احمد سلیم سلیمی اور ’’کھڑکی بھر چاند‘‘ – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
.
جولائی کا وہ دن اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ طلوع ہوا تھا، خیبر گیسٹ ہاؤس ایمت کے صحن میں بیٹھے ہم ناشتہ کر رہے تھے۔ سورج کی کرنیں چائے کے سفید پیالوں سے ٹکرا کر چاروں اور نور بکھیر رہی تھیں۔ ایسے میں موبائل کے اسکرین پر کئی نوٹیفکیشنز نمودار ہو رہی تھیں، میں اسٹاف کے ساتھ غذر اشکومن کے بالائی علاقوں میں فلیڈ ڈیوٹی پر تھا۔ ہم رات کو دیر سے پہنچے تھے۔ اب ناشتہ کر رہے تھے۔ اشکومن کے بالائی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک نہیں ہے، اب چونکہ ایمت میں انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہوئے تھے، اس لیے موبائل پر بے تحاشا نوٹیفیکیشنز تھیں۔
طویل سفر سے بدن ٹوٹ رہا ہو، پھر بھوک بھی انتہا کو پہنچی ہو، سامنے گرم گرم پراٹھوں کے ساتھ لبریز، لب دوز اور ﻟﺐ ﺳﻮﺯ تاجکی نکمین چائے ہو، ایسے میں بندے کو موبائل کا ہوش کہاں رہتا ہے۔ یکایک نظریں موبائل اسکرین پر پڑیں، واٹس ایپ پر احمد سلیم سلیمی صاحب کا نام چمک رہا تھا۔ زمانوں بعد سلیمی بھائی نے یاد فرمایا تھا۔ میں نے مشینی انداز میں موبائل کو اُٹھایا تھا، انہوں نے وائس میسیج بھیجا تھا۔ وہ فرما رہے تھے کہ انہوں نے اپنی تازہ تصنیف ’’کھڑکی بھر چاند‘‘ کی اعزازی کاپی گلگت میں عزیزم نیاز احمد نیازی کی دُکان پر رکھی ہے، مجھے وہاں سے کتاب پک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ میں نے اس عزت افزائی پر وائس میسیج میں ہی سلیمی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ وہ اپنی ہر ادبی کاوش پر ہمیں یاد کرتے ہیں یہ اُن کا بڑاپن ہے۔ میں نے فوراً نیازی کو فون کیا کہ وہ مجھے جتنی جلدی ہوسکے کتاب گاہکوچ میرے آفس کے ایڈریس پر بھیج دیں۔ نیازی کا شکریہ کہ انہوں نے اس کارِ خیر میں دیر نہیں کی۔
اب ہم تھے، سلیمی صاحب کا ناول ’’کھڑکی بھر چاند‘‘ تھا، جولائی کی تپتی دوپہریں، مہکتی شامیں اور چاند راتیں تھیں کہ جن کی چاندنی میں ہم نے یہ شاندار ناول پڑھا اور اس کی دلدوز کہانی میں بھیگتے رہیں۔
کتاب خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ نیوی بلیو کلر میں شائع ہوئی ہے۔ سرورق پر کھڑکی بھر چاند جلی حروف میں لکھا گیا ہے۔ ایک دوشیزہ کو دکھایا گیا ہے جو خمار آلود آنکھوں سے کھڑکی سے باہر اُفق پر کچھ تلاش کر رہی ہے۔ ہاں یاد آیا کھڑکی کے دریچوں سے جھانکتا دُور اُفق پر آدھا چاند غروب ہونے کو ہے۔ دوشیزہ چاند کے بچھڑ جانے پر پریشان ہے یا سامنے بندوق تھامے قبائلی نوجوان کے خوف سے۔۔۔۔ فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کتاب کا بیک ٹائٹل بھی شاندار ہے۔ مصنّف کی تصویر کے ساتھ ان کی شائع شدہ کتابوں کا ٹائٹل پیچ دیا گیا ہے۔ ’’شکستِ آرزو‘‘، ’’دشتِ آرزو‘‘ اور ’’حدیثِ دل‘‘ کے بعد ’’کھڑکی بھر چاند‘‘ مصنّف کی چوتھی قلمی کاوش ہے۔
سلیمی صاحب کی پُرانی کتابوں اور ان کی اکثر تحاریر میں چاند کا ذکر اکثر ملتا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’شکستِ آروز‘‘ کا انتساب دیکھئے۔۔۔۔ چاند کے نام، جسے میں دیکھ سکتا ہوں اور اپنی روح کی گہرائی تک اسے محسوس کرسکتا ہوں لیکن اسے پا نہیں سکتا۔ زیرنظر ناول میں انہوں نے اس لاحاصل چاند کو کتاب کا ٹائٹل ہی بنا دیا۔ دُعا ہے کہ چاند کی تلاش کا یہ سلسلہ نہ رُکے اور ہم ان کی تلاش کے اسفار، سفر کے مختلف پڑاؤ اور اس لاحاصل چاند کی کسک ان کی آئندہ تحاریر میں بھی محسوس کرسکے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ یہ واقعی میں چاند ہے یا کوئی چاند چہرہ۔۔۔ جس نے ہمارے حساس دوست کو ایک عرصے تک متجسس اور ہلکان کیے رکھا ہے۔
ناول کے کرداروں میں حنا، سلمان احمد، جمشید، نمبردار عنایت، فقیر اللہ، ملک امین شیر، جمدر، شکرال جبکہ ذیلی کرداروں میں بھگوتا قبیلے کے سردار شمشیر خان، سردار تعبیر خان، سردار سومر خان، برشال خان، سردارنی سمورا، صفورا، تکاشہ، صابرہ، شمیمہ خاتون اور شہباز قابلِ ذکر ہیں۔ شہباز کا کردار قابلِ رشک جبکہ جمشید کا کردار انتہائی گھٹیا دکھایا گیا ہے۔ اور اتفاق سے کتاب کا انتساب گلگت بلتستان کے نامور شاعر اور ایک نایاب انسان جمشید خان دُکھی مرحوم کے نام کیا گیا ہے۔ دل میں ایک کھسک رہی کہ کاش! ناول میں ولن کا نام جمشید کی جگہ کوئی اور نام ہوتا۔ جمشید تو محبت کے امین تھے، وہ اپنے وقت کے ولی تھے، جمشید کا نام لبوں پر آتے ہی ادب اور احترام کا جذبہ اُبھرتا ہے لیکن ناول میں ولن کا کردار ادا کرنے والے کا نام جمشید بالکل سوٹ نہیں کرتا ہے۔ کاش! اس ناول کے ولن کا نام جمشید کی جگہ کوئی اور ہوتا۔
’’کھڑکی بھر چاند‘‘ میں احمد سلیم سلیمی صاحب مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے۔ جس میں جہاں ارضِ شمال کی پُراسرار وادیوں، جنگلوں میں گھومتی پھرتی محبت، نفرت اور انتقام کی ایک آتش ناک داستان پڑھنے کو ملتی ہے وہاں جنگلوں کی غیر قانونی کٹائی، نوگو ایریاز، قبائلی روایات، صنفِ نازک کی تعلیم سے دوری، حرام خوری، راتوں رات امیر بننے کی خبط، رسوم و رواج کی پابندی، قانون کی پامالی، اقتدار کی لالچ، خاندانی سیاست اور اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ قائم کرنے کی مزموم حرکتیں نظرنواز ہوتی ہیں۔ جمشید کا راتوں رات امیر بننے کا خواب، ملک امیر شیر کا منفی کردار اور بھگوتا قبیلہ کے اندورنی خلفشار اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ یہ کتاب جہاں ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم ہے وہاں جنگلی حیات پر کام کرنے والوں اور اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے صاحبِ اختیار افراد کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
یہ ناول دیامر اور کوہستان کے قبائلی پس منظر کو مدِ نظر رکھ کر لکھا گیا ہے۔ سلیمی صاحب اپنی پروفیشنل مصروفیات کی وجہ سے ایک عرصے تک دیامر میں رہا ہے۔ یہ ناول ان کے تجربات کا نچھوڑ ہے۔ جس کے حرف حرف پر سلیمی صاحب کی دانش و بینش دونوں کی گواہیاں ثبت ہیں، صاف اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ان علاقوں کا مشاہدہ توجہ سے کیا اور حواسِ خمسہ کے وسیلے سے جو کچھ حاصل کیا ہے، اسے اپنے غوروفکر کا جزو بنا لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
’’کہانی کار لفظوں کا لٹیرا ہوتا ہے۔ خیال اور جذبے کے اظہار کا فن آجائے تو بے تکان کہے جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا مشاہدہ اور مطالعہ جب کہانی کی تشکیل کرتے ہیں تو یہ کبھی درد کی زبان میں کراہنے لگتا ہے۔ کبھی غمِ ہجر میں تڑپنے لگتا ہے۔ کبھی خوشی کی بے نام آرزوئیں مچلنے لگتی ہیں اور کبھی بے پناہ خوشی لفظ لفظ سے پھوٹنے لگتی ہے۔ کبھی انا اور کبھی ضد، کبھی ایثار اور کبھی غم، کبھی برادرانِ یوسف تو کبھی غارِ یار۔‘‘
سلیمی صاحب کہتے ہیں:
’’کھڑکی بھر چاند‘‘ کے کردار اور واقعات بھی محض تخیلاتی نہیں، میرے اپنے دیس میرے گلگت بلتستان کی تہذیب اور ثقافت کی افسانوی تشکیل ہے۔‘‘
احمد سلیم سلیمی سے یارانہ کو ایک عرصہ ہو رہا ہے۔ ہم نے کئی اسفار ساتھ کیے ہیں۔ ’’فکرونظر‘‘ میگزین کی اشاعت کے دنوں ہم گھنٹوں پیلیس ہوٹل گلگت میں بیٹھ کر ایڈیٹنگ کرتے، چائے پر چائے کا دَور چلتا رہتا، وہ جتنے اوپر سے نفیس اور خوبصورت انسان ہیں اس سے کئی گنا زیادہ اندر سے خوبصورت اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ ان کی تحاریر کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ لکھنئو اور دہلی میں پیدا ہونے کے بجائے وہ غلطی سے گلگت میں پیدا ہوئے ہیں۔ وہ ایک بڑے لکھک ہیں۔ سلیمی کے ہاں الفاظ نہیں احساسات بولتے ہیں۔ ناول کا خوبصورت کردار فاریسٹ آفیسر سلمان احمد کا حنا کے نام پہلا خط۔۔۔۔ احمد سلیم سلیمی لکھتے ہیں۔ ذرا اس منظرکشی کو دیکھیے:
’’اس نے تیزی سے الماری کھول کے دیکھا۔ ایک لالٹین، چند پیالیوں اور ایک ریڈیو سیٹ کے علاوہ چند اور عام سی چیزوں کے درمیان اسے خالی لفافہ نظر آیا۔ لفافہ اُٹھا کے بے تابی سے کھولا۔ اندر سے ایک رقعہ برآمد ہوا۔ وہ اس چھوٹے سے کمرے میں تنہا تھی۔ بیرونی دروازہ اس نے بند کیا تھا۔ اس کے باوجود ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ رقعہ پڑھنا شروع کیا۔‘‘
سلمان احمد نے حنا کو خط میں لکھا تھا:
’’مجھے یقین ہے یہ خط تم تک پہنچ جائے گا۔ مجھے یہ خوف نہیں کہ کسی اور کے ہاتھ لگ جائے گا۔ کیونکہ یہاں اکثر لوگ ان پڑھ ہیں۔ فقیراللہ اور تہمارے ابا عنایت خان سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔ وجہ تم جاتی ہو۔ وہ بھی پڑھ نہیں سکتے ہیں۔‘‘
پہلی محبت کا میٹھا میٹھا درد حنا کو دیر تک ہلکان کیے رکھتا ہے۔ سلیمی صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’حنا نے جب سے فارسٹ آفیسر سلمان احمد کا خط پڑھا تھا اس کا سکون لٹ گیا تھا۔ دل میں البیلے موسم اُتر آئے تھے۔ کبھی جذبات کی رم جھم میں وہ بھیگ جاتی، کبھی نرم نرم محسوسات کی دھوپ میں سلگ سی جاتی تھی۔ نگاہوں کی رہ گزر پہ نانگا پربت کی گُل پوش وادیوں کا سارا حُسن سمٹ آتا تھا۔ اس نے لکھا تھا ایک مہینے بعد وہ آئے گا۔ اب یہ انتظار اس کے سانسوں کے لیے آزار بن گیا تھا۔‘‘
حنا کو کون سمجھائے کہ انتظار ایک اذیت ہے۔۔۔ پھر چاہے ہاتھ میں موبائل پکڑے کسی کی مسیج کا ہو، چوکھٹ پر بیٹھے کسی کے لوٹ آنے کا ہو، بستر پر لیٹے نیند آنے کا ہو، کسی مہربان کے خط کا ہو یا پھر زندگی سے ہار کر موت کے آنے کا ہو۔ انتظار اذیت ناک ہوتا ہے۔ لیکن حنا کا انتظار بارآور ثابت ہوتا ہے۔ سلمان احمد کا دوسرا خط موصول ہوتا ہے۔ تین چار سطروں کے بعد سلمان احمد نے لکھا تھا:
’’حنا میں حسبِ وعدہ آگیا ہوں۔ اپنے پیچھے بہت سے کام چھوڑ کے آیا ہوں۔ دفتر کی ذمہ داریاں ہر دن زنجیر بن جاتی تھیں لیکن تم کو ایک بار دیکھنے کی تمنا سب پر حاوی ہوگئی۔‘‘
احمد سلیم سلیمی لکھتے ہیں:
’’چند جملوں پر مشتمل یہ پیغام پڑھ کے اس کے نس نس میں جیسے بے خودی دوڑنے لگی۔ وہ ہواؤں میں اُڑنے لگی۔ گاؤں میں لوگ جلد سو جاتے ہیں۔ اس کی ماں اور بھائی بھی کمرے میں ایک طرف سوئے ہوئے تھے لیکن اس کی نیند اُڑ گئی تھی۔ فارسٹ آفیسر کے خط کا ایک ایک لفظ اس کے بدن کی چٹکیاں لیتا رہا۔ وہ کانپتی، گہری گہری سانسیں لیتی، خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتی طویل رات کاٹنے کے جتن کرتی رہی۔ بہت رات گزرنے کے بعد کہیں جاکے اسے نیند آگئی۔‘‘
اگلی صبح اُمیدوں، مسرتوں اور محبوب سے ملاقات کی نوید لے کر طلوع ہوتی ہے۔ ملاقات کیسی ہوتی ہے۔ کتاب ضرور پڑھئیے گا۔
احمد سلیم سلیمی کا ایک اور خوبصورت جملہ دیکھیے۔ وہ اپنی کتاب کے صفحہ نمر۶۳ میں لکھتے ہیں:
’’تھلچون کی اس معصوم سی، من موہنی سی لڑکی کی محبت کی طاقت تھی جس نے ادھر آنے پر مجبور کیا تھا۔ جسمانی زخم بھلا کے، دل میں اُٹھنے والے میٹھے میٹھے درد کی تسکیں کے لیے کھنچا ہوا چلا آیا تھا۔‘‘
حنا اور سلمان احمد ایک طویل جدائی کے بعد بھگوتا قبیلے میں جرگے اور بیاک کی کاوشوں سے مل جاتے ہیں تو وصلِ محبت کی منظرکشی احمد سلیم سلیمی صاحب نے کچھ یوں کی ہے:
’’ایک طرف کئی جنگجو تھے۔ دوسری طرف شہباز تھا، ان کے درمیان جدائی کی آگ میں جلتے دو محبت کرنے والے، سب سے بے نیاز ایک دوسرے کی جانب دوڑ رہے تھے۔ فاصلے سمٹ گئے۔ دونوں قریب آگئے۔ ان کے بازو وا ہوئے۔ پھر دونوں ایک دوسرے میں سما گئے۔ ڈوبتے سورج کی سنہری کرنیں برفیلی چوٹیوں سے اُتر کر ان پر ضیا پاشی کر رہی تھیں۔ کائنات کی ہر ہر شے اس ساعتِ وصل کا گویا جشن منا رہی تھی۔‘‘
یہاں مجھے الکیمسٹ میں پڑھا گیا یہ جملہ شدّت سے یاد آیا:
“And, when you want something, all the universe conspires in helping you to achieve it.”
ناول سسپنس سے بھرپور ہے۔ تھلچون وادی سے شروع ہونے والی محبت کی یہ کہانی بکروال بستی، شاہراہِ قراقرم، بھگوتا قبیلہ، مادوپور اور پھر شہر کی گہماگہمی میں حنا کی اغوا اور پھر قتل کی صورت میں اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ احمد سلیم سلیمی اپنے ناول کے آخری صفحات پر لکھتے ہیں:
’’عشق کی رہ گزر پہ طویل آبلہ پائی کے بعد حنا کو منزل مل گئی تھی۔ یہ ضروری نہیں ہر محبت کرنے والے کو وصالِ یار نصیب ہو۔ کبھی محبت کے راستے پر اپنی جان قربان کرنا بھی اعزاز بن جاتا ہے۔ محبت ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔ ان دونوں کی محبت وصل و ہجر کے کئی موڑ سے گزر کر عشقِ ناتمام کی صورت میں اپنے انجام سے دوچار ہوئی تھی۔ لازم نہیں محبت کرنے والوں کو ہمیشہ وصال کی مسرتیں نصیب ہوں۔ کبھی ایک دوسرے پر قربان ہوکر اس طرح بچھڑ جاتے ہیں کہ زندگی بھر دولتِ درد سے مالامال رہتے ہیں۔ ایسے میں عشقِ ناتمام کا دُکھ نہیں ہوتا۔ بس بیچ راستے میں زندگی تمام ہونے کا افسوس سدا ناسور بنا رہتا ہے۔ حنا اس کے دل کی کھڑکی پہ کسی چاند کی طرح روشن ہوئی تھی۔ یہ الگ بات ہے یہ چاند بس اتنا ہی اسے نصیب ہوا تھا جتنی کھڑکی کی وسعت ہوتی ہے۔ یہ کھڑکی بھر چاند جلد ہی فنا کے بے کنار سمندر میں ہمیشہ کے لیے اُتر گیا تھا۔‘‘
سلمان احمد اور حنا کی محبت بھی ایسے ہی اختتام کو پہنچی تھی۔ سلمان احمد کی حالت اس شعر کی مصداق تھی؎
گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن
بہت اُداس، بہت بے قرار گزرے گی
ایک شاندار ناول کی کامیاب اشاعت پر احمد سلیم سلیمی صاحب کو ڈھیروں مبارک باد۔ قارئین اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے گا آپ کو اس کے شاندار ہونے کی دلیل مل جائے گی۔
’’کھڑکی بھر چاند‘‘ پر اور بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے۔ لیکن کچھ باتیں اَن کہی اچھی ہوتی ہیں۔ ہاں کھڑکی سے یاد آیا۔ منیر نیازی نے کہا تھا؎
کچھ باتیں اَن کہی رہنے دو
کچھ باتیں اَن سنی رہنے دو
سب باتیں دل کی کہہ دیں اگر
پھر باقی کیا رہ جائے گا
سب باتیں اس کی سن لیں اگر
پھر باقی کیا رہ جائے گا
اِک اوجھل بے کلی رہنے دو
اِک رنگیں اَن بنی دُنیا پر
اِک کھڑکی اَن کُھلی رہنے دو