The Voice of Chitral since 2004
Monday, 10 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

چترال اور گلگت تقسیمِ انتظام یا تقسیمِ تہذیب – تحریر:  نورالہدیٰ یفتالی

Chitral Times

چترال اور گلگت تقسیمِ انتظام یا تقسیمِ تہذیب – تحریر:  نورالہدیٰ یفتالی

چترال اور گلگت تقسیمِ انتظام یا تقسیمِ تہذیب – تحریر:  نورالہدیٰ یفتالی

چترال اور گلگت تقسیمِ انتظام یا تقسیمِ تہذیب
ریاستِ چترال سے گریٹ گیم تک، ایک مشترکہ تاریخ کی گمشدہ داستان
تحریر:  نورالہدیٰ یفتالی

.

تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ قومیں تقسیم ہو جاتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اپنی مشترکہ تاریخ بھی بھلا دی جاتی ہے۔ ہندوکش کے دامن میں آباد چترال، لاسپور،یارخون مستوج ،دروش ،برنس ،مروئی ،موڑکہو،تورکہو بونی وادی بروغل اور غذر، یاسین، اشکومن، پونیال، گلگت اور وسطی ایشیا کے سرحدی علاقے صدیوں تک ایک مشترکہ تہذیبی، لسانی اور معاشرتی اکائی کے طور پر زندہ رہے۔ آج اگرچہ یہ مختلف انتظامی حدود میں تقسیم ہیں، لیکن ان کے لوگوں کی زبان، رسم و رواج، موسیقی، رہن سہن، لوک داستانیں، طرزِ تعمیر اور خاندانی رشتے اب بھی ایک مشترکہ تہذیب کی گواہی دیتے ہیں۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب تہذیب ایک تھی تو انتظامی سرحدیں الگ کیسے ہو گئیں ۔انیسویں صدی سے پہلے شمالی پاکستان کی موجودہ سرحدیں آج کی طرح واضح نہیں تھیں۔ ریاستِ چترال ایک باقاعدہ سیاسی اکائی تھی جس کے اثرات بروغل، یارخون، لاسپور، شندور اور غذر کی سمت تک محسوس کیے جاتے تھے۔ دوسری طرف یاسین، پونیال، اشکومن اور غذر کی چھوٹی ریاستیں بھی کبھی آزاد، کبھی ایک دوسرے کے زیرِ اثر اور کبھی بیرونی طاقتوں کے ساتھ اتحاد میں رہیں۔ ان علاقوں کے درمیان آمدورفت، تجارت اور رشتہ داریاں معمول کی بات تھیں۔

شندور صرف ایک میدان نہیں تھا بلکہ چترال اور غذر کے درمیان تہذیبی دروازہ تھا۔ بروغل صرف ایک وادی نہیں بلکہ واخان اور قشقار تک جانے والا قدیم تجارتی راستہ تھا۔ یہی راستے اس پورے خطے کو ایک دوسرے سے جوڑتے تھے۔ اگر کسی قوم کی شناخت کا سب سے مضبوط ستون زبان ہے زبانیں سرحدوں سے بڑی ہوتی ہیں تو کھوار اس پورے خطے کی مشترکہ تہذیبی علامت رہی ہے۔ آج بھی چترال کے علاوہ غذر کے یاسین، اشکومن، گوپس اور پونیال کے کئی علاقوں میں کھوار بولی، سمجھی اور ثقافتی شناخت کے طور پر اختیار کی جاتی ہے۔ اسی طرح موسیقی کے ساز، رباب اور سرندا، روایتی رقص، شادی بیاہ کی رسومات، لکڑی کے گھروں کا طرزِ تعمیر، ٹوپی، چغہ، خوراک، مہمان نوازی اور پہاڑی زندگی کا انداز حیرت انگیز حد تک مشترک ہے۔ ان علاقوں کے درمیان سینکڑوں خاندان آج بھی رشتہ داریوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامی سرحد کے دونوں طرف رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو اجنبی نہیں سمجھتے۔

انیسویں صدی میں برطانیہ اور روس کے درمیان وسطی ایشیا پر اثر و رسوخ کی کشمکش شروع ہوئی، جسے تاریخ میں گریٹ گیم کہا جاتا ہے۔ برطانوی حکومت کے لیے چترال اور گلگت دونوں غیر معمولی دفاعی اہمیت رکھتے تھے، کیونکہ یہ روسی پیش قدمی کے ممکنہ راستوں کے قریب واقع تھے۔ اسی تناظر میں برطانوی حکام نے شمالی علاقوں کے لیے مختلف انتظامی بندوبست اختیار کیے۔ گلگت ایجنسی کو براہِ راست برطانوی نگرانی میں زیادہ اہم دفاعی مرکز بنایا گیا، جبکہ ریاستِ چترال کو ایک نیم خودمختار ریاست کے طور پر برقرار رکھا گیا تاکہ سرحدی استحکام قائم رہے۔

1947 میں یہ تقسیم بنیادی طور پر دفاعی اور انتظامی تھی، نہ کہ لسانی، نسلی یا ثقافتی قیامِ پاکستان کے بعد ریاستِ چترال نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور بعد ازاں صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کا حصہ بن گئی، جبکہ گلگت اور بلتستان کا انتظامی ارتقا ایک مختلف راستے پر جاری رہا۔
اس طرح برطانوی دور کی انتظامی تقسیم برقرار رہی، حالانکہ دونوں اطراف کے لوگوں کے درمیان ثقافتی تعلقات ختم نہیں ہوئے۔

کیا چترال کی شناخت مختلف ہے؟ چترال کی شناخت کو صرف ایک انتظامی اکائی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک قدیم تہذیبی خطہ ہے جس کی جڑیں ہندوکش، پامیر اور وسطی ایشیا سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس کی زبان، موسیقی، تہوار، لباس، رہن سہن اور تاریخی روابط اسے شمالی پہاڑی تہذیبوں کے قریب رکھتے ہیں۔

یہ کہنا درست ہوگا کہ چترال کی اپنی منفرد شناخت ہے، جسے مکمل طور پر کسی ایک بڑے ثقافتی دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ چترال نے صدیوں کے دوران کھوار، بروشسکی، وخی، پامیری، کوہستانی، نورستانی اور پشتون ثقافتوں سے مختلف سطحوں پر روابط بھی رکھے ہیں۔ اسی تنوع نے اس کی تہذیب کو مزید منفرد بنایا۔ جب سے چترال کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا ہے، بہت سے لوگوں کے نزدیک چترال کی منفرد شناخت بتدریج ماند پڑتی جا رہی ہے۔ لسانی، ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے چترال کی اپنی الگ پہچان، روایات اور تہذیب رہی ہے، مگر مقامی سطح پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان خصوصیات کو وہ توجہ اور نمائندگی نہیں مل سکی جس کی توقع تھی۔ چترال کی زبانیں، ثقافت، تاریخ اور سماجی اقدار اسے پاکستان کے دیگر علاقوں سے ممتاز بناتی ہیں، اس لیے ان کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں.

آج سوال یہ نہیں کہ چترال اور گلگت ایک ہی انتظامی اکائی ہونے چاہئیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ آئین، عوامی رائے اور سیاسی عمل سے وابستہ معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی مشترکہ تاریخ کو محفوظ کر رہے ہیں کیا کھوار زبان کو وہ مقام ملا جس کی وہ مستحق ہے کیا چترال، غذر، یاسین، اشکومن اور پونیال کے مشترکہ تاریخی ورثے پر جامع تحقیق ہوئی کیا ہماری نئی نسل جانتی ہے کہ شندور صرف ایک پولو گراؤنڈ نہیں بلکہ صدیوں سے تہذیبوں کے ملاپ کی علامت بھی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ جامعات، تحقیقی ادارے اور حکومتیں شمالی ہندوکش کے مشترکہ تہذیبی ورثے پر سنجیدہ تحقیق کریں۔ چترال، غذر اور گلگت کے درمیان مشترکہ ثقافتی میلوں، ادبی کانفرنسوں، تاریخی تحقیق، زبانوں کے فروغ اور سیاحتی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ انتظامی سرحدیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر تہذیبیں ان سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔

ہندوکش کے پہاڑ آج بھی وہی ہیں، شندور کی ہوائیں آج بھی ویسی ہی چلتی ہیں، یارخون، بروغل، یاسین اور اشکومن کے راستے آج بھی صدیوں کی کہانیاں سناتے ہیں۔ وقت نے نقشے ضرور بدل دیے، مگر تہذیبوں کے رشتے نقشوں سے نہیں، انسانوں سے بنتے ہیں۔

چترال اور گلگت کی مشترکہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سرحدیں ریاستیں بناتی ہیں، لیکن تہذیبیں انسان بناتے ہیں۔ یہی مشترکہ تہذیب ہمارا اصل سرمایہ ہے، جسے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

chitraltimes chitral and gilgit aministrative divide 2

chitraltimes chitral and gilgit aministrative divide 1