بنات گل آفریدی آڈیٹوریم: خطے کی پہلی ادبی کانفرنس – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
.
وہ دن اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ طلوع ہوا تھا جب ہم گلگت سے بلتستان کی طرف پا بہ رکاب تھے یا یوں سمجھیں پا بہ ایکسلیٹر تھے۔ بلتستان میرے لیے کوئی اجنبی جگہ نہیں میں اس سرزمین کی مہک کا ایک عرصے سے عادی ہوں۔ آج کا سفر ایک عرصے کے بعد پیش آیا تھا۔ جوں جوں ہماری گاڑی آگے بڑھتی بلند و بالا پہاڑ اپنی برف پوش چوٹیوں کے ساتھ آسمان سے ہم کلام دکھائی دیتے تھے۔ دریائے سندھ کی نیلی پگڈنڈی سا منظر لیے یہ وادیوں کے سنگ بہتا، اپنی صدیوں پُرانی کہانی سناتا رہا۔ راستے میں کبھی سرسبز چراگاہوں کی خوشبو دل کو بہلاتی اور کبھی سنگلاخ چٹانیں انسان کی ہمت کو آزمانے لگتیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فطرت نے اپنی شاعری کے سب سے حسین اور نایاب اشعار انہی وادیوں میں لکھ رکھے ہوں۔
اسی حسین فضا میں اسکردو کا بنات گل آفریدی آڈیٹوریم اپنی ایک الگ معنویت کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ یہاں اکادمی ادبیات اسلام آباد کی زیرِ نگرانی دو روزہ کانفرنس منعقد ہونے جا رہی تھی، جس کا عنوان تھا ’’ادبیاتِ گلگت بلتستان: معاصر تناظر‘‘۔ یہ کانفرنس محض ایک علمی نشست نہ تھی، بلکہ ادبی اور تہذیبی قافلے کا سنگِ میل محسوس ہوتی تھی۔
اکادمی ادبیات اسلام آباد کی صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ مبارک باد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار اس عظیم الشان ادبی کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی صدارت کا وقار بڑھایا۔ بورڈ آف گورنرز کے معزز اراکین جناب احسان شاہ اور جناب قاسم نسیم بھی تحسین کے حقدار ہیں، جو اس سرزمین کے فرزند ہونے کے ناتے اس کے ادبی منظرنامے کو بخوبی جانتے ہیں۔ بلاشبہ یہ کاوش بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہے جو خطے میں ادب کی نئی بہار کی نوید دیتی ہے۔
ہال کے اندر خطے کے نامور ادبا و شعرا جمع تھے۔ ان کی موجودگی سے محفل میں ایک علمی اور فکری نورانیت پھیل گئی تھی۔ پہلی نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ننھے اجمل ذاکری نے نعت رسول مقبولؐ سے گویا محفل ہی نہیں بلکہ ہم سب کے دل بھی لوٹ لیے۔ نظامت کے فرائض جناب قاسم نسیم اور محترمہ کوثر پروین نے ادا کیے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ نے خطبہ استقبالیہ دیا اور بہت ہی فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ آج کی پہلی نشست کے پہلے مقالہ نگار جناب محمد حسن حسرت تھے جنہوں نے گلگت بلتستان کا ادب اور معاصر سماج کے بدلتے تقاضے پر کلیدی مقالہ پڑھا۔ بعد ازاں جناب علی قربان مغنی نے وخی زبان کی تاریخ، ثقافت اور ادب پر گفتگو کی۔ محفلِ صدارت میں موجود خطے کے نامور ادیب جناب یوسف حسین آبادی نے اپنے صدارتی خطبے میں اکادمی ادبیات کی کاوشوں کو سراہا۔ جبکہ مہمان خصوصی جناب میثم کاظم اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی نے انتہائی خوبصورت پیرائے میں ادبی گفتگو کی۔ بعد میں کسی دوست نے بتایا کہ وہ سیاست سے پہلے اردو ادب کے استاد رہے ہیں۔ اس شعر کا یہاں یاد آنا اچھنبے کی بات نہیں؎
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
جب ہم اس پہلی نشست کے بعد ہال سے باہر نکلیں تو سامنے بلتستان کے پہاڑ شام کی سنہری دھوپ میں ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے وہ بھی کانفرنس کی روداد سن رہے ہوں۔ دریا کی لہروں میں ایک سرگوشی تھی اور ہوا میں ایک ساز۔ یوں لگا جیسے یہ تمام مظاہرِ فطرت بھی ادب کی محفل کا حصہ ہوں۔ پروگرام کا دوسرا حصہ شگر فورٹ میں محفلِ مشاعرے کی صورت میں تھا۔ تاج صاحب کے اصرار پر میں نے اپنی گاڑی کمشنر ہاؤس میں پارک کی اور ان کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھا۔ ضیا صاحب، تاج صاحب اور عزیزم نذیر حسین نذیر جو شنا کے بے بدل شاعر ہیں، ہم سے دو دن پہلے سکردو میں رقم رنجہ فرما چکے تھے۔ میں اور عزیزم وسیم عباس حیدری جو بروشسکی زبان کے نوجوان شاعر ہیں، آج سکردو پہنچے تھے۔ شگر کے سفر میں وسیم کسی اور گاڑی میں بیٹھا۔ ہم جب شگر کی طرف نکلے شام کے سائے گہرے ہورہے تھے، سورج اپنی آخری کرنوں سے پہاڑ کی چوٹیوں کو ایسی چھو رہی تھیں جیسے کوئی حسینہ اپنے ہونٹوں پر لپ اسٹک کی آخری ٹچ دے رہی ہو۔
شگر فورٹ کے پائیں باغ میں خطے کے نامور شعرا جمع تھے، اور اپنی شاعری سے گویا محفل کو رنگ و نور میں نہا رہے تھے۔ صوبائی وزیرتعمیرات جناب سید امجد زیدی، جناب محمد امین ضیا، جناب ڈاکٹر مظفر حسین انجم اور جنا شیخ محمد علی توحیدی کی صدارت میں یہ محفلِ شعر و سخن شروع ہوئی جبکہ مہمانِ خصوصی محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف تھیں۔ شگر فورٹ جو اب سرینا ہوٹل کے نام سے چل رہا ہے، رات ۱۱ بجے تک مشاعرہ جاری رہا۔ پھر عیشائے کے ساتھ مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔ سکردو سے شگر اور واپسی کا سفر بہت شاندار رہا۔ تاج صاحب کے غیر پارلیمانی لطیفوں کے ساتھ ہمارے قہقہے گونجتے رہے۔
بلتستان کے لوگ سراپا محبت ہیں۔ ہماری سکردو آمد پر ہمیں بشارت ساقی اور عاشق فراز ملے۔ بشارت ساقی نے کالج کینٹین میں ہمیں لذیذ کھانا کھلایا۔ تب ہم نے ان سے گزارش کی تھی کہ وہ دوسرے دن کی کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہمیں پروفیسر حشمت کمال الہامی (مرحوم) کی آخری آرام گاہ تک لے جائیں تاکہ ہم اپنے عزیز از جان دوست کے لیے فاتحہ کر سکے۔ دوسرے دن ہم بشارت ساقی کے ساتھ پروفیسر مرحوم کے مرقد پر حاضر ہوئے تھے۔ ان کی قبر کے کتبے پر ان کے یہ اشعار پڑھ کر گویا ہمارا دل بیٹھ گیا شاید انہیں اپنی موت کی خبر پہلے ہوئی تھی۔ ذرا ملاحظہ کیجئے؎
موافق جب زمانہ ہو تو نازاں ہم نہیں ہوں گے
مخالف ساری دُنیا ہو تو نالاں ہم نہیں ہوں گے
بحکمِ رب لحد میں جب کبھی خلوت نشیں ہوں گے
تمہارے درمیاں اس وقت یاراں ہم نہیں ہوں گے
کمالِ فکروفن کے راستوں نے یہ کہا ہم سے
ہمیں مشکل سے پاؤگے کہ آساں ہم نہیں ہوں گے
ہم بوجھل دل اور لرزتے قدموں کے ساتھ وہاں سے کانفرنس کی اور روانہ ہوئے۔ شگر مشاعرے میں پروفیسر مرحوم کی صاحبزادیوں صبیحہ کمال اور عفیفہ کمال سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ سکردو کی پہلی نشست میں حبیبہ کمال سے ملے۔ پروفیسر مرحوم کی تینوں بیٹیاں خلوص و محبت کی پیکر نظر آئیں۔ اللہ پاک انہیں خوش رکھے۔
دوسرے دن کی پہلی نشست بلتستان کے نامور شاعر احسان دانش کی نظامت میں شروع ہوئی۔ جبکہ مجلس صدارت میں گلگت کے خوش فکرو خوش خیال شاعر عبدالخالق تاج صاحب اور وزیر ترقیات و منصوبہ بندی جناب راجہ ناصر علی خان تھے۔ وسیم عباس حیدری کی پُرسوز آواز میں نعت نے گویا محفل میں وجد طاری کی۔ وسیم عباس حیدری کا تعلق گنش ہنزہ سے ہیں اور وہ بروشسکی کے نامور شاعر شیرباز علی خان کے صاحبزادے ہیں۔ آواز کا جادو ان کو وراثت میں ملا ہے۔ بعد ازاں مراد علی خان کی شاعری اور طغرا نویسی پر ڈاکٹر حسن خان اماچہ نے گفتگو کی جبکہ بلتی زبان میں افسانوی ادب پر غلام رسول تمنا نے بہت جانداز مقالہ پیش کیا۔ ہنزہ سے آئے ہوئے معراج حسین نے معدومیت سے دوچار ڈوماکی زبان پر اپنے خدشات پیش کیے۔ مجلس صدارت میں راجہ ناصر علی خان نے خوب صورت پیرائے میں تقریر کی۔ اب عبدالخالق تاج کی باری تھی۔ احسان دانش کو شرارت سوجھی۔ عبدالخالق تاج کا تعارف کرتے ہوئے کہنے لگے کہ موصوف صوم و صلوات کے علاوہ ہر چیز پابندی سے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاج صاحب ایک خطرناک بیماری کو بھی اپنی زندہ دلی سے شکست دے چکے ہیں۔ اتنے سرپھرا کہ کہتے ہیں؎
آخری دم تک رہے گی تاج اپنی یہ روش
جب خدا کا سامنا ہوگا تو دیکھا جائے گا
احسان دانش نے بتایا کہ جب میں بیمار ہوا تو تاج صاحب میری بیمار پُرسی کے لیے گلگت سے سیکڑوں میل دور سرمیک پہنچ کر نہ صرف عیادت کی جبکہ اتنے زندہ دل آدمی کی آنکھوں سے دو قطرے آنسو بھی گر پڑے۔ یہ میرے اوپر قرض تھا جب یہ بیمار ہوا تو میں خوش تھا کہ کب ان کی یاد میں کھل کر رو لوں اور قرض چکالوں لیکن ظالم نے اس کا موقع نہیں دیا۔ میری دُعا ہے کہ اللہ ان کو عمرِ نوح عطا فرمائے اور ہم رونے کی حسرت لیے یوں ہی انتظار کرتے رہیں۔ اس کے بعد گویا محفل زعفراں زار ہوئی۔ ہر طرف قہقہے بلند ہوئے۔ تاج صاحب اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے ہوئے فرمانے لگے، ایک دفعہ ایک فقیر دروازے پر آیا اور جب میں نے ان کی مدد کی تو بہت دُعائیں دینے لگے کہ اللہ آپ کو لمبی عمر دے، کامیاب کرے، وغیرہ وغیرہ۔ میں نے فقیر سے گزارش کی کہ میاں! آپ کی دُعا قبول ہوتی ہے تو برائے مہربانی میری چھوٹی قد کے لیے ہی دُعا کرے فی الحال مجھے لمبی عمر کی نہیں لمبے قد کی شدید ضرورت ہے۔ گویا ایک بار پھر محفل قہقہوں سے گونج اُٹھی۔ یوں یہ پہلی نشست بھی مکمل ہوئی۔ چائے کے وقفے کا اعلان ہوا۔ چائے سے یاد آیا۔ کسی دل جلے نے خوب کیا ہے؎
کبھی پئیں گے تمہارے ہاتھ کی چاۓ
سُنا ہے تم الائچی منہ سے توڑ کے ڈالتے ہو
دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ میر اسلم حسین سحر نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ جناب ذوالفقار علی اور جناب تہذیب الحسن نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ گلگت بلتستان کے ادب پر تنقیدی نظر کے موضوع پر جناب عاشق فراز نے جانداز مقالہ پڑھا۔ جناب عاشق حسین عاشق نے گلگت بلتستان کی زبانوں میں ترجمہ پر مقالہ پڑھا۔ جناب وزیر فدا حسین شگری نے بلتی شاعری میں صنائع بدائع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر عظمیٰ سلیم صاحبہ نے گلگت بلتستان میں ادبی تحقیق و تنقید پر جہاں اپنا مقالہ پڑھا وہاں اہلِ قلم کی جانب سے کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ اس نشست میں راقم الحروف نے کہوار چترال اور غذر کی تہذیب کی نمائندہ زبان کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ سامعین کی نذرِ سماعت کی۔ میں یہاں اپنے دوست ڈاکٹر حاجی کریم خان کنٹرولر یونیورسٹی آف بلتستان کا خصوصی شکریہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنی مصروفیات کے باوجود میرے مقالے کو سننے تشریف لائے۔ اس نشست میں صدارت کی کرسیوں پر ثریا زمان صاحبہ صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دلشاد بانو صاحبہ صوبائی وزیر امورِ خواتین و سماجی بہبود تھیں جنہوں نے یکے بعد دیگرے خوبصورت تقاریر کیں اور مقالہ نگاروں کی تحقیق کو سراہا۔ اس کے بعد ظہرانے کا وقفہ ہوا۔ دریائے سندھ کی آغوش میں کنکوڈیا ہوٹل کے ڈائنگ ہال میں ظہرانے سے زیادہ نیچے نشیب میں بہتا دریائے سندھ اور سامنے اونچائی پر ایستادہ کھرپوچو قلعہ کے مناظر دل کو لبھا رہے تھے۔
ظہرانے کے بعد تیسری نشست کا آغاز ہوا۔ جس کی نظامت جناب امتیاز صادقی نے کی۔ جبکہ صدارت جناب محمد حسن حسرت اور جاوید منوا صاحب ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے کی۔ گلگت میں شاعری اور سماج کا رشتہ محمد امین ضیا، گلگت بلتستان میں نایاب مخطوطات جناب غلام حسن حسنو، شنا ادب اور شاعری کی جہتیں جناب عبدالخالق تاج، بروشسکی ادب: جدید مسائل اور تقاضے ایڈووکیٹ وزیرمحمد شفیع جبکہ گلگت بلتستان میں اردو مرثیے اور سلام کے موضوع پر جناب عارف سحاب نے خوبصورت تحقیقی مقالے پڑھے۔ یوں یہ نشست بھی شاندار رہی۔ مجلس صدارت میں موجود نامور محقق محمد حسن حسرت نے اکادمی ادبیات کی کاوش کو سراہا۔ جاوید منوا صاحب نے بہت خوبصورت تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کانفرنس میں کچھ سیکھنے آیا تھا میری خواہش تھی کہ پیچھے بیٹھوں اور ان عظیم اسکالرز کو سنوں لیکن آپ نے مجھے آگے بٹھا کر یقیناً امتحان میں ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے دو گھنٹے سے بہت کرب میں ہوں۔ میں سروں کی گنتی سے اسمبلی پہنچا ہوں میرا کام سیمینٹ اور سریا کے گرد گھومتا ہے جبکہ آپ اسکالرز ہیں، آپ کا اکثر وقت ادب اور کتابوں میں صرف ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو سے ان کی علم دوستی چھلک رہی تھی۔ ایک بار پھر چائے کا وقفہ۔۔۔۔ کسی نے دل جلے نے خوب ہی کہا ہے؎
زندگانی پھر اُسی ٹیبل پہ آکر رُک گئی
پھر وہی ادرک کی چائے، اور پھر اُسی کافر کی یاد
ہم بھی کافر یادوں کے ساتھ ڈاکٹر مظفر حسین انجم کے ساتھ کسی میز کے کنارے ماضی کو کھوج رہے تھے۔ اختتامی اجلاس کا اعلان ہوا اور ہم اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ نظامت کے فرائض احسان شاہ ممبر بورڈ آف گورنرز اکادی ادبیات اسلام آباد نے سنبھالی۔ جناب ذیشان مہدی نے اردو کا سفر ہندوستاں سے گلگت بلتستان تک کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ اردو ادب پر گفتگو نے ماحول کو اور زیادہ معنوی کر دیا۔ اس وقت یہ احساس اور بھی نمایاں ہوا کہ اردو نے گلگت بلتستان کی زمین پر کس طرح دلوں کو جوڑا ہے اور کیسے مقامی تخلیق کاروں نے اس زبان میں اپنی خوشبو شامل کی ہے۔ ذیشان مہدی نے جہاں اپنا مقالہ پیش کیا وہاں بلتستان میں ادبی بیٹھکوں کی راہ میں حائل مشکلات کا بھی برملا ذکر کیا۔ اس آخری نشست میں شہزاد آغا صوبائی وزیر تعلیم، کمشنر بلتستان ریجن کمال خان اور صدرنشین اکادمی ادبیات اسلام آباد ڈاکٹر نجیبہ عارف اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ ڈپٹی کمشنر سکردو میرے پہلو میں تشریف فرما تھے۔ ذیشان مہدی بلتستان کی ایک توانا آواز ہیں۔ انہوں نے بہت مثبت انداز میں ادبا و شعرا کے مسائل صاحبانِ اقتدار و اختیار کے گوش گزار کیے۔ چائے کے وقفے میں مجھے ڈاکٹر انجم کہہ رہے تھے کہ نجیب عالم صاحب جب بلتستان ریجن کے کمشنر تھے تو انہوں نے ’’بک ریویو ویک‘‘ متعارف کروایا تھا اور ہر محفل میں خود تشریف لاتے تھے۔ ڈاکٹر انجم کہتے ہیں کہ جب میری کتاب کی ریویو تھی۔ اس سے ایک دن پہلے کمشنر صاحب نے مجھے فون کرکے بتایا کہ وہ گلگت میں ہیں لیکن وہ رات کو ضرور آئیں گے اور اس تقریب میں شریک ہوں۔ واقعی دوسرے دن وہ تشریف لاچکے تھے۔ نجیب عالم صاحب کو میں بنفس نفیس نہیں جانتا ہوں لیکن ان کے اس ادبی ذوق کا سن کر ان پر فخر ضرور ہوا۔ اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہو طے۔ موجودہ کمشنر بلتستان ریجن کمال خان صاحب ایک نوجوان آفیسر ہیں اور ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ ادب کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ گذشتہ دنوں انہوں نے ایک بہت بڑا کام کیا ہے جس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جس ہال میں یہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی یہ بنیادی طور پر ڈویژنل کمپلیکس آڈیٹوریم کے نام سے کمشنر ہاؤس کے احاطے میں موجود ہے، انہوں نے اس کو بنات گل خان آفریدی کے نام منسوب کیا ہے، بنات گل بلتستان کے محسن رہے ہیں۔ کمشنر صاحب نے اپنے آفشنل پیچ پر اس کی تفصیل یوں دی ہے:
’’بلتستان کی تاریخ میں کچھ ایسے ادوار آتے ہیں جو اپنی روشنی اور تاثیر کے باعث صدیوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔ بنات گل خان صاحب 1958ء تا 1959ء ایڈشنل پولیٹیکل ایجنٹ تعینات رہے۔ اس کے بعد 1964ء سے 1968ء کا زمانہ، جب بنات گل خان آفریدی نے بطور پولیٹیکل ایجنٹ سکردو میں اپنی خدمات انجام دیں، جس کا شمار بلتستان کے روشن اور یادگار ادوار میں ہوتا ہے۔ اس وقت بلتستان پسماندگی کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا تھا، مگر بنات گل خان آفریدی کی عملی بصیرت اور خدمتِ خلق کا جذبہ علاقے کے لیے نئی صبح کا پیام ثابت ہوا۔ سکردو کے مین بازار کی بنیاد رکھی۔ جہاں لوگوں کو دکانوں کی تعمیر پر آمادہ کر کے ایک منظم اور دیدہ زیب بازار کی بنیاد ڈالی۔ جنگِ آزادی بلتستان کے شہدا کی یاد میں ’یادِ شہدا‘ کی تعمیر اُن کی حب الوطنی اور تاریخی شعور کا مظہر ہے، جبکہ اسکردو گلگت روڈ کی تعمیر میں اُن کی مساعی نے خطے کو پہلی بار ملکی دھڑکن سے جوڑ دیا۔ ان کے وژن کی جھلک اُس وقت بھی نظر آتی ہے جب انہوں نے ’سیٹلائٹ ٹاؤن‘ کی بنیاد رکھی، جہاں تعمیراتِ عامہ کے دفاتر قائم ہوئے اور بلتستان میں جدید انتظامی ڈھانچے کا آغاز ہوا۔ مگر ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے بلتستان کو محض جغرافیائی حدود سے نکال کر تاریخ کے اُفق پر نمایاں کیا۔ اپنی انگریزی تصنیف“Baltistan in History”کے ذریعے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دُنیا بھر میں بلتستان کے نام اور ماضی کو متعارف کرایا۔ ان کی انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ڈویژنل کانفرنس ہال کو بنات گل خان آڈیٹوریم کا نام دے کر اُن کی یاد کو امر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ بلتستان اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتا، بلکہ اُن کے کارہائے نمایاں کو نسلوں تک زندہ رکھتا ہے۔‘‘
بنات گل افریدی کی گراں قدر انگریزی تصنیف“Baltistan in History”کا اردو ترجمہ ہماری فاضل دوست ڈاکٹر عظمیٰ سلیم نے نہایت سلیقے، شستگی اور فصاحت کے ساتھ انجام دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش محض ایک ترجمہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثے کو نئی زبان میں زندہ کرنے کی کوشش ہے، جو قاری کو بلتستان کی تاریخ اور تہذیب سے قریب تر کر دیتی ہے۔ یہ علمی خدمت آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوگی اور ڈاکٹر عظمیٰ بجا طور پر نہ صرف داد و تحسین بلکہ مبارک باد کی بھی مستحق ہیں۔
یہ تذکرہ جملۂ وضاحت کے طور پر بیج میں آیا۔ بات ہو رہی تھی دو روزہ ادبی کانفرنس کی۔ اس اختتامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب شہزاد آغا صوبائی وزیرتعلیم نے ادبا و شعرا کو خراج تحسین پیش کیا اور یقین دلایا کہ وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے سب آفس کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیر تعلیم نے وعدہ کیا وہ گلگت بلتستان کے ادبیوں اور شاعروں کی شائع شدہ کتب کو تمام سرکاری لائبریوں میں پہنچانے میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
اس اختتامی نشست کے آخر میں صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بہت ہی پُرمغز تقریر کی۔ مقالوں کو سراہا اور اکادمی ادبیات کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کی گفتگو میں اکیسویں صدی کے مختلف تناظرات پر ایک نہایت خوبصورت نکتہ بھی شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا ’’امریکا کی اکیسویں صدی اسلام آباد کی اکیسویں صدی سے بالکل مختلف ہے، اور اسلام آباد کی اکیسویں صدی بھی یقیناً سکردو، خپلو اور گلگت کی اکیسویں صدی سے جدا ہوگی۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ وقت اور تاریخ کا مطلب صرف کیلنڈر کے اوراق پلٹنا نہیں بلکہ یہ انسانی تجربات، ثقافتی پس منظر اور سماجی حقیقتوں کے تناظر میں مختلف معانی اختیار کرتا ہے۔ یوں اکیسویں صدی امریکا میں ٹیکنالوجی اور معیشت کی علامت ہے، اسلام آباد میں بیوروکریسی اور سیاسی ترجیحات کی، جبکہ گلگت بلتستان کے دیہات میں یہ صدی کھیتی باڑی، زبان اور مقامی روایات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ گفتگو یوں محسوس ہوئی جیسے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں سے صدیوں کے فاصلے ایک ہی لمحے میں قاری کے سامنے کھل گئے ہوں۔
آخر میں بورڈ آف گورنرز کے معزز رکن جناب قاسم نسیم صاحب نے نہایت پُراثر اور دلنشین انداز میں کلماتِ تشکر پیش کیے اور تمام معزز مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ میرے اور قاسم نسیم صاحب کی رفاقت اُس زمانے سے وابستہ ہے جب وہ ”سیاچن“ اخبار کے ذریعے علمی و ادبی چراغ روشن کیا کرتے تھے۔ یہ اخبار اُن کی بے پناہ محنت، بیلوث جذبے اور شبانہ روز جدوجہد کا عکاس تھا۔ اس کے ہر شمارے میں ادب کے لیے ایک خصوصی گوشہ وقف ہوتا، جہاں نوجوان لکھاریوں کو اپنی تخلیقات کے ذریعے اُبھرتے ہوئے خوابوں کو لفظوں کا جامہ پہنانے کا موقع ملتا۔ قاسم نسیم صاحب کی یہی ادبی وابستگی اور صحافتی خدمات آج بھی اُن کی شخصیت کو ایک جداگانہ پہچان بخشتی ہیں۔
اپنے خطابِ تشکر میں انہوں نے نہایت خوبصورتی سے بلتستان دائرۂ مصنفین کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر کیا اور اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ انہی کاوشوں کے نتیجے میں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا پروگرام بلتستان کی دھرتی پر انعقاد پذیر ہوا۔ ان کے لہجے میں خلوص کی گرمی، الفاظ میں محبت کی خوشبو اور جملوں میں محنت و لگن کی ایک پوری تاریخ رقم تھی۔ یوں اُن کی تقریر محض شکریہ کا بیان نہ رہی بلکہ ایک جذباتی و فکری سفر کی آئینہ دار ثابت ہوئی۔۔۔ ایسا سفر جس میں خوابوں کی تعبیر، جدوجہد کی روشنی اور ادبی روایت کی خوشبو ایک ساتھ سمٹ آئی۔
گلگت بلتستان کی مختلف زبانوں پر پڑھے گئے مقالات اس بات کا ثبوت تھے کہ یہ خطہ صرف جغرافیائی حُسن ہی نہیں رکھتا بلکہ ادبی تنوع اور فکری رنگا رنگی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ زبانوں کا یہ سنگم ایسا تھا جیسے دریا کے مختلف چشمے مل کر ایک ہی دھارا بن جائیں۔
یہ سفر میرے لیے صرف ایک کانفرنس کی حاضری نہیں بلکہ دل و دماغ کی ایک نئی بیداری تھی۔ پہاڑوں، دریاؤں اور ادب کی اس سرزمین نے یہ سچ آشکار کیا کہ گلگت بلتستان محض ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی کتاب ہے، جس کے ہر ورق پر فطرت اور فن نے اپنی کہانی درج کر رکھی ہے۔ بہت کچھ لکھنے کو دل کرتا ہے لیکن کسی فارسی گو شاعر نے گویا میرے جذبات کی ترجمانی کی ہے؎
دامانِ نگہ تنگ و گُلِ حُسنِ تو بسیار
گلچینِ بہارِ تو ز داماں گلہ دارد
