The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 17 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

طیارہ حادثے میں شہدا چھ افراد کی میتیں چترال پہنچائے گئے

Chitral Times

طیارہ حادثے میں شہدا چھ افراد کی میتیں چترال پہنچائے گئے

چترال (بشیر حسین آزاد) جمعہ کے روز طیارہ حادثے میں جان بحق ہونے والوں میں سے چار افراد کی میتیں پاکستان ائر فورس کی سی۔130طیارے کے ذریعے اور دو خواتین کی میت بائے روڈ چترال پہنچائے گئے ۔سی 130طیارے میں چترال کی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ فرہاد عزیز اور ان کی بیٹی شہزادی طیبہ عزیز کے علاوہ لون گاؤں کے عمراخان اور بونی کے اکبر علی کی لاشیں پہنچائی گئیں جہاں انہیں سپرد خاک کئے گئے ۔ بعد میں شہزادہ فرہاد اور ان کی بیٹی کا جنازہ نمازجنازہ پریڈ گراونڈ میں پڑہانے کے بعد جنگ بازار میں جامع مسجد کے سامنے سپرد خاک کئے گئے ۔نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد نے شرکت کی جوکہ تعداد کے لحاظ سے ایک ریکارڈ بتائی جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ ناظم چترال مغفرت شاہ نے چترال ائرپورٹ پر ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے میتوں کو وصول کیا ۔ دریں اثنا ء ڑانگہ دروش سے تعلق رکھنے والے دو سگی بہنوں فرح ناز اور رانی مہرین دختران محمد جعفر کی میتوں کو بذریعہ سڑک دروش پہنچانے کے بعد سپرد خاک کئے گئے۔ کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل نظام الدین شاہ نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور فاتح خوانی کے لئے شہدا کے گھر گئے۔ طیارہ حادثے میں چترال سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بیس تھی جن میں سے اب تک 8 افراد کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ 12کی شناخت ابھی باقی ہے۔ ایژ گرم چشمہ کے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ماں باپ سمیت چھ افراد کی میتوں کی شناخت بھی ابھی باقی ہے ۔ 

محکمہ ایجوکیشن کے افسران کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جی ایچ ایس سکول موری لشٹ میں تنازعے نے شدت اختیار کرلی۔اسرار ایوب
چترال (بشیر حسین آزاد) ویلج کونسل موری بالا کے ناظم اسرار ایوب نے کہا ہے کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول موری لشٹ کے پرائمیر ی پورشن میں چوکیدار کی اسامی پر تنازعے نے شدت اختیار کرلی ہے کیونکہ کسی بھی کلاس فور کی خالی اسامی کو کمیونٹی کے ساتھ محکمہ تعلیم کے معاہدے کے مطابق مقامی افراد کو دیاجانا چاہئے اور دوسرے گاؤں سے تعلق رکھنے والے کو کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایک پریس ریلیز میں انہوں نے محکمہ تعلیم کے ڈی۔ ای۔ او پر واضح کردیاہے کہ اب بھی مسئلے کو سلجھانے کے وقت ضائع نہ کیاجائے اور مقامی گاؤں کے افراد کو خالی شدہ کلاس فور کی پوسٹ پر تقرر کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ مقامی کمیونٹی اور محکمہ تعلیم کے درمیاں چپقلش کی وجہ سے پرائیمری پورشن کے ڈیڑھ سو سے ذیادہ طلباء گزشتہ چار دنوں سے سکول کی بندش سے متاثر ہورہے ہیں۔ 

صوبائی حکومت غیر قانونی طور پر کاٹے گئے لکڑی کو قانونی شکل دیکر جنگل دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں: منتخب ناظمین و کونسلرز
چترال(بشیر حسین آزاد) ویلیج کونسل فورم کے صدر سجاد احمد، نوید احمد بیگ ویلیج کونسل ناظم چترال ٹاؤن اور دیگر نے موجودہ صوبائی حکومت کی جنگلات پالیسی پر کھڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف علاقے کے منتخب ناظمین، کونسلرز اور سابقہ ایم این اے نے بھی پریس کانفرنس اور احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا تھا کہ وہ اس پالیسی کو فوری طور پرمنسوح کرے کیونکہ اس سے قیمتی لکڑی یعنی جنگلات کے اسمگلروں اور ٹمبر مافیا کو کھلی چھٹی دے جائے گی۔ منتخب کونسلران کا کہنا ہے صوبائی حکومت نے illicit Timber پالیسی کے تحت ارندو کے جنگلات سے اربوں روپے مالیت کی قیمتی لکڑی جو ٹمبر مافیا نے غیر قانونی طور پر کاٹے تھے اب حکومت اس ناجائز کام کو جائز کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس پالیسی کے تحت جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر جنگل کاٹا ہے جن پر پرچے کاٹے گئے ہیں وہ سب اپنے کاٹے گئے لکڑیوں کا لسٹ حکومت کو فرہم کرے گا جس میں چالیس فی صد حکومت کو اور 60 فی صد ان سمگلروں کو دی جائے گی جنہوں نے اس لکڑی کو چوری چپے کاٹا تھا۔ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال محمد سلیم مروت کا کہنا ہے کہ یہ لکڑی ماضی میں غیر قانونی طور پر کاٹے گئے تھے جس کو جنگل سے نیچے اتارنے کا محکمے کے پاس وسائل نہیں تھے اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ان سمگلروں کے ذریعے ان غیر قانونی لکڑی کو نیچے اتارا جائے اور ان کو اپنا حصہ دیکر اسے مارکیٹ میں فروخت کیا جائے۔متاثرہ لوگوں کا کہنا ہے جو لکڑی غیر قانونی طور پر کاٹا گیا ہے اسے حکومت اپنے تحویل میں لے لیں اور اسکے لئے چترال میں ٹمبر ڈپو بناکر ان متاثرین میں فروخت کیا جائے جن کے گھر بار سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔ منتخب ناظمین نے انکشاف کیا کہ ماضی میں 88 لاکھ مکعب فٹ سے زیادہ لکڑی چترال سے باہر جاچکی ہے جس میں دس ٹھیکدار وں کو فائدہ ہوا اور ایک صوبائی وزیر بھی اس میں ملوث تھے۔منتخب ناظمین اور کونسلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پالیسی کو فی الفورختم کرے ورنہ اس سے ان سمگلروں اور ٹمبر مافیا کو کھلی چھٹی ملے گی جو ان لکڑی کو کسی نہ کسی طرح سے کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں اور یوں جنگل تباہ ہوکر چترال میں ایک بار پھر تباہی کا باعث بنے گا۔