’’عشریت: چوک کی فتوحات، شہزادی کا عشق اور اخوند سالاک ؒکی روحانی قیادت‘‘ – تحریر: نجیم شاہ
(تاریخی زاویئے)
چترال کی سرزمین میں واقع عشریت صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ تہذیب، مزاحمت، عشق، روحانیت اور جہاد کا ایسا تہہ دار بیانیہ ہے جو وقت کی پرتوں میں محفوظ، نسلوں کو بصیرت عطا کرتا رہا ہے۔ یہاں کالاش اقوام کے بارہ قریے آباد تھے، جن کا ثقافتی تشخص رنگین پوشاک، دیومالائی عقائد، رسومِ عبادت اور سالانہ تہوار ’’متان تھینی‘‘ جیسے مظاہر سے نمایاں ہوتا تھا۔ یہ تہوار، جس میں رقص، شراب اور اجتماعی نغمگی شامل تھی، وادی کی فکری آزادی اور تہذیبی خودمختاری کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔
انہی تہذیبی ارتعاشات کے بیچ ایک جنگجو سردار ’’چوک‘‘ نمودار ہوتا ہے، جس کی ابتدائی عسکری سرگرمیاں دفاعی نوعیت کی تھیں۔ مگر جب کالاش تہذیب کی ثقافتی یلغار نے عشریت کے توازن کو متزلزل کیا، تو چوک نے قلعہ راہلی کوٹ پر قبضے کا عزم کیا۔ یہ قلعہ اپنی مضبوطی، خفیہ دفاعی نظام اور مزاحمتی ساخت کے باعث ناقابلِ تسخیر تصور کیا جاتا تھا۔ چوک کی ابتدائی کوششیں ناکام ہوئیں، اور یہی وہ لمحہ تھا جب اُس نے عسکری تدابیر سے آگے بڑھ کر روحانی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اُس وقت دیر کے معروف صوفی بزرگ، محمد اکبر شاہ معروف بہ اخوند سالاک بابا، ایک روحانی مینار کی حیثیت رکھتے تھے۔ چوک اُن کے حضور حاضر ہوتا ہے، اور اخوند بابا نہ صرف جہاد کی تائید کرتے ہیں بلکہ اپنی تربیت یافتہ جماعت کے ساتھ خود میدانِ جنگ میں شریک ہوتے ہیں۔ عشریت کی مقامی روایات اِس واقعے کو دو بیانیوں میں تقسیم کرتی ہیں: ایک کے مطابق چوک پہلے اخوند سالاک کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا اور پھر اُن کی ہدایت پر کالاش اقوام کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیا؛ دوسری روایت یہ ہے کہ چوک شکست خوردہ دل، التجا بھری زبان اور اُمید بھری نگاہوں کے ساتھ بابا جی کے در پر حاضر ہوا۔ اخوند بابا نے اُسے فقط تسلی نہ دی بلکہ ایک فیصلہ کن پیش قدمی کی۔ اُنہوں نے چوک کو اسلام کی دعوت دی، جسے اُس نے عقیدت سے قبول کیا۔
اخوند سالاک بابا، جنہوں نے ریاست ’’ڈوما‘‘ کے خلاف دعوت و جہاد کا آغاز کیا تھا، ایک ایسی صوفیانہ شخصیت تھے جن کا فیضان پکھلی، آلائی، نندھار، چیلاس، گلگت، مستوج اور کالاش تک پھیلا ہوا تھا۔ اُنہوں نے چوک کی مہم کو صرف اخلاقی تائید ہی نہیں دی بلکہ عملی قوت بھی فراہم کی۔ اپنی جماعت کو تیار کیا، خود بھی لشکر کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ اُن کی شمولیت نے سپاہیوں کو نیا حوصلہ بخشا۔ ہتھیار وہی تھے، مگر دل اب دُعا سے منور تھے۔ ہر قدم ایک مقصد کے لیے تھا، ہر ضرب ایمان کی روشنی میں اُٹھتی تھی۔
یہ اتحاد محض ایک سردار اور ایک ولی کا نہیں تھا، بلکہ روحانیت اور عسکریت کا ایسا سنگم تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ راہلی کوٹ قلعے کا محاصرہ سخت ہوتا رہا۔ اسی دوران عشق نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ قلعے کی شہزادی، جو چوک کے ایک جانباز سپاہی کی محبت میں گرفتار تھی، جذبۂ عشق کے زیرِ اثر قلعے کو پہنچنے والی اُس زیرِ زمین پانی کی نالی کا راز افشا کر دیتی ہے جو مارخور کے سینگوں سے بنی تھی اور چشمے سے قلعے میں پانی پہنچاتی تھی۔ نالی بند کی گئی، پانی رُک گیا، قلعہ پیاسا ہو کر کمزور ہوا، اور یوں شمشیر، عشق اور روحانیت نے مل کر تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔
اِس فیصلہ کن حملے کے نتیجے میں قلعہ چوک اور اخوند سالاک بابا کی مشترکہ کاوشوں سے فتح ہو جاتا ہے۔ فتح کے بعد اخوند بابا اپنی جماعت سمیت واپس روانہ ہوئے، مگر چوک کی مہم ختم نہ ہوئی۔ اُس نے عشریت کے بارہ مختلف دیہات میں کالاشی قبائل کے خاتمے کا فیصلہ کیا۔ یہ قبائل شکست کے بعد دیر او ڈنڈ (Dir-o-Dand)کے جنگلات میں پناہ گزین ہوئے، جن کا تعاقب کیا گیا۔ وہ جنگلات، جو کبھی تہذیب کا سایہ دار جھرمٹ تھے، اب موت کی وادی میں بدل گئے۔ عشریت کی وہ فضاء، جو کبھی ’’متان تھینی‘‘ جیسے جشنوں سے گونجتی تھی، اب نوحہ، ماتم اور خاموشی میں ڈھل گئی۔
روایت ہے کہ فتح کے بعد اخوند سالاک بابا دیر او ڈنڈ (Dir-o-Dand) کا ایک پتھر اپنی مہم کی یادگار کے طور پر ساتھ لائے، جسے اُن کی عسکری مہم کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بابا جی نے یہ پتھر اپنے گھر کی دیوار میں نصب کیا۔ یوں ’’دیر‘‘ کا نام اِس پتھر سے منسوب ہو گیا، جو ایک روحانی بزرگ کی بصیرت، میدانِ عمل میں کامیابی، اور خطے سے اُن کی قلبی وابستگی کا مظہر تھا۔ دیر کا قصبہ کابلگرام، جہاں بابا جی مدفون ہیں، بعد ازاں سوات اور اب شانگلہ کا حصہ بن چکا ہے۔
کالاشی قبائل کے خلاف اِس مہم کی کامیابی کے بعد چوک اس فتح، بصیرت اور روحانی معاونت پر ایسا گرویدہ ہوا کہ اُس نے اخوند سالاک بابا کے لیے ہر سال خالص دیسی گھی بطورِ نذرانہ روانہ کرنا شروع کیا۔ یہ نذرانہ کوئی رسمی پیشکش نہ تھی، بلکہ اُس احسان کی علامت تھی جو اخوند بابا نے فتح، فہم، بصیرت اور دعوت کے میدان میں چوک کو عطا کیا۔ روایت ہے کہ چوک کے بعد اُس کی نسلوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، جو اخوند بابا کے خلفاء کے دور میں، حتیٰ کہ دیر کے پہلے نواب محمد شریف خان کے عہد تک برقرار رہا۔
عشریت کی یہ داستان کئی سطحوں پر ہم سے مخاطب ہوتی ہے۔ اس کی تاریخ کبھی کسی قلعے سے، کبھی کسی سپاہی کے دل سے، کبھی کسی صوفی کے فیضان سے، اور کبھی کسی پتھر سے جنم لیتی ہے۔ عشریت وہ مقام ہے جہاں چوک کی جرأت، شہزادی کا عشق، اخوند بابا کی دعوت اور پتھر کی یاد مل کر ایک ایسا خواب بنتے ہیں جو وقت کے سفر میں بجھتا نہیں، بلکہ نسلوں کو روشنی، استقامت، عقیدت اور بصیرت عطا کرتا رہتا ہے۔
