The Voice of Chitral since 2004
Friday, 2 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

افلاطون کے غار سے کانٹ کی روشن خیالی تک – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

Chitral Times

افلاطون کے غار سے کانٹ کی روشن خیالی تک – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

افلاطون کے غار سے کانٹ کی روشن خیالی تک – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

افلاطون کے غار سے کانٹ کی روشن خیالی تک – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر

.
گذشتہ تحریر میں ہم نے افلاطون کے غار کی تمثیلی کہانی پر بات کی تھی کہ کس طرح انسان زنجیروں میں جکڑے ہوئے وہم و گمان کی اندھیری دنیا کی پرچھائیوں کو ہی اصل حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے اور جب کوئی اسے روشنی کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے۔ آج کے کالم میں ہماری کوشش ہوگی کہ ہم جدید فلسفے کے عظیم جرمن مفکر عمانوئیل کانٹ (Immanuel Kant) کے شہرہ آفاق مضمون ’’روشن خیالی کیا ہے؟‘‘ کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیں کہ ہمارا معاشرہ کس طرح اپنے تعصبات اور خود ساختہ ناپختگی کی غار میں قید ہے اور اس سے باہر نکلنے کا راستہ کیا ہے۔

کانٹ ۱۷۸۴ء میں جب یہ مضمون لکھ رہا تھا تو اس نے روشن خیالی کی کوئی پیچیدہ یا سائنسی تعریف نہیں کی، بلکہ ایک نہایت سادہ اور جاندار جملہ کہا: ’’روشن خیالی انسان کا اپنی خود ساختہ ناپختگی سے باہر نکلنا ہے۔‘‘

ناپختگی (Immaturity) کیا ہے؟ ناپختگی سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل اور سمجھ بوجھ کا استعمال کرنے کے قابل نہ رہے۔ اور یہ ناپختگی ’’خود ساختہ‘‘ (Self-incurred) اس وقت بن جاتی ہے جب اس کی وجہ عقل کی کمی نہیں، بلکہ بغیر کسی کی رہنمائی کے خود سوچنے کے لیے درکار عزم اور ہمت کی کمی ہو!

ہمارے پاکستانی سماج پر اگر نظر دوڑائی جائے تو کانٹ کا یہ فلسفہ ہماری روزمرہ زندگی کا آئینے کی طرح عکس دکھاتا ہے۔ ہم نے اپنے فکری اختیارات دوسروں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ سیاسی میدان میں ہم کسی قائد کے ’’بیانیے‘‘ کو بغیر سوچے سمجھے حرفِ آخر مان لیتے ہیں؛ چاہے وہ معاشی تباہی کی طرف لے جا رہا ہو یا معاشرتی تقسیم کی طرف، ہماری عقیدت پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مذہبی معاملے میں ہم نے دین کو سمجھنے کا ٹھیکہ چند منبر نشینوں کے سپرد کر دیا ہے، جہاں سوال اٹھانا کفر اور الحاد کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے تعلیمی نظام کا ہے، جہاں بچے کو بچپن ہی سے ’’سوال نہ کرنے‘‘ اور ’’رٹا لگانے‘‘ کی ترغیب دی جاتی ہے۔

کانٹ پوچھتا ہے کہ انسان اس ناپختگی کی دلدل میں کیوں پھنسا رہتا ہے؟ اس کا جواب ہے: ’’سستی اور بزدلی!‘‘

سچی بات یہ ہے کہ ناپختہ رہنا بہت آرام دہ ہوتا ہے۔ اگر میرے پاس ایک ایسی کتاب ہے جو میری جگہ سوچتی ہے، ایک ایسا رہنما ہے جو میرے ضمیر کا فیصلہ کرتا ہے، اور ایک ایسا معالج یا پیر ہے جو میری زندگی کی سمت طے کرتا ہے، تو مجھے خود سوچنے کی زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت؟ میں بس حکم کی تعمیل کروں گا اور خود کو ہر ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھوں گا۔

معاشرے کے نام نہاد ’’سرپرست‘‘ (Guardians)۔۔۔ چاہے وہ جابر سیاست دان ہوں، منبر کے وارث ہوں یا نظام کے نگران۔۔۔ عوام کی اس سستی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ خودمختارانہ سوچ کا قدم اٹھانا انتہائی دشوار اور خطرناک ہے۔ وہ عوام کو اپنے تعصبات کی ڈوریوں سے باندھ کر رکھتے ہیں اور ڈراتے ہیں کہ اگر تم نے اس دائرے سے باہر قدم رکھا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے یا تباہ ہو جاؤ گے۔

کانٹ اس فکری جمود کو توڑنے کے لیے تاریخ کا سب سے زوردار نعرہ بلند کرتا ہے: ’’Sapere aude! یعنی جاننے کی ہمت کرو! اپنی عقل کا استعمال کرنے کا حوصلہ پیدا کرو!‘‘

کانٹ کے فلسفے کا ایک اور اہم اور انتہائی باریک پہلو عقل کا دوہرا استعمال ہے: عقل کا نجی استعمال (Private use of reason) اور عقل کا عوامی استعمال (Public use of reason)۔

کانٹ کے نزدیک جب آپ کسی سرکاری عہدے، نوکری یا مخصوص ادارے کا حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ جیسے ایک فوجی، ایک ٹیکس افسر يا ایک استاد۔۔۔ تو وہاں نظام کو چلانے کے لیے نظم و ضبط اور حکم کی تعمیل ضروری ہے (یہ عقل کا نجی یا محدود استعمال ہے)۔ لیکن ایک پڑھے لکھے شہری اور ایک مفکر (Scholar) کی حیثیت سے آپ کا یہ بنیادی حق اور فرض ہے کہ آپ اپنے مضمون، مقالے اور تحریر کے ذریعے اس نظام کی خامیوں، غلط قوانین اور ناانصافیوں پر کھلے عام تنقید کریں۔

کانٹ اس نقطے کو سمجھانے کے لیے چرچ اور پادری کی مثال دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک پادری جب چرچ کے منبر پر کھڑا ہو کر اپنی جماعت اور شاگردوں کو وعظ دیتا ہے، تو وہ چرچ کا نمائندہ ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ وہ چرچ کے طے شدہ عقائد و ضوابط (Symbol/Creed) ہی بیان کرے؛ کیونکہ اسے اسی شرط پر اس عہدے پر قبول کیا گیا ہے (یہ اس کی عقل کا نجی اور محدود استعمال ہے)۔ لیکن وہی پادری، جب ایک پڑھا لکھا مفکر اور عالم بن کر تحریر لکھتا ہے، تو اسے یہ مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ چرچ کے انہی عقائد کی خامیوں، چرچ کے نظام میں اصلاحات اور دینی فکر میں بہتری کے لیے اپنے خیالات کا دنیا کے سامنے کھلے عام اظہار کرے۔ کانٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چرچ، مذہبی رہنماؤں کا کوئی اجلاس یا حکومت ایسا کوئی دائمی معاہدہ یا حلف پاس نہیں کر سکتی جو آنے والی نسلوں کے لیے مزید تحقیق، اصلاح اور روشن خیالی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دے؛ کیونکہ انسانی فطرت کی اصل ترقی کو روکنا انسانیت کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔

بدقسمتی سے، ہمارے سماج میں اس کا الٹ ہوتا ہے۔ ہم دفتروں اور نظام میں بدنظمی پھیلاتے ہیں، لیکن جہاں عوامی سطح پر تعمیری تنقید، تحقیق اور مکالمے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں ہم خوف یا مفاد کے تحت خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کا طوفان ہے، لیکن فکر اور تدبر مفقود ہے۔ ہم ہر جھوٹی خبر اور بیانیے کے پیچھے بنا تصدیق کیے دوڑ پڑتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی عقل کا ’’عوامی استعمال‘‘ بند کر رکھا ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ روشن خیالی کوئی خوفناک فکر یا روایت سے بغاوت کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر چھپی ہوئی اس عظیم الٰہی و فطری صلاحیت کو بیدار کرنے کی ایک مثبت اور خوبصورت کوشش ہے جسے ہم عقل، تدبر اور خودمختارانہ سوچ کہتے ہیں۔ افلاطون کی تمثیلی کہانی غار کی پرچھائیوں اور تعصبات کے اندھیروں سے نکل کر کانٹ کی روشن خیالی کی روشن دھوپ میں آنا دراصل ایک مہذب، بیدار اور باشعور معاشرے کی تشکیل کی بنیاد ہے۔ سچی روشن خیالی ہمیں نفرت یا انتشار نہیں، بلکہ دانائی، بیداری، تعمیری مکالمے اور ایک دوسرے کے احترام کا درس دیتی ہے۔ آج اگر ہم اپنے تعصبات، اندھی تقلید اور خوف کے بوجھ کو اتار کر دانائی، تحقیق اور علم کی مشعل تھام لیں، تو نہ صرف ہم ایک فکری و معاشی انقلاب کا آغاز کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک خوددار، مہذب اور روشن مستقبل بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں انسان اپنی اصل عظمت کو پہچانتا ہے اور فخر سے کہہ سکتا ہے: ’’میں سوچتا ہوں، میں سوال کرتا ہوں، اور میں روشن خیالی کے ساتھ انسانیت کی بہتری کے لیے قدم بڑھاتا ہوں!‘‘