کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں فیصلہ آنے تک اس کے تمام ترقیاتی اور غیر ترقیاتی کاموں پر پابندی لگادی جائے۔ پریس کانفرنس
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) وادی بمبوریت، بریراور رمبور کے عمائیدین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں فیصلہ آنے تک اس کے تمام ترقیاتی اور غیر ترقیاتی کاموں پر پابندی لگادی جائے کیونکہ ان چاروں وادیوں کے عوام کو اس کے خلاف شدید تحفظات ہیں۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک شائے، کمال الدین، محی الدین، عباداللہ، بزرگ احمد، قدرت اللہ، عبدالرفیع ایڈوکیٹ، اختر محمد، عبدالواحد اور دوسروں نے کہاکہ سال 2019ء میں اُس وقت کی صوبائی حکومت نے کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک اتھارٹی کی بنیاد رکھی اس میں بظاہر علاقے کی ترقی اور تیر تھی لیکن جب ہم نے اسکی پالیسی قوانین کا بغور مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اسکی پالیسی ہمارے وادیوں کے لیے نقصان دہ اور ظالمانہ ہے کیونکہ ہمارے علاقے کے لوگوں کا ذریعہ معاش گلہ بانی اور زراعت پر مشتمل ہے اور اس ظالمانہ پالیسی کے نفاذ سے ہمار ا ذریعہ معاش بالکل ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ہم ترقی کے مخالفت نہیں کرتے مگر جبراً مسلط کردہ پالیسیز اور قوانین کے خلاف ہیں اور بدقسمتی اس ادارے کا فوکس ترقی کے نام پر صرف اور صرف علاقے کے زمینوں کا انتظام اپنے ہاتھ لینا اور علاقے پر ٹیکس لگا کر ریونیو جنریٹ کرنا ہے اور ادانہ کرنے کے صورت میں علاقے کے عوام پر بھاری جرمانہ لگانا ہے۔وادی کے عمائیدین نے مزید کہاکہ شروع سے اب تک علاقے کے عوام اس اتھارٹی کے خلاف کئی جلسے جلوس کر چکی ہے اور متعلقہ اداروں، متعلقہ ایم پی اے اور دیگر ذمہ داراں سے بھی رابطہ کیا ہے۔
اس کے باوجود انہوں نے ہماری آواز کو یکسر نظر انداز کیا اور آج تک کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ اب چونکہ KVDA کے خلاف ہمارا کیس ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے اس کے باوجود KVDA اپنا کام جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور آج پھر مجبور ہو کر پریس کلب کے توسط سے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اتھارٹی کو جاروں وادیوں سے ختم کیا جائے۔ بصورت دیگر شدید عوامی رد عمل کے لیے تیار ہو جائیں۔ اور اگر خدانخواستہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس تمام تر ذمہ داری KVDA اور صوبائی حکومت پر ہوگی۔


