The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

“محشر میں گئے شیخ تو اعمال نہ دارد”

Chitral Times

“محشر میں گئے شیخ تو اعمال نہ دارد”

چترال (چترال نیوز رپورٹ) رمضان کا مہینہ عروج پر ہے. مسلما نان عالم اس مبارک مہینے میں عبادات کےضمن میں مثالی ڈسپلن کا مظاہرہ کر رہے ہیں. صبح   سحری کے وقت جاگنے سے لیکرپورا دن کھانے پینے سے اجتناب’ پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی سے ادائیگی اور رات کو نفل نماز تراویح کا باقاعدہ اہتمام جس ذوق و شوق سے کی جاتی ہے کسی بھی مذہب میں عبادات کے ضمن میں اس قسم کے ڈسپلن اور قربانی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا ہے. کیا وجہ ہے کے عبادات کی ضمن میں اس قدر مثالی ڈسپلن محض عبادات تک ہی رہ جاتی ہے اورجونہی مسلمان روز مرہ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے’اس کا طرز عمل عبادات کی ڈسپلن کے بلکل بر عکس دیکھا جاتا ہے.. جس مذہب میں دن کو پانچ مرتبہ عین وقت پر نماز ادا کی جاتی ہے اور یہاں تک کے نماز جنازہ کو بھی چند منٹ کی تاخیر کے بغیر عین وقت پر ادا کی جاتی ہے ‘ ایسے لوگوں کو کیا ہو جاتا ہے جب وو روزمرہ کے معاملات کی جانب آ جاتے ہیں. کیا اسلام کا مذھب محض عبادت تک محدود ہے؟ .کیا اسلام میں عبادات اور معاملات کو الگ کر دیا گیا ہے؟ کیا “چوری میرا پیشہ ‘نماز میرا فرض”.ہی اسلام کی اصل روح ہے.؟ نہیں’ ہرگز نہیں’ عبادات کو روزمرہ کے معاملات سے الگ کرنا انگریزوں کی سازش تھی جو 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کیلئے ایک منظم انداز سے شروع کی جس کا پھل ہم آج کھا رہے ہیں. اس وقت مسلمانوں کو معاملات کی ادائیگی میں عبادات کی روح کو داخل کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ بقول حضرت علامہ اقبال   ” تیرا دل تو ہے صنم آشنا ‘ تجھے کیا ملے گا نماز میں