آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت صحت کا سفر (SKS) پراجیکٹ کی تعارفی کوآرڈینیشن میٹنگ کا انعقاد
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال لوئر میں خواتین اور نوعمر لڑکوں و لڑکیوں کی جنسی و تولیدی صحت اور حقوق (SRHR) کو بہتر بنانے اور صحت کی سہولیات کو مضبوط کرنے کے لیے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے زیرِ اہتمام صحت کا سفر (SKS) پراجیکٹ کے تحت ایک تعارفی و کوآرڈینیشن میٹنگ مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
میٹنگ میں لوئر چترال کے سرکاری افسران، لوکل سپورٹ آرگنائزیشنز کے بورڈ ممبران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لوئر چترال ڈاکٹر محمد شمیم تھے، جبکہ اے ڈی ایچ او ڈاکٹر ارشاد احمد، ڈی ڈی او پاپولیشن ویلفیئر میر بائض خان اور منیجر SKS پراجیکٹ آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان افسر جان بھی موجود تھیں۔
منیجر ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن AKRSP چترال امتیاز احمد نے پراجیکٹ پر تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ SKS ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر اور حقوق پر مبنی پراجیکٹ ہے، جس کا مقصد پسماندہ علاقوں میں خواتین اور نوعمروں کو معیاری، صنفی حساس اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات اور درست معلومات فراہم کر کے بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ ضلع لوئر چترال کی 11 یونین کونسلز میں پانچ سالہ مدت (2026 تا 2030) کے دوران نافذ کیا جائے گا، جس کی مالی معاونت گلوبل افیئرز کینیڈا، یو این ایف پی اے اور آغا خان فاؤنڈیشن فراہم کر رہے ہیں۔
منیجر SKS افسر جان نے بتایا کہ پراجیکٹ کے تحت صحت مراکز کے عملے کی تربیت، کمیونٹی مڈوائفز کی ری ایکٹیویشن اور ریفریشر ٹریننگ، نوعمروں کی صحت سے متعلق سماجی و رویہ جاتی تبدیلی کی سرگرمیاں، حاملہ خواتین کے لیے بروقت طبی سہولیات، مستحق خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ سپورٹ، صحت مراکز کے لیے ضروری آلات اور ریفرل سسٹم کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد شمیم نے کہا کہ چترال میں صحت کے شعبے کو شدید چیلنجز درپیش ہیں اور تقریباً 85 فیصد ڈاکٹرز کی آسامیاں خالی ہیں، جس کے باعث آر ایچ سیز مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے آغا خان ہیلتھ سروس اور AKRSP کی خدمات کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت SKS پراجیکٹ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گا۔
جینڈر اسپیشلسٹ شازیہ سلطان ، فریال بانو، سی ایس منیجر عالیہ، سینئر صحافی اور اے وی ڈی پی کے سابق چیئرمین محکم الدین ایونی سمیت دیگر مقررین نے کمیونٹی کی شمولیت اور کمیونٹی بیسڈ سپورٹ گروپس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔




