The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

محکمہ معدنیات اور جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان معدنی وسائل کی میپنگ کے معاہدے پر دستخط

Chitral Times

محکمہ معدنیات اور جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان معدنی وسائل کی میپنگ کے معاہدے پر دستخط

محکمہ معدنیات اور جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان معدنی وسائل کی میپنگ کے معاہدے پر دستخط

خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا اور جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان معدنی وسائل کی میپنگ کے معاہدے پر دستخط، عارف احمد زئی


جیولاجیکل سروے آف پاکستان خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل کا نقشہ تیار کرے گا، مشیر برائے معدنیات


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ معدنیات خیبرپختونخوا اور جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان معدنی وسائل کی میپنگ کے معاہدے پر دستخط ہوگئے،مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ میں دستخط تقریب کے موقع پر وزیراعلی کے مشیر برائے معدنیات عارف احمدزئی، جیولاجیکل سروے آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سجاد، سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز خیبرپختونخوا ہمایون خان اور ایڈیشنل سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز حمیداللہ جان بھی موجود تھے۔ تاریخی معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی کے مشیر برائے معدنیات عارف احمدزئی نے ریمارکس دیئے کہ جیولاجیکل سروے آف پاکستان خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل کا نقشہ تیار کرے گا جبکہ جیولاجیکل سروے آف پاکستان تین سال کے اندر رپورٹ پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سروے سے اندازہ ہو جائے گا کہ خیبرپختونخوا میں معدنی وسائل کا کیا سٹیٹس ہے۔ محکمہ معدنیات آنے والوں سالوں میں آمدن و پیداوار میں سب سے آگے ہوگا،میپنگ سروے کے متعلق مزید تفصیلات شئیر کرتے ہوئے مشیر برائے معدنیات عارف احمدزئی نے کہا کہ معدنی وسائل میپنگ سروے پر تقریباً 324 ملین روپے کا خرچہ آئے گا. خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار جیولاجیکل سروے آف پاکستان سے معدنی وسائل کی میپنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل کی میپنگ سے فارن سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھے گی جبکہ معدنی وسائل کی میپنگ سروے کے بعد ڈیٹا آن لائن دستیاب ہوگا،معدنی وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کے متعلق وزیراعلی محمود خان کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے مشیر برائے معدنیات عارف احمدزئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کی قیادت میں معدنی وسائل سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں،معدنی وسائل کی آمدن سے غربت پر قابو پائیں گے۔