The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

شندور فیسٹیول ختم، گندگی اور کوڑا کرکٹ سے لاسپور کے عوام پریشان، مویشیوں کی ہلاکتوں پر تشویش

Chitral Times

شندور فیسٹیول ختم، گندگی اور کوڑا کرکٹ سے لاسپور کے عوام پریشان، مویشیوں کی ہلاکتوں پر تشویش

شندور فیسٹیول ختم، گندگی اور کوڑا کرکٹ سے لاسپور کے عوام پریشان، مویشیوں کی ہلاکتوں پر تشویش

شندور فیسٹیول ختم، گندگی اور کوڑا کرکٹ سے لاسپور کے عوام پریشان، مویشیوں کی ہلاکتوں پر تشویش

۔

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) شندور پولو فیسٹیول اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، تاہم مقامی آبادی کے مطابق فیسٹیول کے بعد علاقے میں ٹنوں کے حساب سے کوڑا کرکٹ، گندگی اور مضرِ صحت باسی خوراک چھوڑ دی گئی ہے، جس سے نہ صرف ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ مقامی مال مویشیوں اور جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

لاسپور کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ہر سال شندور فیسٹیول کے انعقاد سے قبل متعلقہ محکمے اس کو خوب بڑھ چڑھ پیش کرتے ہیں ، تاہم فیسٹیول کے اختتام کے بعد علاقے کو درپیش مسائل اور نقصانات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔

chitraltimes after shandur festival several livestock killed

مقامی افراد کے مطابق فیسٹیول کے بعد چھوڑے گئے باسی اور گلے سڑے کھانا کھانے سے ہر سال درجنوں مال مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں قیمتی یاک بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شندور صرف مویشیوں کی چراگاہ ہی نہیں بلکہ جنگلی حیات کا بھی اہم مسکن ہے، اس لیے علاقے میں کوڑا کرکٹ چھوڑنا ماحولیاتی آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اس حوالے سے لاسپور کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت سہروردی یفتالی نے چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں اور تماشائیوں کی جانب سے ٹنوں کے حساب سے کوڑا کرکٹ اور گلی سڑی خوراک شندور کے کھلے علاقے میں چھوڑ دی گئی ہے، جسے کھانے سے لاسپور ویلی کے درجنوں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف سیاحوں میں ماحول دوست رویوں اور صفائی کے حوالے سے شعور کا فقدان ہے، جبکہ دوسری جانب متعلقہ محکمے صرف پولو گراؤنڈ کے احاطے تک صفائی محدود رکھتے ہیں اور دیگر مقامات پر پھیلے ہوئے کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔

سہروردی یفتالی نے مزید کہا کہ باسی خوراک اور کوڑا کرکٹ کے باعث مقامی لوگوں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہلاک ہونے والے مال مویشیوں کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور متعلقہ ادارے شندور کے ان تمام مقامات کی مکمل صفائی یقینی بنائیں جہاں فیسٹیول کے دوران خیمے نصب کیے گئے تھے۔

علاقہ مکینوں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ فیسٹیولز کے لیے جامع ویسٹ مینجمنٹ پلان ترتیب دیا جائے تاکہ شندور کے قدرتی حسن، ماحول اور مقامی آبادی کے معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

chitraltimes after shandur festival several livestock killed 2