہی، خود خاندان میں بھی جیسے قیامت برپا ہو گئی۔ خاندان والے ایک عرصے تک والد صاحب سے ناراض رہے۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اس ’’جرم‘‘ کی سزا شاید یہ تھی کہ جب میری بہن کی شادی ہوئی تو خاندان کے بعض افراد نے نکاح کی تقریب میں شرکت تک نہیں کی۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ ایک لڑکی کو پڑھا لکھا دیا گیا تھا!
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارا خاندان غذر کے پڑھے لکھے خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ میرے دادا اپنے زمانے کے خلیفہ، صاحبِ مطالعہ اور علم دوست شخص تھے، جبکہ میرے پردادا کئی مرتبہ ہندوستان، ممبئی جا کر آغا خان سوم سے ملاقات بھی کر چکے تھے اور ان کی جوبلی کی تقریبات میں شرکت بھی کی تھی؛ یعنی اپنے عہد کے لحاظ سے وہ ایک صاحبِ علم، صاحبِ مطالعہ اور وسیع دنیا سے رابطہ رکھنے والے شخص تھے۔ مگر اسی گھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں ایک سخت لکیر کھینچی ہوئی تھی۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر ایک نسبتاً تعلیم یافتہ، مذہبی اور صاحبِ مطالعہ خاندان میں لڑکی کی تعلیم اتنا بڑا ’’جرم‘‘ سمجھی جا سکتی تھی تو معاشرے کے ان حصوں کو جدیدیت اور تعلیم کی معنویت سمجھنے میں شاید واقعی مزید سو برس درکار ہوتے، جنہیں تعلیم کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔
لیکن تاریخ کا حسن دیکھیے۔ جس تعلیم کو کبھی خاندان کے لیے باعثِ شرمندگی سمجھا گیا تھا، آج اسی تعلیم نے صرف میری بہن کی زندگی نہیں بدلی؛ پورے سماج کی سوچ بدلی، اور اس کے بعد ہمارے علاقے کی کتنی ہی بیٹیوں کے لیے اسکول کے دروازے کھلے۔ آج اس علاقے کی بے شمار لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
تب شاید ایک لڑکی کا اسکول جانا ’’بے حیائی‘‘ تھا؛ آج اسی معاشرے کے لیے بیٹی کا تعلیم یافتہ ہونا فخر ہے۔ یہی تو جدیدیت کا سفر ہے۔۔۔ جس چیز کو ایک زمانہ جرم سمجھتا ہے، کبھی کبھی اگلا زمانہ اسی کو اپنی ترقی کی بنیاد بنا لیتا ہے۔
ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔ اپنی شادی میں، میں نے خود بھی رقص کیا، دوستوں کو بھی نچایا۔ میرے دوستوں میں کئی ایسے حضرات بھی شامل تھے جو مذہبی مزاج میں خاصے کٹر سمجھے جاتے تھے؛ مگر شادی تھی، دوست اکٹھے تھے، خوشی کا موقع تھا، سو سب نے اپنے اپنے انداز میں خوشی منائی۔ اتفاق سے کیبل والوں نے پوری تقریب براہِ راست نشر کر دی۔ پھر کیا تھا، ایک نہایت معزز، بزرگ اور معروف مذہبی و سیاسی شخصیت کافی عرصے تک مجھ سے اس بات کا گلہ کرتے رہے کہ ’’آپ کو خود نہیں ناچنا چاہیے تھا۔‘‘ وہ بزرگ تھے، عمر رسیدہ تھے اور ان سے میرا احترام کا تعلق بھی تھا، اس لیے میں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ مگر وقت واقعی بڑا استاد ہے؛ چند روز پہلے انہی بزرگ مرحوم کے صاحبزادے کی شادی ہوئی۔۔۔ اور شادی کی تقریبات ابھی تک جاری ہیں۔ صاحبزادے نے ایسی ایسی چالیں ڈال کر رقص کیا کہ اگر مرحوم کی روح کہیں آس پاس موجود ہوگی تو شاید ایک لمحے کو حیران ہوئی ہوگی کہ ’’یہ وہی ناچ تو نہیں جس پر میں نے کبھی اعتراض کیا تھا؟‘‘ میں نے سوچا، اسے کہتے ہیں جدیدیت کا حسن۔۔۔ یہ جواب بہت دیر سے نہیں دیتی، بس وقت لے کر دیتی ہے۔
یہاں ہمیں Modernity، Westernization اور Occidentalization کے فرق کو بھی سمجھنا چاہیے۔ جدیدیت لازماً مغرب کی نقالی کا نام نہیں؛ یہ ایک وسیع فکری و سماجی عمل ہے جس میں تعلیم، سائنسی طرزِ فکر، فرد کی آزادی، انسانی وقار، ادارہ جاتی نظم، تنقیدی شعور اور بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت شامل ہے۔ Westernization اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب مغربی طرزِ زندگی، اقدار یا سماجی رویے کسی دوسرے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، جبکہ Occidentalization سیدھی سیدھی اندھی تقلید ہے، یعنی مغرب کے فکری، ثقافتی اور تہذیبی اثرات کو من و عن قبول کرنا، جو کسی صورت درست نہیں۔ اسی طرح ہر مغربی چیز کو محض ’’جدید‘‘ اور ہر مقامی چیز کو محض ’’روایتی‘‘ سمجھنا بھی فکری سادگی ہے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ ہم اقدار کو ان کے اخلاقی اور انسانی اثرات کی بنیاد پر پرکھیں، ان کے جغرافیائی ماخذ کی بنیاد پر نہیں۔
اسی مقام پر ہمیں Cosmopolitan Ethics، یعنی عالمی شہری اخلاقیات کے فلسفے کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں انسان صرف اپنے گاؤں، شہر یا خطے کا شہری نہیں رہا۔ سفر، تعلیم، انٹرنیٹ، تجارت اور عالمی روابط نے مختلف معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ ایسے میں ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی صرف ’’اپنوں‘‘ تک محدود نہیں رہ سکتی۔
ہمیں یہ Cosmopolitan Ethics سکھاتی ہے کہ دوسرا شخص خواہ کسی دوسرے ملک، ثقافت، مذہب یا طرزِ زندگی سے تعلق رکھتا ہو، اس کی انسانی قدر و منزلت کم نہیں ہوتی۔ عالمی شہری ہونے کا مطلب اپنی شناخت ترک کرنا نہیں، بلکہ اپنی شناخت کے ساتھ دوسروں کے انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہے۔ ہم اپنے لیے جو آزادی، احترام اور عزت چاہتے ہیں، وہی اصول دوسروں کے لیے بھی تسلیم کرنا اخلاقی پختگی کی علامت ہے۔
میرے دوست پروفیسر حقانی نے چلاس اور ہنزہ کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے اپنے مخصوص طنزیہ و مزاحیہ انداز میں کئی دلچسپ باتیں لکھی ہیں۔ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں جدیدیت کے سفر کا ایک اور پہلو آیا۔ میرا خیال ہے کہ جدیدیت کا اصل امتحان شاید یہی ہے کہ ہنزہ کبھی چلاس نہیں بنے گا، لیکن چلاس ایک دن ہنزہ ضرور بن سکتا ہے۔ اس جملے میں کسی علاقے کی تحقیر نہیں، بلکہ سماجی تبدیلی کی سمت کا ایک اشارہ ہے۔ ہنزہ نے جس طرح تعلیم، سیاحت، خواتین کی سماجی شرکت اور دنیا سے رابطے کے ذریعے اپنے امکانات کو وسعت دی ہے، دوسرے علاقے بھی اپنے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے اس تجربے سے سیکھ سکتے ہیں۔ ترقی کا حسن یہی ہے کہ آگے بڑھنے والا پیچھے نہیں لوٹتا؛ وہ اپنے تجربے کو دوسروں کے لیے راستہ بنا دیتا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں افلاطون کی مشہور Allegory of the Cave ہمارے لیے ایک طاقتور فکری استعارہ بن جاتی ہے۔ افلاطون کے غار میں قید لوگ دیوار پر پڑنے والے سایوں کو حقیقت سمجھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے حقیقت کا دوسرا رخ دیکھا ہی نہیں۔ جب ان میں سے کوئی شخص غار سے باہر نکل کر روشنی دیکھتا ہے تو ابتدا میں یہ روشنی اس کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اسے اپنی پرانی دنیا ہی زیادہ مانوس اور قابلِ قبول محسوس ہوتی ہے۔ معاشرے بھی کبھی کبھی ایسے ہی غار بن جاتے ہیں۔ ہم اپنے زمانے کے رائج تصورات، خوف، تعصبات اور سماجی پیمانوں کو ’’حقیقت‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ پھر جب کوئی نئی فکر، نئی روایت یا نیا طرزِ زندگی سامنے آتا ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری پوری دنیا خطرے میں پڑ گئی ہے۔ علامہ اقبال نے خوب کہا تھا؎
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اَڑنا
منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں
دنیا بدل رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جدیدیت ہمارے دروازے پر آئے گی یا نہیں؛ وہ آچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کس ذہنی اور اخلاقی رویے کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟
اس لیے شاید آج ہمیں ہنزہ کے ایک ہوٹل میں ہونے والے رقص سے زیادہ اپنے اندر موجود اس غار کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے، جہاں ہم نے کئی پرانے تصورات کو حقیقت، کئی خوفوں کو اخلاق اور کئی تعصبات کو تہذیب کا نام دے رکھا ہے۔
جدیدیت سے فرار ممکن نہیں؛ البتہ اس کے ساتھ شعور کے ساتھ چلنا ممکن ہے۔ اپنی شناخت بچاتے ہوئے دنیا کے لیے کشادہ ہونا ممکن ہے۔ اپنی اقدار پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے حقِ انتخاب کا احترام ممکن ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں روایت، جدیدیت اور روشن خیالی ایک دوسرے کی دشمن نہیں رہتیں، بلکہ ایک بالغ معاشرے کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا کتنی بدل گئی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کے بدل جانے کے بعد ہماری سوچ کتنی بدلی ہے؟
دوستو! ویسے آپس کی بات ہے۔۔۔ شخصی آزادی بھی کوئی چیز ہے یار۔ میرے ناچنے سے اگر آپ کو خوشی نہیں ملتی تو بخدا، تکلیف بھی نہیں ہونی چاہیے۔ آپ نہ ناچیں، مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں؛ بلکہ آپ کی اپنی پسند کے باعث میری قدر و احترام میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ بس گزارش اتنی ہے کہ میرے ناچنے پر ذرا سا برداشت کا مظاہرہ کیجیے۔ زمانہ بدلتا ہے، ترجیحات بدلتی ہیں، اور بعض اوقات ہماری اپنی رائے بھی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن آپ خود بھی ناچیں گے۔۔۔ اور اگر نہ بھی ناچے تو کم از کم دوسروں کو ناچتا دیکھ کر مسکرا ضرور دیں گے۔ آخر جدیدیت کا حسن یہی تو ہے کہ یہ انسان کو اپنی پسند کے ساتھ جینے اور دوسرے کو اس کی پسند کے ساتھ جینے کی گنجائش دیتی ہے۔