The Voice of Chitral since 2004
Monday, 28 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تحریر سے تاثیر تک ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی

Chitral Times

تحریر سے تاثیر تک ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی

تحریر سے تاثیر تک ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی

تحریر سے تاثیر تک ۔ تحریر: عبدالکریم کریمی

۔

ہماری گزشتہ تحریر پر کئی قدردانوں نے اپنی محبت کا اظہار کیا، حوصلہ افزا الفاظ لکھے اور نہایت خوبصورت تبصرے کیے۔ لکھنے والے کے لیے یہ سب کلمات یقیناً باعثِ مسرت ہوتے ہیں، مگر ان تبصروں میں ایک تبصرہ ایسا تھا جو کچھ دیر کے لیے مجھے رکنے، سوچنے اور اپنے قلم کے مقصد پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر گیا۔

کراچی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سلمان شاہ صاحب نے لکھا:
’’فلسفے کے طالبِ علم کی حیثیت سے کئی بار افلاطون کی ’غار‘ پڑھنے کے باوجود اس کی معنویت اس طرح کبھی واضح نہ ہوئی۔ آپ کی اس مختصر مگر عمیق تحریر نے پہلی نظر میں ہی اس کے کئی پردے اٹھا دیے اور قدیم فلسفے کو ہماری اپنی سماجی حقیقتوں سے جوڑ دیا۔ سلامت رہیئے سر!‘‘

یہ چند جملے میرے لیے محض ایک خوبصورت تبصرہ نہیں تھے؛ یہ ایک لکھنے والے کے لیے زادِ راہ تھے۔

ہم لکھنے والے عموماً لفظوں کے ساتھ ایک خاموش سفر پر نکلتے ہیں۔ کبھی کسی پیچیدہ خیال کو آسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی کسی بھولی ہوئی حقیقت پر گرد ہٹاتے ہیں، کبھی کسی سوال کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں اور کبھی صدیوں پرانے کسی فلسفی کے خیال کو اپنے عہد کی زندگی سے جوڑنے کی جسارت کرتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری یہ چھوٹی سی کاوش کہاں تک پہنچے گی، کس ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا کرے گی، کس طالب علم کے لیے کسی مشکل موضوع کو قدرے قابلِ فہم بنائے گی یا کس شخص کو اپنے اردگرد کی دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دے گی۔

شاید ایک ادیب اور لکھاری کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ وہ صرف الفاظ نہ لکھے، بلکہ فکر کے دروازے کھولے۔

تحریر کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اسے کتنے لوگوں نے پسند کیا، کتنے تبصرے آئے یا کتنی داد ملی۔ اصل کامیابی تو اس لمحے میں ہے جب کوئی قاری تحریر ختم کرنے کے بعد چند لمحے رک جائے، سوچے، اپنے کسی سابقہ تصور پر دوبارہ غور کرے یا کسی ایسے نکتے کو دیکھ لے جو اس سے پہلے اس کی نگاہ سے اوجھل تھا۔

ایک لکھنے والے کے لیے اس سے بڑھ کر صلہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے چند الفاظ کسی کے لیے فہم کا وسیلہ بن جائیں؟

ہمیں ستائش کی طلب سے زیادہ اس احساس کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہماری کوشش بےثمر نہیں گئی۔ اگر ہماری تحریر کسی ایک طالب علم کے لیے کسی مشکل فلسفیانہ تصور کو سمجھنے میں مدد دے دے، کسی نوجوان کے اندر مطالعے کی خواہش پیدا کر دے، کسی قاری کو سوال کرنے پر آمادہ کر دے یا کسی انسان کو اپنے معاشرے اور اپنے باطن کو نئے زاویے سے دیکھنے کی تحریک دے دے تو شاید یہی اس تحریر کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

باقی صلہ و ستائش تو وقت کی سطح پر بننے والے وہ دائرے ہیں جو کچھ دیر بعد خود بخود مٹ جاتے ہیں۔

لفظ اگر کسی دل میں اتر جائیں، کسی ذہن میں چراغ روشن کر دیں اور کسی فکر کو ایک قدم آگے بڑھا دیں تو لکھنے والا اپنے حصے کا کام کر چکا۔

اسی لیے بعض اوقات ایک سنجیدہ قاری کا مختصر سا پیغام بھی کئی بڑے اعزازات پر بھاری محسوس ہوتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم جو کچھ لکھ رہے ہیں، وہ محض کاغذ یا اسکرین پر لفظوں کی ترتیب نہیں؛ شاید کہیں کسی ذہن میں ایک نئی کھڑکی کھل رہی ہے۔

سلمان شاہ صاحب! آپ کے یہ الفاظ میرے لیے ستائش سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ احساس دلاتے ہیں کہ فکر کی یہ مختصر سی شمع شاید کسی ایک ذہن تک پہنچی ہے۔

شاید لکھنے والے کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنا لکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں لکھتا ہے۔ اگر قلم کا مقصد صرف داد، شہرت، تعدادِ پسندیدگی اور تحسین کے ہجوم تک محدود ہو جائے تو لفظ اپنی روح کھو دیتے ہیں۔ مگر جب لکھنے والا علم کو آسان کرنے، فکر کو بیدار کرنے، سوال کو جنم دینے اور انسان کو اپنے آپ اور اپنے معاشرے کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دینے کے لیے لکھتا ہے تو اس کا ایک چھوٹا سا جملہ بھی ایک طویل سفر کا آغاز بن سکتا ہے۔

ہر لکھنے والے کو شاید یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری تحریر کا اصل مخاطب ’’مجمع‘‘ نہیں، ایک انسان بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے سینکڑوں لوگ خاموشی سے گزر جائیں، مگر ایک قاری کے ذہن میں کوئی الجھن سلجھ جائے، کسی طالب علم کو کسی مشکل تصور کی گرہ کھل جائے، کسی نوجوان میں مطالعے کی طلب پیدا ہو جائے یا کسی تھکے ہوئے دل کو ایک نئی امید مل جائے۔۔۔ تو سمجھ لیجیے کہ لفظ اپنا حق ادا کر گئے۔

اس لیے لکھتے رہیے، مگر صلے کے لیے نہیں؛ اثر کے لیے۔ علم بانٹیے، مگر برتری جتانے کے لیے نہیں؛ چراغ سے چراغ جلانے کے لیے۔ اختلاف لکھیے، مگر تحقیر کے ساتھ نہیں؛ مکالمے کی شائستگی کے ساتھ۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنے قلم کو اپنی ذات کی نمائش نہیں بلکہ اپنے عہد کی فکری خدمت کا وسیلہ بنائیے۔ کیونکہ وقت بہت سے نام بھلا دیتا ہے، بہت سی تحسینیں ماند پڑ جاتی ہیں، بہت سے اعزاز الماریوں میں خاموش ہو جاتے ہیں؛ مگر ایک درست خیال جو کسی ایک ذہن میں جگہ بنا لے، وہ شاید لکھنے والے کی عمر سے بھی زیادہ زندہ رہتا ہے۔

اور شاید یہی ایک ادیب کے قلم کی سب سے خاموش، سب سے باوقار اور سب سے دیرپا کامیابی ہے۔ بس، لکھنے والے کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟