The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 22 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دائین پُل ۔ یادوں کی کھڑکیوں سے! ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

Chitral Times

دائین پُل ۔ یادوں کی کھڑکیوں سے! ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

دائین پُل ۔ یادوں کی کھڑکیوں سے! ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

دائین پُل ۔ یادوں کی کھڑکیوں سے! ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

۔

پُل صرف لوہے اور رسوں کا نام نہیں ہوتا، پُل خوابوں، نسلوں اور یادوں کا جیتا جاگتا استعارہ بھی ہوتے ہیں۔ دائین گاوں کا معلق پُل بھی ایسا ہی تھا۔ دریائے غذر کی بے قابو موجوں پر جھولتا ہوا یہ پُل نہ صرف دو کناروں کو آپس میں جوڑتا تھا بلکہ گاؤں والوں کی خوشیوں، اُمیدوں اور فخر کو بھی ایک دوسرے کے قریب لے آتا تھا۔

اسی کی دہاٸی میں تعمیر ہونے والا یہ پُل اپنے وقت میں انجینئرنگ کا شاہکار سمجھا گیا۔ یہ ایشیا کا سب سے لمبا معلق پُل تھا۔ اس کی جھولتی لکڑیاں اور کھنچتی ہوئی زنجیریں بچوں کے لیے جھولے جیسی تھیں۔ اکثر نوجوان ہوا کے شور میں پُل پر دوڑ لگاتے اور یوں محسوس کرتے جیسے وہ پرندوں کی طرح دریا کے اوپر اُڑ رہے ہوں۔ گاؤں کی شامیں اس پُل کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھیں۔

یہ پُل صرف آمدورفت کا ذریعہ نہ تھا، یہ بستی کی پہچان بن چکا تھا۔ شادی بیاہ کے جلوس، مسافروں کے قافلے، اور سکول جاتے بچے۔۔۔ سب کے قدموں کی چاپ نے اس پُل کو زندگی بخشی تھی۔ بزرگ اکثر کہا کرتے تھے:
’’یہ پُل نہیں، ہماری رگِ حیات ہے۔‘‘

دائین پُل کی شہرت اُس وقت پوری قوم تک پہنچی جب مشہور ٹی وی شو ’’نیلام گھر‘‘ میں طارق عزیز(مرحوم) نے اپنی بھاری بھر کم آواز میں ’’ابتدا ہے ربِ جلیل کے بابرکت نام سے، جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے‘‘ کے ابتدائی کلمات کے بعد دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو سلام پیش کرنے کے بعد پہلا سوال پوچھا:
“ایشیا کا سب سے لمبا معلق پُل کون سا ہے؟”
سامعین سے ایک آواز آئی: ’’شمالی علاقہ جات، ضلع غذر، تحصیل اشکومن کا دائین پُل‘‘
کچھ لمحوں کے لیے ہال پر سُکوت چھا گیا، پھر طارق عزیز نے اپنی مخصوص جاذبِ نظر مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
’’بالکل درست جواب!‘‘

اور تالیاں گونج اُٹھیں۔ اُس دن داٸین گاؤں کا نام محض ایک جغرافیائی مقام نہ رہا بلکہ فخر کا استعارہ بن گیا۔
لیکن وقت کا پہیہ اکثر خوابوں کو کُچل دیتا ہے۔ چند دن پہلے سیلاب کے بے رحم ریلے نے گاؤں کے گئی گھرانوں کے ساتھ لمحوں میں اس پُل کو بہا دیا۔ وہ منظر دیکھنے والا تھا۔۔۔ دریا کے شور کے ساتھ پُل کی زنجیریں چیخ رہی تھیں، جیسے وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو۔ اس پُل کے ساتھ کئی ذاتی یادیں وابستہ ہیں۔ کتنی چاندنی راتوں کو یہاں سے گزرنے اور رات کی تاریکی سے یادیں کشید کرنے کا موقع ملا۔ ایک دفعہ دائین سے واپسی پر کسی چاندانی رات میں فیملی کے ساتھ عین دائین پُل کے بیچ گاڑی روکنی پڑی۔ نظریں چار ہوئیں۔ ایشیا کا سب سے لمبا خوبصورت پُل، سامنے مصر سے تشبیہ دی گئی چٹورکھنڈ، کوچدہ اور برگل کی خاموش رات اور ہایول نالے سے آتی ٹھنڈی ٹھار ہوائیں۔ اوپر ستاروں کی جُھرمٹ میں چودھویں کے چاند کی نور برساتیں کرنیں۔۔۔۔ کون کم بخت ہوگا ایسے حسیں منظر سے نظریں چرائیں۔ سوسن نے کہا کیا ہوا؟ بے اختیار کہنا پڑا۔ ’’وہ دیکھو چاند۔‘‘ آشا، آزین اور الموید نے یک آواز ہوکر کہا ’’بابا! مون چاہئے۔‘‘ اب ان ننھے فرشتوں کو کون سمجھائے کہ مون کو صرف دیکھا جاسکتا ہے، پایا نہیں جاسکتا، ہاں اس کی روشنی کو روح کی گہرائی تک محسوس کیا جاسکتا ہے، سو ہم نے بھی جی بھر کے اس کی روشنی کو روح کی گہرائیوں سے کشید کرنے کی کوشش کی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہماری پہلی کتاب ’’شاید پھر نہ ملیں ہم‘‘ کا انتساب بھی چاند کے نام ہے۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات ہو رہی تھی دائین کی۔

دائین محبت کی سرزمین ہے کہ یہ زمین محبت کی دیوی اور کہوار ادب کی شہزادی خوش بیگم کی جنم بھومی بھی ہے۔ آج جب دریا کنارے کھڑے اس گاؤں کی طرف نظریں اٹھیں تو بے اختیار محشر بدایونی کا یہ شعر سامنے آیا؎
کرے دریا نہ پُل مسمارمیرے
ابھی کچھ لوگ ہیں اُس پار میرے

آج صبح جب میں نے چٹورکھنڈ سائیڈ پہ گاڑی پارک کی اور دریا کے کنارے کھڑا ہوکر ہاتھوں کا چھجہ بناکرڈوبتے پُل اور بہتے پانی کو دُور تک غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ جیسے لہریں کسی خاموش نوحے کی صدا بلند کر رہی ہوں۔ مجھے شہزادہ محی الدین ثیق میتار (چھوٹا مہتر) یاد آیا۔ گئے وقتوں کی بات ہے کہ محی الدین جب دائن میں خیمہ زن ہوا۔ شاعر تھے، اور تھوڑا سا دل پھینک بھی۔۔۔ ہنزہ کے ایک دورے کے دوران ریاستِ ہنزہ کے میر، میر محمد نظیم خان کی دختر نیک اختر شہزادی طاہرہ بیگم سے ان کی ملاقات ہوئی، پہلی ملاقات نے ہی دونوں کو زخمی کردیا۔ دونوں ایک دوسرے کے دیوانے ہوئے۔ میر نے بیٹی کی محبت کو اہمیت دی اور اپنی بیٹی کو محی الدین کے عقد میں دیا۔ اشکومن کا شہزادہ ہنزہ کی شہزادی کو لے کر دائین میں زندگی گزارنے لگے۔ خالص محبت جُدائی مانگتی ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ شہزادی اچانک بیمار ہوئیں اور اپنے شوہر نامدار سے تقاضا کرنے لگیں کہ یہ ان کی خاندانی بیماری ہے اس بیماری کی دوائی ہنزہ میں ہے۔ شہزادی کی صحت یابی کی خاطر شہزادہ محی الدین دوائی کے لیے ہنزہ کی طرف پا بہ رکاب ہوا۔ دوائی لے کر وہ جلد ہی واپس آیا۔ لیکن جس کے لیے وہ گھوڑے دوڑا کے آیا تھا وہ وہاں گئی تھا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ آج میں جس طرح دریا کنارے کھڑے دائین کے ڈوبتے پُل کو دیکھ رہا ہوں، محی الدین بھی اسی جگہ دریا کے پاس آکے دریا کراس کرنے سے پہلے ہاتھوں کا چھجا بناکر دائین کی طرف دیکھتا ہے اور اُن کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ دائین کے قبرستان میں کچھ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی رفیقۂ حیات کوچ کر گئی ہیں۔ شاعر تھے، کرب کے ان لمحوں کو کہوار شاعری میں قید کرتے ہیں؎
بختاوار دائین و روئے تا سوم غریبی اریبی
بو غور خبار گانی گیور مہ ژانو کیا ارینی

کہوار سمجھنے والے اس شعر کی ذو معنویت کو خوب سمجھتے ہیں۔ میں اس کا ترجمہ کرکے اس کا مزہ کِرکِرا کرنا نہیں چاہتا۔ دائین کے باشندوں کو سیلاب کی تباہکاریوں اور اس تاریخی پُل کے ڈوب جاننے پر وہی دُکھ ہے جو شہزادہ محی الدین کو ان کی بیگم شہزادی طاہرہ کی جُدائی کا تھا۔ کیوں۔۔۔ کیوں کہ پُل صرف لکڑی اور لوہے سے نہیں بنتے۔ پُل یادوں، خوابوں اور محبتوں سے بھی بنے ہوتے ہیں۔ داٸین پُل آج دریا کے پانیوں میں دفن ضرور ہو گیا ہے، مگر وہ ہمیشہ دلوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہے گا شہزادہ محی الدین کی شاعری اور محبت کی طرح اور شہزادی طاہرہ بیگم کی جُدائی اور فرقت کی طرح۔
یہ سچ ہے کہ ایک تاریخ لمحوں میں زمین بوس ہو گئی، مگر یہی قدرت کا اصول ہے کہ زوال کے بعد تعمیر کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم سب دُعا گو ہیں کہ جس طرح دائین پُل نے نسلوں کو سہارا دیا، ویسے ہی بہت جلد ایک نیا اور مضبوط تر پُل تعمیر ہو۔ وہ پُل جو نہ صرف گاؤں کی ضرورت پوری کرے بلکہ نئی نسل کو یہ احساس بھی دلائے کہ خواب گرنے سے ختم نہیں ہوتے، وہ دوبارہ تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ داٸین پُل گر گیا ہے، مگر اُمید کا پُل آج بھی ہمارے دلوں میں قائم ہے۔ اس اُمید کے پیچھے دائین کے کچھ خوب رو نوجوان ہیں، جن کو میں جانتا ہوں آپ ان سے مل کر میرے موقف کی تائید کریں گے۔ موسیٰ علی خان، موسیٰ علی خان پاشا، جہانگیر خان، راجہ ایوب خان، ریشم درانی، محمد وزیر، سید اکبر علی شاہ، اکبر چئیرمین، مرزا حسن، سعید احمد، چراغ الدین، حسن خان، جاگیر خان، شاہ رئیس۔۔۔ اور اور۔۔۔ بہت سارے ہوں گے، جن کا نام میں نے لیا ان کو میں قریب سے جانتا ہوں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن پر گاؤں کی نظریں ٹکی ہیں۔ اگر ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہوں، تو یقین مانیے دائین کا نیا پُل صرف لوہے اور پتھر سے نہیں، بلکہ عزم، محبت اور اتحاد سے تعمیر ہوگا۔
این دُعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!