تاریخ: November 18, 2016ایڈیٹر: Saif Ur Rehman Aziz
جناب ایڈیٹر صاحب’ آپ کے موقر جریدے کے ذریے میں اپنے ذہن میں اٹھنے والے استفسار کا اظہار کرنا چاہتا ہوں . کیا وجہ ہے کہ چترال ‘محسنین چترال’ سے بھرا ہوا ہے. پہلے ذولفقار علی بھٹو محسن چترال بنے ‘پھر ضیاء الحق کی باری آئی’ پھر بینظر کو یہ خطاب دیا گیا اسکے بعد پرویز مشرف محسن چترال بنے’ ماضی قریب میں نواز شریف کے سر پی یہ تاج سجایا گیا اور حال ہی میں سابق وزیر علی حیدر ہوتی ہمارے نئے محسن چترال قرار دئیے گئے. آخر ہر کسی کو اپنا محسن قرار دینا کس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہیے؟ میرے خیال میں تو یہ شدید احساس کمتری اور غلامانہ ذھنیت کی علامت ہے. کسی شخصیت کے اچھے کام کو سراہنا اپنی جگہ لیکن اس شخص کو فوری طور پر محسن چترال کا لقب دینا مرے نزدیک کسی طور درست نہیں اور مجھے اس انداز سوچ سے بڑی کوفت ہوتی ہے. بلخصوس اس کے برعکس جب کوئی چترالی بیچارا اپنی بساط کے مطابق چترالیوں کی خدمت کرتا ہے لیکن اسکے پاس اعلی عھدہ اور طاقت نہیں ہوتا تو ہم اسکو اور اسکی خدمات کو گھاس بھی نہیں ڈالتے .کیا یہ ہے ایک اعلی النسل قوم کی نشانی؟ اگر میں نے کسی بھآئی کو ناراض کیا ہو تو معذرت چاہتا ہوں . شاید میری سوچ میں کوئی نقص ہے فقط ‘ آپکا بھائی ، محمد ارشد’ چترال