آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) لویر اور اپر چترال کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) لویر چترال نے سرکاری ملازمین کے تفاوت یعنی ڈسپریٹی الاونس میں 15فیصد اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے 30فیصد کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ پنشن اصلاحات کو بھی انتہائی ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے اور پرائیویٹائزیشن کو بھی مسترد کردیا۔ منگل کے روز چترال میں تمام سرکاری ملازمین نے ہسپتال روڈ پر ایک احتجاجی جلسہ منعقد کرکے حکومت پر واضح کردیاکہ سرکاری ملازمین حکومت کی ان ظالمانہ فیصلوں کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے جوکہ ان کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔
اجلاس سے اگیگا کے رہنماؤں ضیاء الرحمن، زاہد عالم، مولانا سفیر اللہ، وقار احمد، نثار احمد، مولانا محمدقاسم، اور دوسروں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ایماء پر ملازمین کے سینوں پر خنجر گھونپنے کا قبیح عمل روک دیا جائے ورنہ ملازمین دمادم مست قلندر پرمجبور ہوں گے۔ اس موقع پر مقررین نے سرکاری ہسپتالوں میں قائم لیبارٹریوں میں ملازمین کے شئیر ز یکسر ختم کرنے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے ملازم کش عمل قراردیا اور مطالبہ کیاکہ اسے دوبارہ اور فی الفور بحال کیاجائے۔
دریں اثنا آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس ضلع اپر چترال کے زیر اہتمام اپر چترال کے تمام سرکاری ملازمین کا بھرپور احتجاجی مظاہرہ چرمین اگیگا عبدالجاوید خان کی زیر صدارت پریس کلب ہیڈ کوارٹر بونی اپر چترال میں منعقد ہوا
احتجاجی مظاہرے میں اپر چترال کے سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں شریک ہوئے
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اپرچترال کے قائدین اور تمام تنظیموں کے ذمہ داران نے مظاہرین سے خطاب کیا اور حسب ذیل قرارداد منظور کئے
(1)سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کے نجکاری کسی صورت میں قابل قبول نہیں
(2)پنشن اصلاحات کے نام پر ملازمین کا معاشی نامنظور
(3)ایڈہاک اساتذہ کرام اور کلاس فور ملازمین کی فوری مستقلی
(4)تمام کیڈر کے اساتذہ کی اپ گریڈیشن
(5)مرکزی حکومت کی طرح 30فیصد ڈی آر اے دیا جائے
اگر مطالبات منظور نہیں ہوئے تو تمام سرکاری ملازمین قلم چھوڑ،کام چھوڑ ہڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ 08 جنوری کو صوبائی اسمبلی کے سامنے بھر پور دھرنا دیا جائیگا جوکہ مطالبات کے حصول تک جاری رہیگا




