جب کہوار زبان نے ڈاکٹر فیضی کے ساتھ دُنیا کا سفر کیا – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
.
گاہکوچ پونیال کی وہ پُرسکون صبح اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ بیدار ہو رہی تھی۔ ترچ میر کی برف پوش چوٹیوں پر شاید پریاں ابھی تک خوابوں کی چاندنی سمیٹ رہی تھیں، جبکہ اُن کی خیال انگیز خوشبو چترال کی وادیوں سے ہوتی ہوئی پونیال کی فضاؤں میں اُتر رہی تھی۔ صبح کی نرم دُھوپ کھڑکی کے شیشوں سے چھن کر دیواروں پر سنہری تحریریں رقم کر رہی تھی، اور باہر درختوں کی شاخیں مدھم ہوا کے ساتھ یوں جُھوم رہی تھیں جیسے فطرت کسی انجانی دُھن پر محوِ رقص ہو۔ اندر میری میز پر پاؤلو کوئلیو کا شہرۂ آفاق ناول ’’الکیمسٹ‘‘ کھلا پڑا تھا۔ میں ابھی سانتیاگو کے ساتھ خوابوں کی تعبیر اور خزانے کی جستجو میں صحراؤں اور وادیوں کی سیر کر رہا تھا کہ آفس بوائے نے خاموشی سے چائے کا کپ رکھا اور ساتھ ایک نفیس سا لفافہ بھی میز پر رکھ دیا۔ مسکراتے ہوئے بولا ’’سر! ٹی سی ایس والوں نے بھیجا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ چترال سے ایک سوغات آئی ہے۔ میں نے تجسس سے لفافہ کھولا تو یوں محسوس ہوا جیسے شندور اور تریچ میر کی برف پوش چوٹیوں سے اُترتی ہوئی ایک تازہ ہوا اپنے ساتھ چترال کی مہمان نوازی، محبت اور تہذیبی شائستگی کی خوشبو بھی لے آئی ہو۔ ویسے تو چترال کی سوغات کا ذکر آئے تو ذہن میں خوبانیوں کی شیرینی، اخروٹوں کی لذت، چترالی ٹوپی کی نفاست اور مقامی دستکاریوں کی خوب صورتی اُبھر آتی ہے، مگر اس بار سوغات کچھ اور تھی؛ علم و ادب کی ایسی خوشبو دار پوٹلی جس کی مہک زمان و مکان کی حدود سے ماورا تھی۔ لفافے سے جو کتاب برآمد ہوئی، اس کے سرورق پر جلی حروف میں ’’سئیل دویو‘‘ لکھا تھا اور مصنّف کے طور پر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، تمغۂ امتیاز کا نام درج تھا۔ اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے چترال کی سرسبز وادیوں، خاموش پہاڑوں، فیاض دریاؤں اور اس کی تابندہ علمی روایتوں نے ایک کتاب کی صورت میں اپنا سلام گاہکوچ پونیال روانہ کیا ہو؛ وہی پونیال جس کے بارے میں کہوار شاعر نے کہا تھا ’’پیاڑو می ڈانگیریگ مہ دوستو سوم کیا شریکے۔‘‘
کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی دل میں ایک انجانی شادمانی نے جنم لیا۔ یوں لگا جیسے یہ محض کاغذ اور روشنائی کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس کے صفحات میں پہاڑوں کی خاموش عظمت، دریاؤں کی مدھم سرگوشیاں، اجنبی شہروں کی ہنگامہ خیز دھڑکنیں، دور دیسوں کی تہذیبی خوشبوئیں اور ایک حساس مسافر کی حیرت زدہ نگاہوں کی چمک محفوظ ہو۔ میں نے بے اختیار ڈاکٹر فیضی صاحب کو فون کیا، شکریہ ادا کیا، کتاب کے ساتھ ایک یادگاری تصویر بنائی اور واٹس ایپ پر ارسال کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اس پر کچھ لکھنے کی جسارت کروں گا۔ لیکن ابھی چند صفحات ہی پلٹے تھے کہ اندازہ ہوگیا، یہ محض ایک سفرنامہ نہیں، بلکہ مشاہدے اور مطالعے سے کشید کی گئی ایک تہذیبی سرگزشت ہے؛ ایسی سرگزشت جس میں راستے بھی بولتے ہیں، شہر بھی داستان سناتے ہیں اور تاریخ بھی ہم سفر بن جاتی ہے۔
سفرنامہ انسانی تہذیب کی قدیم ترین ادبی روایتوں میں شمار ہوتا ہے۔ جب انسان نے اپنے قبیلے، اپنے شہر اور اپنے وطن کی حدود سے آگے قدم رکھا تو اس نے راستوں کے ساتھ ساتھ اپنے مشاہدات کو بھی محفوظ کرنا شروع کردیا۔ عربی ادب میں ابن بطوطہ کا شہرۂ آفاق سفرنامہ ’’رحلۃ ابن بطوطہ‘‘ اس روایت کا درخشاں سرمایہ ہے جس میں مصنف نے دنیا کے وسیع خطوں کے اپنے مشاہدات قلم بند کیے۔ فارسی ادب میں ناصر خسروؒ کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’سفرنامہ‘‘ سفرنگاری کے اولین اور اہم ترین نمونوں میں شمار ہوتی ہے۔ اردو ادب میں عمومی طور پر یوسف خان کمبل پوش کی ’’عجائباتِ فرنگ‘‘ کو اُردو کے ابتدائی اور اہم سفرناموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے بعد کی سفرنگاری کی روایت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
صدیوں پر محیط ادبی روایت میں ہر زبان نے ایسے مسافر پیدا کیے ہیں جو راستوں کو لفظوں اور فاصلوں کو یادوں میں ڈھال دیتے ہیں۔ آج جب میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی کتاب ’’سئیل دویو‘‘ کے صفحات پلٹتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کہوار ادب میں سفرنامہ نگاری ایک نئے عہد میں داخل ہو رہی ہے۔ مستقبل میں جب اس صنف کی تاریخ مرتب ہوگی تو ڈاکٹر فیضی کا نام احترام سے لیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے محض ایک سفرنامہ نہیں لکھا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ادبی سنگِ میل بھی قائم کیا ہے۔
مغربی ایشیا اور یورپ کے سفر کی روداد سمیٹنے والی اس کتاب کے آخری صفحات میں 1971ء کے چترال سے پشاور تک کے پہلے سفر کی یاد بھی محفوظ ہے۔ پہلی محبت اور پہلے خواب کی طرح پہلا سفر بھی دل پر ایسے نقش چھوڑتا ہے جنہیں وقت کی گرد دُھندلا تو سکتی ہے، مٹا نہیں سکتی۔ پچپن برس بعد 2026ء میں لفظوں کا پیکر اختیار کرنے والی یہ یاد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بعض لمحے وقت کے سمندر میں ڈوبتے نہیں، بلکہ تہہ آب پڑے موتیوں کی طرح اپنی چمک برقرار رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر فیضی کے نزدیک سفر محض جغرافیائی فاصلے طے کرنے کا نام نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب اور انسانی شعور کو سمجھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ وہ شہروں کو صرف دیکھتے نہیں، پڑھتے ہیں؛ قدیم عمارتوں میں ماضی کی سرگوشیاں سنتے ہیں اور انسانوں کے چہروں میں ان کی تہذیبی شناخت تلاش کرتے ہیں۔ یہی بصیرت ایک عام سیاح اور صاحبِ نظر سفرنامہ نگار کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔ ’’سئیل دویو‘‘ کی اصل خوبی بھی یہی ہے کہ اس میں راستے صرف طے نہیں ہوتے، ان کے معنی بھی دریافت کیے جاتے ہیں؛ شہر صرف دیکھے نہیں جاتے، ان کی تاریخ بھی پڑھی جاتی ہے، اور انسان صرف ملتے نہیں، سمجھے بھی جاتے ہیں۔
کتاب کا انتساب اپنے اندر ایک الگ لطافت رکھتا ہے۔ مصنّف نے اسے اپنے پوتوں محمد عمر فاروق اور احمد مصطفیٰ فاروق اور پوتی ارحاء فاروق کے نام معنون کیا ہے۔ دراصل دادا اور پوتا پوتیوں کا رشتہ محض نسلوں کا تسلسل نہیں بلکہ محبت، دُعا، تجربے اور یادوں کا ایسا حَسین پُل ہوتا ہے جس کے ایک سرے پر ماضی کی دانائی اور دوسرے سرے پر مستقبل کی اُمیدیں کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ انتساب دراصل محبت کی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقلی کا استعارہ ہے۔
کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان چترال کے اسٹیشن ڈائریکٹر جاوید اقبال جاوید نے اسے کہوار کا پہلا سفرنامہ قرار دیا ہے۔ یہ رائے محض ایک تبصرہ نہیں بلکہ کہوار ادب کی تاریخ کے ایک اہم لمحے کی نشاندہی بھی ہے۔ نئی اصناف جب کسی زبان میں داخل ہوتی ہیں تو وہ اس زبان کے امکانات کو وسعت دیتی ہیں، اور ’’سئیل دویو‘‘ اسی وسعت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
ڈاکٹر فیضی کی نثر کا ایک منفرد حُسن اس کی شعریت ہے۔ انہوں نے سفر کی روداد کو محض واقعات کی ترتیب بننے نہیں دیا بلکہ اسے کہوار شاعری، استعاروں، تلمیحات، تشبیہوں اور ضرب الامثال کے رنگوں سے آراستہ کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قاری کسی خشک رپورٹ کو نہیں بلکہ ایک دلکش داستان کو پڑھ رہا ہے۔ ہر باب ایک نئی کھڑکی کھولتا ہے، ہر منظر ایک نئی دُنیا دکھاتا ہے اور ہر سطر میں مصنّف کے وسیع مطالعے اور عمیق مشاہدے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر فیضی صاحب ’’مہ تان لو‘‘ کے عنوان سے کتاب کے شروع میں رقم طراز ہیں۔ ان کو کتاب کے نام سے والہانہ محبت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’سئیل دویو نام لکھی ہے گوݯہ نیویشاکو نام کی ہائے ایتو ݯوکی ٹھور بونی۔‘‘ کہوار سمجھنے والے اس خوبصورت جملے کا لُطف اُٹھا سکتے ہیں۔
روم کے اپنے سفرنامے میں کہوار قدیم شاعری کا حوالہ کچھ یوں دیتے ہیں:
تو مصرو خونزا، ڈق رومو درویش،
تہ سلامو گومان دردانہ گانی
تو یونانو طبیب ڈق رومو لہاز،
مہ نبضو لوڑے کی شکرانہ گنی
اٹلی کے سفرنامہ ’’ہوشو بندگان بیری مو نیسور‘‘ کے عنوان سے ایک ساحل کے کنارے لکھتے ہیں:
’’ساحلہ بی رویانتے لوڑی مت ساریتائے کی امان ژیندان باریئے گولاغموڑیو ݰوتارا نو بوغدو بیرائے ہاسے سمندرو ساحلوتے موغ کاردو بیرائے۔‘‘
اسی سفر میں ایک پُل کے کنارے ڈاکٹر فیضی کو کہوار شاعری یاد آتی ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’سیرا بی روپھی سمندرو سئیلو کوریکو ارمان چھیئوران۔ شیر ملک شور سال پروشٹی آروزو کوری اسیتائے، ’دوستو پوشین بیروا سمندرا سیر نیزیسام‘ ہتوغو آرزو پورا بیتی ہنون اسپہ پونگو موڑا اوشوئے مگم شاعر تان دُنیار سفر کوری بی اسور‘‘
قرطبہ کے بازاروں کی سیر کے دوران ڈاکٹر فیضی کو کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ ان کو ہنزہ میں خواتین کی ڈانس یاد آتی ہے۔ کھوار میں بہت دلنشین پیرائے میں وہ ہنزہ کی تشبیہ یوں دیتے ہیں:
’’شام ݰوئیکو ہر انوس نوغ فنکاران گونیان، چھوئی برابرہ پت مئیلس جاری بیہچوران، مئیلس ہارونی گرم بویان کی جوانانان سوم بیتی زاروان دی پھانینیان، پھتی واوگینی ہنزیکان غون شوقو سورا ہردیار پھونی خسمت نو بونیان۔‘‘
وطن کی یاد اور خصوصاً جنم بھومی کی یاد انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ’’بوئیکو زوخ بطن‘‘ کے مصداق ڈاکٹر فیضی قرطبہ شہر کی سیر کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں:’’پھتی شہرا کوسارو گویان، قرطبو شہرا حال بارو گویان مگم جنت بالیم ہردئیی ہائے۔ ’ڈاق بالیمو جوان یار دوست خوش داریم‘ رے اچی راہی ارتام۔‘‘
قطر ائیرپورٹ پر جہاز کے انتظار میں ڈاکٹر فیضی نے قطر کی ترقی کے بارے میں چند ایسے نایاب جملے لکھے ہیں کہ لُطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ وہ قطر کے ریل اسٹیشنوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’زمینو سوری دی ریل کاسیران، زمینو موڑی دی ریل کاسیران۔ زمینو موڑی ہے ریل اسٹیشن کیا انسانو ہوستو کوروم نو سَرئیران البت تریچ میرو پریان ہمو کوری اسونی۔‘‘
یورپ کے سفرنامے کا آخری باب ’’پُردم خان پھاریار گیرو‘‘ طنز و مزاح میں ادب کا شاہکار لگا۔ کہوار میں ایسے ایسے تقابلی جملے ہیں کہ بس لُطف دوبالا ہوجاتا ہے۔
اس سفرنامے کی ایک اور دل کش جہت ڈاکٹر فیضی کی تحریر ’’غاری نیسیک‘‘ ہے، جس میں وہ ایک قدیم رسم کو یادوں کی کھڑکی سے یوں جھانکتے دکھاتے ہیں جیسے ماضی کی کسی وادی میں وقت ٹھہر سا گیا ہو۔ گرمیوں کی آمد پر مالدار لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ نالوں کا رُخ کرتے، جہاں زندگی فطرت کی آغوش میں سانس لیتی تھی؛ پھر خزاں کی پہلی دستک کے ساتھ یہی قافلے اپنے ریوڑ سمیٹے واپسی کی راہ لیتے۔ اب یہ روایت رفتہ رفتہ معدوم ہو رہی ہے، اور غذر و چترال کی تہذیبی یادداشت میں ’’غاری نیسیک‘‘ ایک ایسی خوب صورت یاد بن کر رہ گئی ہے جس کی بازگشت میں پہاڑوں کی خاموشی، گھنٹیوں کی مدھم جھنکار اور گزرتے موسموں کی اُداس رومانویت آج بھی سنائی دیتی ہے۔
کتاب کے آخری صفحے تک پہنچ کر قاری کے دل میں ایک ہلکی سی اُداسی جنم لیتی ہے؛ وہی اُداسی جو کسی حسین سفر کے اختتام پر محسوس ہوتی ہے۔ ’’سئیل دویو‘‘ صرف مقامات کی کہانی نہیں، یہ انسان کی ازلی جستجو، اس کے اشتیاقِ دید اور اس کی فکری پرواز کی داستان ہے۔
آخر میں، میں اس بے مثال علمی و ادبی کاوش پر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ’’سئیل دویو‘‘ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ مشاہدات، تجربات، تہذیبوں، یادوں اور احساسات کا ایسا رنگا رنگ کارواں ہے جو قاری کو اپنے ساتھ دور دراز سرزمینوں کی سیر کراتا ہے۔ ڈاکٹر فیضی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف اپنی سفری داستان محفوظ کی ہے بلکہ کہوار زبان کو ایک ایسی ادبی صنف سے بھی روشناس کرایا ہے جس کی بازگشت آنے والی نسلوں تک سنائی دے گی۔ یہ کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ایک باشعور مسافر کے ہاتھ میں قلم آ جائے تو راستے تاریخ بن جاتے ہیں، مشاہدے ادب میں ڈھل جاتے ہیں اور یادیں اجتماعی ورثہ بن جاتی ہیں۔
دُعا ہے کہ ڈاکٹر فیضی کا قلم یوں ہی لفظوں میں خواب بُنتا رہے، اور ترچ میر کی پریاں اُن کی تحریروں کی خوشبو اپنے نازک پروں پر سجائے، چترال کی وادیوں سے اُڑتی ہوئی زمانوں کے آنگن میں محبت کے دیے روشن کرتی رہیں۔