گرم چشمہ’ (خیرالدین) اہلیان پرابیگ گرم چشمہ نے گزشتہ سال ہائیڈرل پاور اسٹیشن جو کہ کے۔پی۔گورنمنٹ کی جانب سے اور اے۔کے۔ار۔ایس۔کی زیرنگرانی 300 کلوواٹ کا بجلی گھر جس پر پچھلے سال کام کا اغاز کردیا گیا تھا پر اس سال کام شروغ نہ ہونے پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کام شروغ نہ کرنے اور متعلقہ ٹھیکدار کو رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر ار۔پی۔ایم ۔کے خلاف کاروائی کی جائے ۔علاقے کے عمائیدین اور لوکل گورنمنٹ کے زمہ داران جن میں تحصیل ناظم اور وی سی ناظمین اور ممبران نے گزشتہ مہینے ایک اہم مٹینگ کے بعد اے۔کے۔ار۔ایس۔پی۔اور صوبائی حکومت کے زمہ داران کو 10 دن کی ڈیڈ لائن دی تھی ان کے مطابق بجلی گھر پر اب تک کام شروغ نہ ہونے کی زمہ داری متعلقہ اداارے کے ار۔پی۔ایم۔ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس پراجیکٹ کے ٹھیکیدار کے مطابق اسے اب تک پچھلے سال کے کام کے عوض رقم کی ادائیگی اب تک نہیں ہوئی جس کی وجہ سے مذدورون کی مذدوری ، مستریون اور دیگر اخراجات کی ادائیگی اب تک نہیں کی جاسکی اور اس وجہ سے کام شروغ نہیں کیا جاسکا، علاقے کے نمائندون سمیت علاقے کے عوام اس بات پر متقق تھے کہ کام شروغ نہ ہونے اور مذید تاخیر کی صورت میں حکومت اور متعلقہ ادارون کے خلاف حکمت عملی مرتب کی جائے گی ۔ اس مسلے پر بات کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن جناب سلطان مُراد نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ڈی۔سی۔او صاحب کو بھی کئی دفعہ اگاہ کرچکے ہیں جس پر ڈی۔سی۔اور نے متعلقہ لوگون سے اس سلسلے میں رپورٹ مانگی تھی ، انہون نے مذید کہا کہ اس سلسلےمیں وہ ضلعی ناظم مغفرت شاہ سے بھی ملا تھا اس وجہ سے گزشتہ دنوں اے ۔ کے ار۔ایس۔پی۔کے زمہ دارارن پرابیگ کا دورہ کیا اور کام شروغ کرنے کی یقین دہانی کرائی، مگر پراجیکٹ پر اب تک کام کا اغاز نہ ہونا انتہائی افسوسناک عمل ہے اور علاقے کے عوام کے ساتھ سراسر مذاق اور زیادتی ہے انہون نے کے۔پی۔کے۔حکومت کے زمہ دارون سے اپیل کی ہے کہ اس سارے عمل کے زمہ دار ار۔پی۔ایم۔کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور اس پر دباو ڈالا جائے تاکہ کام کا آغاز کیا جاسکے اور تقریبا پانچ سو گھرانون کے اس پن بجلی کے پراجیکٹ کو فورا مکمل کیا جائے تاکہ علاقے کے لوگ اس پراجیکٹ سے مستفید ہوں۔ یاد رہے کہ اس پراجیکیٹ کا تقریبا ادھے سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور اگر اس سال وقت پر کام کا اغاز کیا جاتا تو اب تک یہ مکمل ہو چُکا ہوتا لیکں زمہ دارون کی غفلت اور لاپرواہی اور وقت پر رقوم کی عدم ادائیگی سے کام اب تک رُکا ہوا ہے جس کی زمہ داری متعقلہ اداے کے زمہ دارون پر عائد ہہوتا ہے