ہنی مون ابھی ختم نہیں ہوا! – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
.
وہی ۲۲/ اکتوبر، جس دن یعنی آج سے تیرہ برس پہلے، سنہ ۲۰۱۳ء میں ہم شادی کے بندھن میں بندھے تھے۔ تیرہ برس! بظاہر ایک عشرے سے بھی زیادہ کا عرصہ، مگر دل کی گھڑی پر آج بھی وہی دن رُکا ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کل ہی بارات نکلی تھی، کل ہی نکاح ہوا تھا، کل ہی تم نے میرا ہاتھ تھاما تھا اور آج ہم دونوں پھر ہنی مون پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بس زمانے نے اتنی سی شرارت کی ہے کہ اس بار ہمارے سوٹ کیس میں صرف کپڑے نہیں، آشا کی شرارتیں، آذین کی مسکراہٹیں اور ننھے الموئد کی معصومیت بھی ساتھ ہے؛ دودھ کی بوتلیں، کھلونے، کتابیں، ادویات اور بچوں کا نہ ختم ہونے والا سامان الگ! کبھی سوچتا ہوں، ہماری محبت بھی کیا خوب چیز ہے۔۔۔ پہلے دو دلوں میں رہتی تھی، اب ایک پورے گھر میں ہنستی، کھیلتی، روتی اور مسکراتی ہے۔ تیرہ برس گزر گئے، مگر سچ تو یہ ہے کہ ہنی مون ابھی ختم نہیں ہوا؛ بس اب اس سفر میں ہم دونوں کے ساتھ ہماری محبت کی تین ننھی ننھی قندلیں بھی چل رہی ہیں۔
کچھ اس تصویر کے بارے بتانا چاہتا ہوں۔ یہ تصویر کریم منزل کی ہے، ہمارے عقب میں کھڑا چیری کا یہ درخت کبھی ایک ننھا سا پودا تھا، جسے میں اور سوسن نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ آج یہ ہماری محبت کے گزرے ہوئے برسوں کی طرح تناور ہوچکا ہے۔ ہر خزاں اس کے پتے خاموشی سے جھڑتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت ہماری گزری ہوئی شاموں کے ورق الٹ رہا ہو۔ مگر ہر بہار یہ درخت پھر سے ہرا ہوجاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ موسم درختوں کے بدلتے ہیں، دل کے رشتوں کے نہیں۔ خزاں پتے چھین سکتی ہے، مگر وہ جڑیں نہیں جو برسوں پہلے ہم دونوں نے مل کر اس مٹی میں اُتاری تھیں۔ کریم منزل کا یہ چیری کا درخت آج بھی ہماری محبت کا خاموش گواہ ہے۔۔۔ ہر خزاں میں یاد دلاتا ہے کہ کچھ رشتے موسموں سے نہیں، روح سے بندھے ہوتے ہیں۔ شاید شاعر نے بھی ایسے ہی کسی منظر کو دیکھ کر کہا تھا؎
دسمبر لوٹ آنے سے فرق پڑتا ہے اب کس کو
جو رشتہ دل کا رشتہ ہو، اُسے موسم سے کیا لینا
بابائے اردو مولوی عبدالحق نے تادمِ مرگ شادی نہیں کی۔ کسی دل جلے نے ان سے شادی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا ’’میری شادی تو کب کی اردو زبان سے ہوچکی ہے۔ میں کسی خاتون سے شادی کرکے اپنے پیروں میں زنجیر ڈالنا نہیں چاہتا۔‘‘
شادی کے بارے میں ایسی ہی ایک سخت رائے مرزا اسداللہ خان غالب کی بھی تھی۔ ان کے نزدیک بیوی پاؤں کی زنجیر، گھر زنداں، اولاد ہتھکڑی اور معاشی جدوجہد جیل کی مشقت تھی۔ غالب نے تو یہاں تک کہہ دیا؎
فکرِ دُنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
لیکن جناب! ذرا ٹھہریے۔ میں نہ مولوی عبدالحق ہوں اور نہ غالب۔ مجھے تو دو دو شادیاں کرنی پڑیں۔ پہلی شادی ادبِ عالیہ سے اور دوسری ادبِ عالیہ کی ایک طالبہ سے! پہلی والی سے ہماری شادی بہت پہلے ہوچکی تھی۔ قرطاس و قلم ہمارے ہاتھ میں آچکے تھے، کتابیں گھر میں داخل ہوچکی تھیں اور ’’فکرونظر‘‘ کے پرچے یکے بعد دیگرے دُنیا میں آ رہے تھے۔ ہم خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتے تھے کہ ہماری زندگی میں ایک ایسی رفیقۂ حیات آگئی ہے جو کبھی شکایت نہیں کرتی، کبھی فرمائش نہیں کرتی، کبھی بازار لے جانے کا مطالبہ نہیں کرتی اور نہ ہی کبھی یہ پوچھتی ہے کہ ’’آپ کہاں تھے؟‘‘
پھر دوسری شادی ہوگئی۔۔۔ اور یہ شادی ۲۲/ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو سوسن سے ہوئی۔ ہماری شادی پر مبارکباد کے بہت سے خطوط آئے۔ ان میں سکردو سے میرے محترم دوست، نامور ادیب و نقاد محمد حسن حسرت کا خط بھی تھا۔ حسرت صاحب نے مبارکباد دیتے ہوئے ایک ایسی بات کہہ دی جس کا اصل مفہوم ہمیں شادی کے بعد سمجھ آیا۔ انہوں نے لکھا کہ کریمی کی شادی تو پہلے ہی قرطاس و قلم سے ہوچکی تھی، اب سوال یہ ہے کہ نئی دُلہن اور پُرانی رفیقۂ حیات کے درمیان نباہ کیسے ہوگا؟ سوکنوں کا آپس میں نباہ کوئی آسان کام نہیں۔
یہ سب پڑھ کر میں اور سوسن بہت ہنسے تھے۔۔۔ مگر حسرت صاحب درست کہتے تھے! فرق صرف اتنا تھا کہ ہماری دونوں سوکنیں آپس میں لڑنے کے بجائے ہم سے لڑنے لگیں۔ ایک کہتی کہ مجھے وقت دو، دوسری خاموشی سے کتاب کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیتی۔ ایک کو بچوں کی فکر تھی، دوسری کو الفاظ کی۔ ایک گھر آباد کرنا چاہتی تھی، دوسری صفحات۔ اور ہم دونوں کے درمیان ایسے پھنسے جیسے دو ریاستوں کے درمیان کوئی بے گناہ سفیر!
پروفیسر کمال الہامی صاحب نے تو ’’کریمی نمبر‘‘ میں اس سے بھی پہلے مستقبل کی پیش گوئی کردی تھی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ بھابھی چونکہ ایم اے انگلش ہیں، اس لیے اب ’’فکرونظر‘‘ کے اردو اور انگریزی دونوں حصے ہوں گے۔ کشورِ اردو کے راجا کریمی صاحب ہوں گے اور انگریزی کی راجدھانی کی مہارانی نئی مہمان صاحبہ!
پروفیسر صاحب نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ اس راجدھانی میں کچھ عرصے بعد ایک شہزادی اور دو چھوٹے شہزادے بھی پیدا ہوجائیں گے اور بادشاہ سلامت کا سارا نظامِ مملکت الٹ پلٹ ہوجائے گا!
شادی کے بعد سوسن نے اتنی محبت دی کہ کتابوں کے اس شہزادے کو جلد ہی ایک نئے شعبے میں تقرری مل گئی۔ شعبۂ پیمپرز و بے بی پاؤڈرز! کتابوں سے پیمپرز تک کا یہ سفر بڑا تاریخی تھا۔ سال میں دو دو بچوں کے تحفے نے ہمیں ایسا مصروف کیا کہ کبھی کتابوں کی دُکان ڈھونڈتے تھے اور کبھی بچوں کی چیزوں کی دُکان۔ کبھی کسی کتاب کا نیا ایڈیشن ہاتھ میں ہوتا اور کبھی کسی بچے کا نیا پیمپر!
یوں زندگی نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ادب اور اولاد میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے: دونوں آپ کو رات کو سونے نہیں دیتے۔۔۔ بچوں کی پیدائش نے زندگی کا پورا لغت بدل دیا۔ ’’آزادی‘‘ کا مطلب بچوں کے سو جانے کے بعد ملنے والے پندرہ منٹ، ’’خاموشی‘‘ کا مطلب چند لمحوں کے لیے گھر میں کسی آواز کا نہ ہونا اور ’’آرام‘‘ کا مطلب یہ ہوگیا کہ بچے ایک ہی وقت میں سو جائیں!
وقت گزرتا گیا۔ آج مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی پہلی رفیقۂ حیات، یعنی ادب، کے ساتھ واقعی کچھ زیادتی کی۔ سوسن، بچوں اور روزمرہ کی مصروفیات میں کتابوں کو وہ وقت نہ دے سکا جو دینا چاہیے تھا۔ لیکن بخدا! اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں پہلی والی سے محبت نہیں۔ وہ تو ہماری پہلی محبت تھی، پہلی محبت تو انسان کے ساتھ قبر تک جاتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے؎
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اُتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں
اور خوش قسمتی دیکھیے کہ میری اور سوسن کی دلچسپیوں میں کوئی تصادم بھی نہیں تھا۔ ایک اردو ادب کا عاشق اور دوسری انگریزی ناولوں کی دلدادہ۔ ایک کی انگلیاں غالب کے دیوان کے اوراق پلٹتی تھیں تو دوسری پاؤلو کوئیلو کی ’’دی الکیمسٹ‘‘ میں زندگی کے معنی تلاش کرتی تھی۔ ایک کی دُنیا میں میر کی غزلیں، اقبال کے خواب اور فیض کی محبتیں آباد تھیں، تو دوسری خالد حسینی کی ’’دی کائٹ رنر‘‘، نکولس اسپارکس کی ’’دی نوٹ بک‘‘ اور جوجو موئیز کی ’’می بیفور یو‘‘کے کرداروں کے ساتھ اپنی ایک الگ دُنیا بسا لیتی تھی۔ ایک کے لیے لفظ شعر بن کر دل میں اُترتے تھے، دوسری کے لیے کہانی زندگی کا آئینہ تھی۔ دونوں کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں، مگر ان کتابوں کے راستے الگ تھے۔۔۔ ایک اردو کی خوشبو سے مہکتی ہوئی، دوسری انگریزی ادب کی رنگین دُنیا سے آواز دیتی ہوئی۔ ہمیں شازیہ کے یہ اشعار بھی یاد آتے ہیں؎
ایک نادیدہ سفر پاؤں کی زنجیر ہوا
پھر وہ منزل کی طرح سے مری تقدیر ہوا
اور واقعی، بعض رشتے پہلے پہل زنجیر محسوس ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہی زنجیر منزل تک لے جانے والی ڈور تھی۔
شازیہ کہتی ہیں؎
آخری بات مرے دل میں رہی کہہ نہ سکی
آخری خواب فقط آنکھ میں تصویر ہوا
اور تیرہ برس بعد ہمیں بھی اعتراف ہے کہ اگر شادی کے ابتدائی دنوں میں زندگی کبھی کبھی مشکل لگی تو آج وہی زندگی ہماری سب سے خوب صورت داستان بن چکی ہے۔ خاص طور پر ان راتوں کی بات ہی الگ تھی جب بچوں کو سلانے کے بعد ہم صحن میں بیٹھتے۔ چاندنی رات، ادرک والی چائے اور سامنے بیٹھی محبت کرنے والی بیوی!
سوسن کے ہاتھ کی بنی ہوئی ادرک والی چائے کا تو کیا کہنا! اس کی چند چسکیاں ایسی ہوتیں کہ چاندنی رات بھی خود کو کچھ زیادہ ہی خوبصورت سمجھنے لگتی۔ سوسن جب چائے کا پیالہ میری طرف بڑھاتیں تو میں بڑے معصومانہ انداز میں اسے تھام لیتا، مگر اندر کا شاعر فوراً جاگ اُٹھتا۔۔۔ میں پیالہ سامنے ٹیبل پر رکھتا، سوسن کو معنی خیز نظروں سے دیکھتا اور نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کرتا؎
زندگانی پھر اسی ٹیبل پہ آکر رک گئی
پھر وہی ادرک کی چائے، اور پھر اُسی کافر کی یاد
سوسن پہلے مجھے دیکھتیں، پھر چائے کے پیالے کو، اور ہنس کر کہتیں، ’’چائے میں ادرک ڈالی ہے، عشق نہیں!‘‘
شادی کے تیرہ برس بعد آج یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولوی عبدالحق اور غالبؔ سے اس معاملے میں ذرا سا اختلاف کرنے کی جسارت ہے۔ بیوی ہمیشہ پاؤں کی زنجیر نہیں ہوتی۔۔۔ کبھی وہی زنجیر منزل بن جاتی ہے۔۔۔ کبھی وہی رفاقت انسان کو اپنے آپ سے ملاتی ہے۔۔۔ اور کبھی ادب سے شغف رکھنے والی بیوی شوہر کے لیے محض شریکِ حیات نہیں بلکہ شریکِ سفر، شریکِ خواب اور شریکِ تخلیق بن جاتی ہے۔
سوسن کا شکریہ کہ انہوں نے ہماری پہلی رفیقۂ حیات کو کبھی تنگ نہیں کیا۔ بلکہ اس کے ساتھ چلنے، اسے وقت دینے اور اس کی ضرورت سمجھنے میں ہمارا ساتھ دیا۔ شاید اسی رفاقت کا نتیجہ ہے کہ آج پہلی رفیقۂ حیات کے بطن سے پانچ کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں، ’’فکرونظر‘‘ کے کئی شمارے اس کے علاوہ ہیں، اور کالم نگاری تو روزمرہ کا معمول ہے۔ آخر کتابیں بھی تو کسی کے بچے ہی ہوتی ہیں! اس حساب سے آج ہمیں پانچ کتابوں اور تین بچوں کا باپ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔۔۔ اور اب، تیرہ سال بعد، ۲۲/ اکتوبر پھر آگیا ہے۔ وہی تاریخ۔۔۔ وہی رشتہ۔۔۔ وہی محبت۔۔۔ بس فرق اتنا ہے کہ اس وقت ہم دو تھے، آج پانچ ہیں؛ اس وقت ہنی مون کا خواب تھا، آج بچوں کے اسکول، ہوم ورک اور امتحانات کے درمیان ہنی مون کی یاد ہے؛ اس وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تھا، آج تین ننھے ہاتھ بھی اسی ہاتھ کو تھامے ہوئے ہیں۔ شازیہ کا ایک اور شعر یاد آتا ہے؎
ہم سمجھتے تھے محبت کا صحیفہ ہے کوئی
اپنے عنوان کے برعکس وہ تفسیر ہوا
شاید شادی بھی محبت کی ایسی ہی تفسیر ہے۔ عنوان مختصر، کتاب طویل؛ آغاز دو لوگوں سے، مگر صفحات پر پورا خاندان؛ کبھی مزاح، کبھی اختلاف، کبھی خاموشی، کبھی قہقہہ اور کبھی ایسی محبت جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ رات کے جسم پر جب یاد کی شال پڑتی ہے تو گزرے ہوئے تیرہ برس کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ ان تیرہ برسوں میں بہت کچھ بدل گیا۔ ہم بدل گئے، گھر بدل گیا، ذمہ داریاں بڑھ گئیں، کتابوں کی تعداد بڑھ گئی، بچوں کی آوازوں سے گھر آباد ہوگیا، ہماری زندگی میں فکرونظر کے صفحات بھی بڑھے اور بچوں کے اسکول کی کاپیوں کے صفحات بھی۔ مگر ایک چیز نہیں بدلی۔۔۔ تمہارا ساتھ!
آج بھی جب دن بھر کی تھکن کے بعد گھر لوٹتا ہوں تو دل کے کسی کونے میں یہ اطمینان موجود ہوتا ہے کہ ایک ایسی ہستی میرا انتظار کر رہی ہے جس کے سامنے مجھے اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ جس کے سامنے میں شاعر بھی ہوں، ادیب بھی، ایک ذمہ دار باپ بھی، چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی بھی، کبھی کبھی بہت بڑا واعظ بھی… اور بعض اوقات ایسا شخص بھی جو اپنی عینک، موبائل یا چابی کہیں رکھ کر پانچ منٹ بعد خود ہی بھول جاتا ہے کہ کہاں رکھی تھی!
تم نے میری کامیابیوں سے زیادہ میری کمزوریوں کو برداشت کیا ہے۔ میری مصروفیات سے زیادہ میری غیر موجودگی کو برداشت کیا ہے۔ میری کتابوں، کالموں، اجلاسوں اور سفر کے درمیان اپنے حصے کا وقت بھی قربان کیا ہے۔۔۔ اور شاید محبت کا اصل نام یہی ہے۔ تیرہ برس گزر گئے۔ مگر یقین جانیے، ہمیں اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی شادی ہوئی تھی۔ اور آج ہم دونوں پھر ہنی مون ٹرپ پر نکلے ہیں۔ بس خدا کرے اس ہنی مون کی واپسی کی ٹکٹ کبھی نہ کٹے۔